حدیث نمبر: 2693
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ أَهْلَ قُبَاءٍ اقْتَتَلُوا حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ بَيْنَهُمْ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی اور اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` قباء کے لوگوں نے آپس میں جھگڑا کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک نے دوسرے پر پتھر پھینکے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” چلو ہم ان میں صلح کرائیں گے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصلح / حدیث: 2693
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2693. حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اہل قباء ایک مرتبہ لڑ پڑے یہاں تک انھوں نے ایک دوسرے کو پتھر مارے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: "ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم ان کی آپس میں صلح کرادیں۔ "[صحيح بخاري، حديث نمبر:2693]
حدیث حاشیہ: گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کے لیے خود پیش قدمی فرمائی، یہی باب کا مقصد ہے۔
باہمی جھگڑے کا ہونا ہر وقت ممکن ہے، مگر اسلام کا تقاضا بلکہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ حسن تدبیر سے ایسے جھگڑوں کو ختم کرکے باہمی اتفاق کرادیا جائے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2693 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2693. حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اہل قباء ایک مرتبہ لڑ پڑے یہاں تک انھوں نے ایک دوسرے کو پتھر مارے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: "ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم ان کی آپس میں صلح کرادیں۔ "[صحيح بخاري، حديث نمبر:2693]
حدیث حاشیہ:
(1)
سنگین اختلافات کے وقت قابل اعتبار اہل علم اور اثرورسوخ کی حامل شخصیات کو چاہیے کہ وہ صلح میں اپنا کردار ادا کریں اور اس بات کا انتظار نہ کریں کہ کوئی انہیں صلح کروانے کی دعوت دے تو پھر وہ جائیں گے۔
اگرچہ امام اور حاکم وقت کا کام مناسب کاروائی کرنا اور سزا وغیرہ دینا ہے لیکن اگر وہ فیصلہ کرنے کے بجائے فریقین میں صلح کرا دے تو اس کا یہ اقدام بہتر ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ نتیجے تک پہنچنے میں آسانی ہو اور صلح کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2693 سے ماخوذ ہے۔