صحيح البخاري
كتاب الوصايا— کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان
بَابُ الْوَصَايَا: باب: اس بارے میں وصیتیں ضروری ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، خَتَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخِي جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَ : " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا ، وَلَا دِينَارًا ، وَلَا عَبْدًا ، وَلَا أَمَةً ، وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ ، وَسِلَاحَهُ ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً " .´ہم سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ ابن ابی بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ جعفی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا` اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسبتی بھائی عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے جو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ( ام المؤمنین ) کے بھائی ہیں ‘ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے بعد سوائے اپنے سفید خچر ‘ اپنے ہتھیار اور اپنی زمین کے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقف کر گئے تھے نہ کوئی درہم چھوڑا تھا نہ دینار نہ غلام نہ باندی اور نہ کوئی چیز ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
وہ زمین جسے رسول اللہ ﷺ نے بحالت صحت وقف کر دیا تھا وہ خیبر میں واقع تھی جیسا کہ صحیح بخاری ہی میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحیح البخاري، الجھاد، حدیث: 2912)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اس کی پیداوار مسافروں کے لیے وقف کر دی تھی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4461) (2)
وقف کا اثر بھی وصیت کی طرح مرنے کے بعد جاری رہتا ہے، اس لیے وقف کو وصیت کے تحت ذکر کیا ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کا کوئی ترکہ ایسا نہیں تھا جو قابل وصیت ہو، چنانچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے وفات کے وقت نہ کوئی درہم و دینار، نہ کوئی اونٹ بکری چھوڑی اور نہ آپ نے کسی قسم کی (مالی)
وصیت ہی فرمائی۔
(صحیح مسلم، الوصیة، حدیث: 4229(1635)
رسول اللہ ﷺ کا وفات کے وقت کوئی مال نہ تھا اور نہ وصیت ہی ہوئی، البتہ کتاب اللہ کی اتباع کے متعلق ضرور وصیت فرمائی جیسا کہ آئندہ حدیث میں اس کا ذکر ہو گا۔
کیونکہ ازواج مطہرات کا خرچہ اسی زمین سے دیا جاتا تھا۔
جس کو آپ صدقہ فرماگئے تھے۔
مزید تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
1۔
زمین سے مراد بنو نضیر فدک اور خیبر کی زمین ہے جس کی پیداوار سے ازواج مطہرات ؓ کا خرچ نکال کر باقی مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات میں صرف کردیا جاتا۔
2۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد ازواج مطہرات ؓ کا خرچ رسول اللہ ﷺ کی چھوڑی ہوئی زمین سے پورا کیا جاتا تھا جسے آپ نے صدقہ کردیا تھا۔
ظاہر ہے کہ اسلام میں ایسا عمل ہرگز جائز نہیں۔
رسول کریمﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کے ہتھیار وغیرہ سب باقی رکھے گئے۔
اسی سے ترجمۃ الباب ثابت ہوا امام بخاریؒ نے یہ باب لا کر اشارہ کیا کہ شریعت اسلامی میں یہ کام منع ہے کیونکہ اس میں عمل کا ضائع کرنا ہے۔
1۔
اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے دور جاہلیت کے ایک رواج کی تردید مقصود ہے۔
ان کا دستور تھا کہ جب کسی قبیلے کا سردار یا بہادر آدمی مر جاتا۔
تو اس کے ہتھیار توڑدیے جاتے۔
یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ اب ان ہتھیاروں کو حقیقی معنوں میں کوئی استعمال کرنے والا نہیں رہا۔
اسلام نے اس عمل کو باطل قراردیا۔
کیونکہ اس میں ضیاع کا پہلو نمایاں ہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے ہتھیاروں کو توڑا نہیں گیا بلکہ انھیں باقی رکھا گیا تاکہ انھیں بوقت ضرورت استعمال کیا جاسکے۔
بہر حال اسلام نے اس قسم کے آثار جاہلیت کو برقرار نہیں رکھا بلکہ انھیں بالکل ہی ختم کردیا ہے۔
آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی یہ خچر زندہ رہا تھا۔
زمین کیا تھی فدک کا آدھا حصہ اور وادی القریٰ کا تہائی حصہ اور خیبر کی خمس میں سے آپ کا حصہ اور بنی نفیر میں سے جو آپؐ نے چن لی تھی۔
ان ہی چیزوں کو حضرت فاطمہ زہراء ؓنے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ان کی خلافت کے زمانہ میں مانگا۔
حضرت صدیق اکبر ؓنے یہ حدیث سنائی کہ آنحضرتﷺ فرما چکے ہیں ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں ہمارے بعد وہ خیرات ہے۔
آپؐ کا حقیقی ورثہ علوم کتاب و سنت کا لافانی خزانہ ہے جس کے حاصل کرنے کی عام اجازت ہی نہیں بلکہ تاکید شدید ہے۔
اسی لئے علمائے اسلام کو مجازی طور پر آپؐ کے خلفاء سے موسوم کیا گیا ہے جن کے لئے آپؐ نے دعائیں بھی پیش فرمائی ہیں۔
اللہ پاک ہم سب اس مقدس کتاب بخاری شریف پڑھنے پڑھانے والوں کا شمار اسی جماعت میں کر لے۔
(آمین)
1۔
حضرات انبیاء ؑ کے ترکے میں اثبات جاری نہیں ہوتی بلکہ وہ امت کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓنے فدک کی زمین کو وارثت بنانے سے معذرت کر لی تھی۔
2۔
واضح رہے کہ حضرت عمرو بن حارث ؓحضرت جویریہ ؓکے بھائی ہیں۔
واللہ أعلم۔
راوی حدیث حضرت عمرو بن حارث ؓ ام المومنین حضرت جویریہ ؓ کے بھائی ہیں۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ کا مقصودیہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خلافت وغیرہ کے متعلق کسی کو کوئی وصیت نہیں کی، اگر وصیت کی ہے تو اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کی ہے یا اپنے چھوڑے ہوئے مال کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ میرے مرنے کے بعد میرا سارا مال صدقہ ہو گا۔
اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔
اس حدیث کی تشریح ہم کتاب الوصایا کے آغاز میں کر آئے ہیں۔
عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے) اور انتقال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر سوار ہوا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار کے اور زمین کے جسے اللہ کے راستہ میں دے دیا تھا کچھ نہ چھوڑا تھا نہ دینار نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی، (مصنف) کہتے ہیں (میرے استاذ) قتیبہ نے دوسری بار یہ بتایا کہ زمین کو صدقہ کر دیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3624]
(2) اگر وقف کا کوئی ناظم مقرر نہ کیا گیا ہو تو وہ بیت المال میں داخل ہوگا اور حاکم وقت اس کا ناظم ہوگا۔
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ، ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی درہم میراث میں چھوڑا اور نہ دینار اور نہ کوئی غلام اور نہ لونڈی اور نہ کوئی اور چیز بس ایک سفید خچر، اپنا اسلحہ جنگ اور کچھ تھوڑی سی زمین جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کر دیا تھا۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1233»
«أخرجه البخاري، الوصايا، باب الوصايا، حديث:2739، 4461.»
تشریح: اس حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے بے رغبتی ثابت ہوتی ہے کیونکہ تریسٹھ کے لگ بھگ لونڈیاں اور غلام آپ کے قبضے میں آئے۔
آپ نے ان سب کو آزاد کر دیا اور اپنے پیچھے کوئی میراث نہیں چھوڑی بلکہ آپ نے فرمایا: ’’انبیاء علیہم السلام درہم و دینار میراث میں نہیں چھوڑتے‘ جو مالی ترکہ چھوڑتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے۔
‘‘ (مسند أحمد:۲ /۴۶۳‘ وصحیح البخاري‘ الوصایا‘ حدیث:۲۷۷۶‘ و ۳۰۹۶)
راویٔ حدیث:
«حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ» عمرو بن حارث بن ابی ضرار بن حبیب خزاعی مصطلقی‘ یعنی قبیلہ بنوخزاعہ کی شاخ بنو مصطلق سے تھے۔
شرف صحابیت سے مشرف تھے۔
ان سے یہی ایک حدیث مروی ہے۔