صحيح البخاري
كتاب الشهادات— کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان
بَابُ شَهَادَةِ النِّسَاءِ: باب: عورتوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2658
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدٌ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ ، قُلْنَ : بَلَى ، قَالَ : فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا " .مولانا داود راز
´ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھے زید نے خبر دی ، انہیں عیاض بن عبداللہ نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے آدھے کے برابر نہیں ہے ؟ “ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہی تو ان کی عقل کا نقصان ہے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
2658. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے نصف کی مانند نہیں ہے؟‘‘ عورتوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ’’یہی تو ان کی عقل کاناقص ہونا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2658]
حدیث حاشیہ: جب تواللہ تعالیٰ نے دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر قراردیا۔
تمام حکماءکا اس پر اتفاق ہے کہ عورت کی خلقت بہ نسبت مرد کے ضعیف ہے۔
اس کے قویٰ دماغیہ بھی جسمانی قویٰ کے طرح مرد سے کمزور ہیں۔
اب اگر شاذونادر کوئی عورت ایسی نکل آئی کہ جس کی جسمانی یا دماغی طاقت مردوں سے زیادہ ہو تو اس سے اکثری فطری قاعدے میں کوئی خلل نہیں آسکتا۔
یہ صحیح ہے کہ تعلیم سے مرد اور عورت کے قویٰ دماغی میں اس طرح ریاضت اور کسرت سے قوائے جسمانی میں ترقی ہوسکتی ہے مگر کسی حال میں عورت کی صنف کی فضیلت مرد کے صنف پر ثابت نہیں ہوئی۔
اور جن لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ تعلیم اور ریاضت سے عورتیں مردوں پر فضیلت حاصل کرسکتی ہیں۔
یہ ان کی غلطی ہے۔
اس لیے کہ بحث نوع ذکور اور نوع نسواں میں ہے نہ کسی خاص شخص مذکر یا مؤنث میں۔
قسطلانی ؒنے کہا کہ رمضان کے چاند کی روایت میں ایک شخص کی شہادت کافی ہے اور اموال کے دعاوی میں ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ ہوسکتا ہے اسی طرح اموال اور حقوق میں ایک مرد اوردو عورتوں کی شہادت پر بھی اور حدود، نکاح اور قصاص میں عورتوں کی شہادت پر جائز نہیں ہے۔
(وحیدی)
حضرت امام شافعی ؒ نے اپنی محترمہ والدہ کا واقعہ بیان کیا کہ وہ مکہ شریف کی ایک عدالت میں ایک عورت کے ساتھ پیش ہوئیں۔
تو حاکم نے امتحان کے طور پر ان کو جدا جدا کرنا چاہا۔
فوراً انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے ﴿أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى﴾ (البقرة: 282)
ان دو گواہ عورتوں میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلادے اور یہ جدائی کی صورت میں ناممکن ہے۔
حاکم نے آپ کے استدلال کو تسلیم کیا۔
تمام حکماءکا اس پر اتفاق ہے کہ عورت کی خلقت بہ نسبت مرد کے ضعیف ہے۔
اس کے قویٰ دماغیہ بھی جسمانی قویٰ کے طرح مرد سے کمزور ہیں۔
اب اگر شاذونادر کوئی عورت ایسی نکل آئی کہ جس کی جسمانی یا دماغی طاقت مردوں سے زیادہ ہو تو اس سے اکثری فطری قاعدے میں کوئی خلل نہیں آسکتا۔
یہ صحیح ہے کہ تعلیم سے مرد اور عورت کے قویٰ دماغی میں اس طرح ریاضت اور کسرت سے قوائے جسمانی میں ترقی ہوسکتی ہے مگر کسی حال میں عورت کی صنف کی فضیلت مرد کے صنف پر ثابت نہیں ہوئی۔
اور جن لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ تعلیم اور ریاضت سے عورتیں مردوں پر فضیلت حاصل کرسکتی ہیں۔
یہ ان کی غلطی ہے۔
اس لیے کہ بحث نوع ذکور اور نوع نسواں میں ہے نہ کسی خاص شخص مذکر یا مؤنث میں۔
قسطلانی ؒنے کہا کہ رمضان کے چاند کی روایت میں ایک شخص کی شہادت کافی ہے اور اموال کے دعاوی میں ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ ہوسکتا ہے اسی طرح اموال اور حقوق میں ایک مرد اوردو عورتوں کی شہادت پر بھی اور حدود، نکاح اور قصاص میں عورتوں کی شہادت پر جائز نہیں ہے۔
(وحیدی)
حضرت امام شافعی ؒ نے اپنی محترمہ والدہ کا واقعہ بیان کیا کہ وہ مکہ شریف کی ایک عدالت میں ایک عورت کے ساتھ پیش ہوئیں۔
تو حاکم نے امتحان کے طور پر ان کو جدا جدا کرنا چاہا۔
فوراً انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے ﴿أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى﴾ (البقرة: 282)
ان دو گواہ عورتوں میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلادے اور یہ جدائی کی صورت میں ناممکن ہے۔
حاکم نے آپ کے استدلال کو تسلیم کیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2658 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2658. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے نصف کی مانند نہیں ہے؟‘‘ عورتوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ’’یہی تو ان کی عقل کاناقص ہونا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2658]
حدیث حاشیہ:
(1)
عورتوں کے معاملے میں ہمارا معاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہے۔
مغربی تہذیب سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ عورت زندگی کے ہر پہلو میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی اہل ہے اور گواہی دینے میں مرد کے برابر حیثیت رکھتی ہے جبکہ بعض لوگ اسے پاؤں کے جوتے کی حیثیت دیتے ہیں، یعنی ان کے ہاں معاشرتی طور پر وہ کسی قسم کی گواہی دینے کے قابل نہیں ہے۔
اعتدال پر مبنی موقف یہ ہے کہ مالی معاملات اور حدود و قصاص میں اکیلی عورت کی گواہی قبول نہیں ہو گی، بلکہ ایک مرد کے مقابلے میں عورت کی نصف گواہی کا اعتبار ہو گا، البتہ عورتوں کے مخصوص معاملات، مثلاً: حیض، ولادت، حضانت (بچوں کی پرورش)
اور رضاعت (بچوں کو دودھ پلانے)
میں اس کی گواہی قابل قبول ہو گی۔
(2)
امام بخاری ؒ اس حدیث سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے نصف ہے۔
(1)
عورتوں کے معاملے میں ہمارا معاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہے۔
مغربی تہذیب سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ عورت زندگی کے ہر پہلو میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی اہل ہے اور گواہی دینے میں مرد کے برابر حیثیت رکھتی ہے جبکہ بعض لوگ اسے پاؤں کے جوتے کی حیثیت دیتے ہیں، یعنی ان کے ہاں معاشرتی طور پر وہ کسی قسم کی گواہی دینے کے قابل نہیں ہے۔
اعتدال پر مبنی موقف یہ ہے کہ مالی معاملات اور حدود و قصاص میں اکیلی عورت کی گواہی قبول نہیں ہو گی، بلکہ ایک مرد کے مقابلے میں عورت کی نصف گواہی کا اعتبار ہو گا، البتہ عورتوں کے مخصوص معاملات، مثلاً: حیض، ولادت، حضانت (بچوں کی پرورش)
اور رضاعت (بچوں کو دودھ پلانے)
میں اس کی گواہی قابل قبول ہو گی۔
(2)
امام بخاری ؒ اس حدیث سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے نصف ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2658 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1951 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1951. حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛ ’’ کیا یہ حقیقت نہیں کہ عورت کو جب حیض آتا ہے تو وہ نمازیں نہیں پڑھتی اور نہ روزے ہی رکھتی ہے یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1951]
حدیث حاشیہ: مقصد یہ ہے کہ معیار صداقت ہماری ناقص عقل نہیں بلکہ فرمان رسالت ﷺ ہے۔
خواہ وہ بظاہر عقل کے خلاف بھی نظر آئے مگر حق و صداقت وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے فرما دیا۔
اسی کو مقدم رکھنا اور عقل ناقص کو چھوڑ دینا ایمان کا تقاضا ہے ابو زناد کے قول کا بھی یہی مطلب ہے۔
خواہ وہ بظاہر عقل کے خلاف بھی نظر آئے مگر حق و صداقت وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے فرما دیا۔
اسی کو مقدم رکھنا اور عقل ناقص کو چھوڑ دینا ایمان کا تقاضا ہے ابو زناد کے قول کا بھی یہی مطلب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1951 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1951 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1951. حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛ ’’ کیا یہ حقیقت نہیں کہ عورت کو جب حیض آتا ہے تو وہ نمازیں نہیں پڑھتی اور نہ روزے ہی رکھتی ہے یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1951]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے یہ حدیث کتاب الحیض میں مفصل طور پر بیان کی ہے۔
(صحیح البخاري، الحیض، حدیث: 304)
حضرت عائشہ ؓ کی ایک ہونہار شاگرد حضرت معاذہ نے ایک سوال اٹھایا تھا کہ حائضہ عورت نماز کی قضا کیوں نہیں دیتی؟ تو سیدہ عائشہ ؓ نے اس سے فرمایا: تو حروریہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس طرح کے سوالات خوارج کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں جو سنن کا معارضہ عقل و رائے سے کرتے ہیں۔
گویا انہوں نے اسے تلقین فرمائی کہ اس قسم کے سوالات میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ قرآن و حدیث کے سامنے سر تسلیم ختم کر دینے ہی میں عافیت ہے۔
حدیث کے الفاظ یہ ہیں: حضرت معاذہ نے حضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ عورت کو بحالت طہر نمازوں کو ادا کرنا چاہیے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: کیا تو حروریہ ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ہمیں حیض آتا تھا۔
آپ ہمیں ان ایام میں فوت شدہ نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔
(صحیح البخاري، الحیض، حدیث: 321) (2)
بہرحال حائضہ عورت کو رمضان کے روزے جو فوت ہو چکے ہوں، طہارت کے وقت انہیں رکھنا ہو گا لیکن نماز وغیرہ کی قضا اس کے ذمے نہیں ہے۔
(فتح الباري: 244/4)
(1)
امام بخاری ؒ نے یہ حدیث کتاب الحیض میں مفصل طور پر بیان کی ہے۔
(صحیح البخاري، الحیض، حدیث: 304)
حضرت عائشہ ؓ کی ایک ہونہار شاگرد حضرت معاذہ نے ایک سوال اٹھایا تھا کہ حائضہ عورت نماز کی قضا کیوں نہیں دیتی؟ تو سیدہ عائشہ ؓ نے اس سے فرمایا: تو حروریہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس طرح کے سوالات خوارج کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں جو سنن کا معارضہ عقل و رائے سے کرتے ہیں۔
گویا انہوں نے اسے تلقین فرمائی کہ اس قسم کے سوالات میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ قرآن و حدیث کے سامنے سر تسلیم ختم کر دینے ہی میں عافیت ہے۔
حدیث کے الفاظ یہ ہیں: حضرت معاذہ نے حضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ عورت کو بحالت طہر نمازوں کو ادا کرنا چاہیے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: کیا تو حروریہ ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ہمیں حیض آتا تھا۔
آپ ہمیں ان ایام میں فوت شدہ نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔
(صحیح البخاري، الحیض، حدیث: 321) (2)
بہرحال حائضہ عورت کو رمضان کے روزے جو فوت ہو چکے ہوں، طہارت کے وقت انہیں رکھنا ہو گا لیکن نماز وغیرہ کی قضا اس کے ذمے نہیں ہے۔
(فتح الباري: 244/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1951 سے ماخوذ ہے۔