صحيح البخاري
كتاب الصلح— کتاب: صلح کے مسائل کا بیان
بَابُ الصُّلْحِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ: باب: مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ مُعْتَمِرًا ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، فَنَحَرَ هَدْيَهُ ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، وَقَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ ، وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا عَلَيْهِمْ إِلَّا سُيُوفًا ، وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا ، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ ، فَلَمَّا أَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ ، فَخَرَجَ " .´ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا ، کہا ہم سے شریح بن نعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کا احرام باندھ کر نکلے ، تو کفار قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ جانے سے روک دیا ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور حدیبیہ میں ذبح کر دیا اور سر بھی وہیں منڈوا لیا اور کفار مکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال عمرہ کر سکیں گے ۔ تلواروں کے سوا اور کوئی ہتھیار ساتھ نہ لائیں گے ۔ ( اور وہ بھی نیام میں ہوں گی ) اور قریش جتنے دن چاہیں گے اس سے زیادہ مکہ میں نہ ٹھہر سکیں گے ۔ ( یعنی تین دن ) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عمرہ کیا اور شرائط کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے ، پھر جب تین دن گزر چکے تو قریش نے مکے سے چلے جانے کے لیے کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس چلے آئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
پس مصلحتاً دب کر صلح کرلینا بھی بعض مواقع پر ضروری ہوجاتا ہے۔
اسلام سراسر صلح کا حامی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ جو شخص فساد کو مٹانے کے لیے اپنا حق چھوڑ کر بھی صلح کرلے، اللہ اس سے بہت ہی بہتر اجر عطا کرتا ہے۔
حضرت حسن ؓ اور حضرت امیر معاوریہ ؓ کی صلح بھی اسی قسم کی تھی۔
(1)
معلوم ہوا کہ دیت دے کر صلح کرنا جائز ہے۔
ربیع ؓ حضرت انس بن مالک ؓ کی پھوپھی تھیں اور انس بن نضر ؓ ان کے چچا ہیں۔
(2)
حضرت انس بن نضر نے شرعی حکم کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے خیال کیا کہ شاید دیت او قصاص میں اختیار ہے، ان میں جو بھی ادا کر دیا جائے جائز ہے۔
انہیں قصاص کی تعیین کا علم نہیں تھا جبکہ قرآن مجید میں ہے: (وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ)
’’دانت کے بدلے دانت (توڑا جائے۔
‘‘) (المائدة: 45: 5)
اس کا ایک خوبصورت جواب یہ بھی ہے کہ حضرت انس بن نضر ؓ نے لا تكسر کے الفاظ سے حکم الٰہی کو رَد نہیں کیا تھا بلکہ اللہ کے فضل پر پختہ یقین کرتے ہوئے اس کے عدم وقوع کی خبر دی تھی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتماد و یقین کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔
اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اس بات کی گواہی دی کہ بعض مخلص بندے ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ ان کی کہی ہوئی بات کو پورا کرتا ہے۔
(3)
امام بخاری ؒ نے فزاری کی روایت سے تطبیق کی صورت ذکر کی ہے کہ ان لوگوں نے قصاص معاف کر کے دیت قبول کر لی، مطلق معافی مراد نہیں ہے۔
امام بخاری ؒ نے فزاری کی روایت کو خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4611)
کاش! آج بھی مسلمان اپنے وعدوں کی ایسی ہی پابندی کریں تو دنیا میں ان کی قدر و منزلت بہت بڑھ سکتی ہے۔
1۔
5ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے مقام حدیبیہ میں ان شرائط پر کفار مکہ سے صلح کر لی۔
کہ اس سال مسلمان عمرہ کیے بغیر ہی واپس چلے جائیں اور وہ آئندہ سال عمرہ کریں اس کے علاوہ جب مکہ مکرمہ میں آئیں تو تلواروں کے علاوہ کوئی دوسرا ہتھیار ہمراہ نہ لائیں اور تلواریں بھی نیاموں میں بند ہوں اور مسلمان مکہ مکرمہ میں تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں۔
2۔
رسول اللہ ﷺ نے روکے جانے کی وجہ سے وہیں احرام کھول دیا اور آئندہ سال 7ہجری میں جب آپ ﷺ غزوہ خیبر اور دیگر چھوٹے چھوٹے غزوات سے فارغ ہوئے تو ماہ ذی قعدہ میں عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور عمرہ مکمل کیا، پھر تین دن ٹھہرنے کے بعد واپس مدینے میں چلے آئے۔
وعدہ پورا کرنے کا تقاضا بھی یہی تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے مکمل طور پر ادا فرمایا، 3۔
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں کفار قریش کی مرضی کے خلاف نہیں ٹھہریں گے۔
یہ مجمل الفاظ ہیں ایک روایت میں وضاحت ہے کہ تین دن سے زیادہ نہیں ٹھہریں گے۔
چنانچہ تیسرے دن انھوں نے کود حضرت علی ؓ سے کہا کہ آج آخری دن ہے آپ اپنے آپ صاحب سے کہیں کہ وہ مکہ سے چلے جائیں رسول اللہ ﷺ سے انھوں نے کہا تو آپ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ چلے آئے۔
(صحیح مسلم، الجهاد، حدیث: 4631۔
(1783)
فتح الباري: 636/7)
عبدالملک بن مروان کے دور حکومت میں عراق اور حجاز پر حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کا قبضہ تھا عبدالملک نے اس علاقے کو واگزارکرانے کے لیے حجاج بن یوسف کو بھیجا۔
اس نے مکہ مکرمہ کے ارد گرد ڈیرے ڈال دیے۔
ان حالات میں حج و عمرہ ممکن نہیں تھا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے ان دنوں عمرہ کرنے کا پرو گرام بنایا تو انھیں روکا گیا کہ فتنے کے دنوں میں ایسا کرنا درست نہیں ہے، آپ مکہ مکرمہ نہ جائیں تو آپ نے فرمایا: اگر ہم بیت اللہ تک پہنچ گئے تو عمرے کے افعال ادا کریں گے۔
بصورت دیگرجہاں ہمیں روک دیا گیا وہیں اپنا احرام کھول دیں گے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے مقام حدیبیہ پر عمرے کا احرام کھول دیا تھا۔
ان احادیث میں اسی فتنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
حضرت اسلم سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے غلام تھے۔
انھوں نےحضرت عمر کے متعلق فرمایا: میں نے ان کی مدت خلافت کے دوران میں کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ سخی اور ان تھک کوشش کرنے والا ہو۔
اس شہادت اور گواہی سے حضرت عمر ؓ کی منقبت ثابت ہوتی ہے کہ آپ اسلام کے بہت بڑے ستون تھے۔
۔
۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
۔
۔
وہ کہتے ہیں کہ احصار کی صورت میں جہاں احرام کھولے وہیں قربانی کرلے خواہ حل میں ہو یا حرم میں، اور امام ابوحنیفہ ؒ کہتے ہیں کہ قربانی حرم میں بھیج دی جائے اور جب وہاں ذبح ہولے تب احرام کھولے فقال الجمهور یذبح المحصر الهدي حیث یحل سواءکان في الحل أو في الحرم الخ (فتح)
یعنی جسے حج سے روک دیا جائے وہ جہاں احرام کھولے حل میں ہو یا حرم میں اسی جگہ قربانی کر ڈالے۔
(1)
امام مالک ؒ کا موقف ہے کہ محصر پر قربانی کرنا ضروری نہیں جبکہ مذکورہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے کیونکہ اس میں حکم اور سببِ حکم بیان ہوا ہے۔
سبب احصار ہے اور حکم سبب قربانی کرنا ہے۔
اس حدیث کے ظاہری الفاظ کا یہی تقاضا ہے کہ اس حکم کو سبب سے وابستہ کیا جائے۔
(فتح الباري: 14/4)
واللہ أعلم۔
(2)
اس حدیث سے بھی جمہور علماء کے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ احصار کی صورت میں جہاں احرام کھولے وہیں قربانی ذبح کر دے، خواہ وہ مقام حل میں ہو یا حرم کا حصہ، جبکہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ قربانی کو حرم میں بھیج دیا جائے، جب وہاں ذبح ہو جائے تو احرام کھولا جائے۔
حدیث سے اس موقف کی تائید نہیں ہوتی۔
واللہ أعلم
(1)
امام بخاری ؒ نے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی حدیث دو طرق سے پیش کی ہے۔
دونوں میں وضاحت ہے کہ قارن کے لیے حج اور عمرہ دونوں کا ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے۔
ایک روایت میں مزید صراحت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا اسے ان دونوں سے ایک طواف اور ایک سعی ہی کافی ہو جائے گی حتی کہ وہ ان دونوں سے بیک وقت حلال ہو جائے۔
‘‘ (جامع الترمذي، الحج، حدیث: 948) (2)
حج قران کرنے والا اگر ایک طواف اور ایک سعی کرتا ہے تو صحیح احادیث کے اعتبار سے ایسا کرنا صحیح ہے اور جن روایات میں اس موقف کے خلاف بیان ہوا ہے وہ صحیح احادیث کے مقابلے میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتیں۔
اس سلسلے میں فتح الباری: (3/625)
کا مطالعہ مفید رہے گا۔
(وحیدی)
اور ایسی حالت میں مثال سامنے ہے آج بھی ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں پس شارع ؑ کی سنت مستقبل میں آنے والی امت مسلمہ کے لیے اسوہ حسنہ ہے۔
احصار کی تفصیل (پیچھے بھی گزر چکی ہے)
حضرت محمد بن شہاب زہری زہرہ بن کلاب کی طرف منسوب ہیں، کنیت ابوبکرہے، ان کا نام محمد ہے، عبداللہ بن شہاب کے بیٹے ہیں۔
یہ بڑے فقیہ اور محدث ہوئے ہیں اور تابعین سے بڑے جلیل القدر تابعی ہیں، مدینہ کے زبردست فقیہ اور عالم ہیں، علوم شریعت کے مختلف فنون میں ان کی طرف رجو ع کیا جاتا تھا۔
ان سے ایک بڑی جماعت روایت کرتی ہے جن میں سے قتادہ اور امام مالک بن انس ہیں، حضرت عمر بن عبدالعزیز ؑ فرماتے ہیں کہ میں ان سے زیادہ عالم جو اس زمانہ میں گزرا ہے ان کے سوا اور کسی کو نہیں پاتا۔
مکحول سے دریافت کیا گیا کہ ان علماء میں سے جن کو آپ نے دیکھا ہے کون زیادہ عالم ہے فرمایا کہ ابن شہاب ہیں، پھر دریافت کیا گیا کہ ان کے بعد کون ہے، فرمایا کہ ابن شہاب ہیں، پھر کہا گیا کہ ابن شہاب کے بعد، فرمایا کہ ابن شہاب ہی ہیں۔
124ھ میں ماہ رمضان المبارک میں وفات پائی، رحمه اللہ رحمة واسعة (امین)
(1)
حج میں رکاوٹ کا مطلب یہ ہے کہ وقوف عرفہ نہ ہو سکتا ہو جو حج کا رکن اعظم ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ نے حج کی رکاوٹ کو عمرے کی رکاوٹ پر قیاس کیا ہے۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ کے نزدیک حج یا عمرے کا مشروط احرام باندھنا درست نہیں، حالانکہ دیگر حضرات نے اسے جائز رکھا ہے، چنانچہ امام ترمذی ؒ نے روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ مشروط احرام کا انکار کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: کیا تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی سنت کافی نہیں؟ (جامع الترمذي، الحج، حدیث: 942)
لیکن امام بخاری ؒ نے اس حصے کو روایت سے حذف کر دیا ہے۔
(2)
امام بیہقی ؒ کہتے ہیں کہ اگر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو ضباعہ بنت زبیر کی حدیث معلوم ہوتی تو مشروط احرام کا انکار نہ کرتے۔
حضرت ضباعہ کی حدیث یہ ہے: ضباعہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی: اللہ کے رسول! میرا حج کرنے کا ارادہ ہے لیکن میں بیمار ہوں، ایسی صورت میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’حج کرو اور اللہ سے شرط کر لو: اے اللہ! میں اسی جگہ احرام کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک دے گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2902(1207)
امام بخاری ؒ نے اس روایت کو کتاب النکاح میں بیان کیا ہے، جس سے متعلق مکمل بحث آئندہ آئے گی۔
امام ابن حزم ؒ نے اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
(فتح الباري: 13/4)
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانا ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے: کیا تمہارے لیے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے کہ آپ نے (کبھی) شرط نہیں لگائی۔ اگر تم میں سے کسی کو کوئی روکنے والی چیز روک دے تو اگر ممکن ہو سکے تو بیت اللہ کا طواف کرے، اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے، پھر سر منڈوائے یا کتروائے پھر احرام کھول دے اور اس پر آئیندہ سال کا حج ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2771]
سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانا پسند نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت کافی نہیں؟ اگر تم میں سے کوئی حج سے روک دیا گیا ہو تو (اگر ممکن ہو تو) کعبے کا طواف، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے، پھر ہر چیز سے حلال ہو جائے، یہاں تک کہ آنے والے سال میں حج کرے اور ہدی دے، اور اگر ہدی میسر نہ ہو تو روزہ رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2770]
(2) ”بیت اللہ کا طواف کرے“ بشرطیکہ وہ وہاں تک پہنچ سکے، حضرت ضباعہ والی روایت میں تو عجز کی صورت ہے، ظاہر ہے ایسی صورت میں تو جہاں عجز طاری ہو وہیں حلال ہونا (احرام کھولنا) پڑے گا، البتہ اگر وہ فرض حج کا احرام تھا تو آئندہ سال دوبارہ حج کرنا ہوگا، اگر وہ طاقت پائے ورنہ اللہ تعالیٰ عذر قبول کرنے والا ہے۔ رسول اللہﷺ عمرہ حدیبیہ میں راستے ہی میں حلال ہوگئے تھے۔ اور کہیں ذکر نہیں کہ آپ نے ان صحابہ کو قضا کا حکم دیا ہو۔
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قربانی حجامت کرانے سے پہلے کی اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 632]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ مسور کے ”میم“ کے نیچے کسرہ ”سین“ ساکن اور ”واو“ پر فتحہ ہے۔ مخرمہ میں ”میم“ پر فتحہ ”خا“ ساکن اور ”را“ پر فتحہ ہے۔ زہری قرشی ہیں۔ صاحب فضل لوگوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مکہ منتقل ہو گئے۔ یزید بن معاویہ نے جب 64 ہجری کے آغاز میں مکے کا محاصرہ کیا تو اس وقت نماز پڑھتے ہوئے انہیں منجنیق کا پتھر آ کر لگا اور وہ وفات پا گئے۔
پہلے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ پھر انہوں نے خیال کیا کہ صرف عمرہ کرنے سے حج اور عمرہ دونوں یعنی قرآن کرنا بہتر ہے تو حج کی بھی نیت باندھ لی اور پکار کر لوگوں سے اس لیے کہہ دیا کہ لو گ بھی ان کی پیروی کریں۔
بیداء مکہ اور مدینہ کے درمیان ذوالحلیفہ سے آگے ایک مقام ہے۔ قدید بھی جحفہ کے نزدیک ایک جگہ کا نام ہے۔