صحيح البخاري
كتاب الصلح— کتاب: صلح کے مسائل کا بیان
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَنْ يَصَّالَحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} : باب: اللہ کا یہ فرمان (سورۃ نساء میں) اگر میاں بیوی صلح کر لیں تو صلح ہی بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128 ، قَالَتْ : " هُوَ الرَّجُلُ يَرَى مِنَ امْرَأَتِهِ مَا لَا يُعْجِبُهُ كِبَرًا أَوْ غَيْرَهُ فَيُرِيدُ فِرَاقَهَا ، فَتَقُولُ : أَمْسِكْنِي ، وَاقْسِمْ لِي مَا شِئْتَ ، قَالَتْ : فَلَا بَأْسَ إِذَا تَرَاضَيَا " .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ہشام بن عروہ سے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے` ( اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں فرمایا ) «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا» ” اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے بے توجہی دیکھے ۔“ تو اس سے مراد ایسا شوہر ہے جو اپنی بیوی میں ایسی چیزیں پائے جو اسے پسند نہ ہوں ، عمر کی زیادتی وغیرہ اور اس لیے اسے اپنے سے جدا کرنا چاہتا ہو اور عورت کہے کہ مجھے جدا نہ کرو ( نفقہ وغیرہ ) جس طرح تم چاہو دیتے رہنا ، تو انہوں نے فرمایا کہ اگر دونوں اس پر راضی ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کیوں کہ عورت نے اپنی رضا مندی سے اپنا حق ساقط کردیا، جیسا کہ حضرت سودہ ؓ نے اپنی رضا سے اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کو دے دی تھی اور آنحضرت ﷺ ان کی باری کے دن حضرت عائشہ ؓ کے یہاں رہا کرتے تھے۔
میاں بیوی کا باہمی طور پر صلح صفائی سے رہنا اسلام میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ صلح ہی میں خیر و برکت ہے اگرچہ اپنے کسی حق کو ختم ہی کرنا پڑے۔
درج بالا صورت حال کے پیش نظر اگر مرد طے شدہ قرار داد کے مطابق اس کی باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس رہے یا اس کے خرچے میں کچھ کمی کر دے تو گناہ گار نہیں ہو گا کیونکہ عورت نے اپنی رضا مندی سے اپنا حق ختم کیا ہے۔
میاں بیوی کا صلح و صفائی سے رہنا اسلام میں بہت اہمیت رکھتا ہے جیسا کہ حضرت سودہ ؓ نے اپنی باری سیدہ عائشہ ؓ کو ہبہ کر دی تھی۔
واللہ أعلم