صحيح البخاري
كتاب الشهادات— کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان
بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الأَنْسَابِ وَالرَّضَاعِ الْمُسْتَفِيضِ وَالْمَوْتِ الْقَدِيمِ: باب: نسب اور رضاعت میں جو مشہور ہو، اسی طرح پرانی موت پر گواہی کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا ، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ ؟ قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، " إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ " .´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی عبداللہ بن ابی بکر سے ، وہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف فرما تھے ۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک صحابی کی آواز سنی جو ( ام المؤمنین ) حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا تھا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے کہا ، یا رسول اللہ ! میرا خیال ہے یہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا ہیں ۔ انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! یہ صحابی آپ کے گھر میں ( جس میں حفصہ رضی اللہ عنہا رہتی ہیں ) آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا ، میرا خیال ہے یہ فلاں صاحب ، حفصہ کے رضاعی چچا ہیں ۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے ایک رضاعی چچا کے متعلق پوچھا کہ اگر فلاں زندہ ہوتے تو کیا وہ بے حجاب میرے پاس آ سکتے تھے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں ! دودھ سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، " إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ " . . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف فرما تھے۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک صحابی کی آواز سنی جو ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ! میرا خیال ہے یہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہ صحابی آپ کے گھر میں (جس میں حفصہ رضی اللہ عنہا رہتی ہیں) آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا، میرا خیال ہے یہ فلاں صاحب، حفصہ کے رضاعی چچا ہیں۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے ایک رضاعی چچا کے متعلق پوچھا کہ اگر فلاں زندہ ہوتے تو کیا وہ بے حجاب میرے پاس آ سکتے تھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! دودھ سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الأَنْسَابِ وَالرَّضَاعِ الْمُسْتَفِيضِ وَالْمَوْتِ الْقَدِيمِ:: 2646]
سوال: زید کی دو بیویاں ہیں اور دونوں کے بطن سے اس کی بیٹیاں ہیں۔ بکر کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے اس کی کسی بیٹی کے ساتھ دودھ پیا۔ اب کیا بکر کا بیٹا اپنی رضائی بہن کے علاوہ اس کی دوسری بہنوں یا زید کی دوسری بیوی کی بیٹیوں سے نکا ح کر سکتا ہے؟
جواب: اس بچے کا نکا ح جس طرح اپنی رضاعی بہن کے ساتھ نہیں ہو سکتا، اسی طرح اس کی دیگر بہنوں اور زید کی دوسری بیوی کی بیٹیوں سے بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ جو رشتے خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ زید کی بچی کے ساتھ اس نے دودھ پیا، وہ زید کا رضاعی بیٹا بن گیا۔ اب زید کی تمام بیٹیاں اس کی رضائی بہنیں ہیں۔
ہاں بکر کے دوسرے بیٹے جنہوں نے زید کی کسی بیوی کا دودھ نہیں پیا، وہ زید کی کسی بھی بیٹی کے ساتھ نکا ح کر سکتے ہیں، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عندها، وأنها سمعت صوت رجل يستأذن فى بيت حفصة، قالث عائشة: فقلت: يا رسول الله، هذا رجل يستأذن فى بيتك، قالت: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أراه فلانا، لعم حفصة من الرضاعة، فقالث عائشة: لو كان فلان حيا، لعمها من الرضاعة، دخل على؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”نعم، إن الرضاعة تحرم ما يخرم من الولادة“»
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے کہ انہوں نے ایک شخص کی آواز سنی، جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا تھا۔ سیدہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تو یہ حفصہ کے رضائی چچا لگتے ہیں۔ سیدہ نے عرض کیا: اگر میرے رضائی چچا زندہ ہوتے، تو کیا وہ میرے گھر آ سکتے تھے؟ اس پر آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں! رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں، جو خون سے حرام ہوتے ہیں۔“ [صحيح البخاري: 2646، صحيح مسلم: 1445، واللفظ له]
اللهم اغفر له و ارحمه وأکرم نزله و وسع مدخله آمین یا رب العٰلمین۔
(1)
حضرت عائشہ ؓ کے دو رضاعی چچا تھے: ایک ابو القعیس جنہوں نے حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ دودھ پیا تھا اور وہ حضرت ابوبکر ؓ کے رضاعی بھائی تھے۔
اس نسبت سے وہ حضرت عائشہ ؓ کے رضاعی چچا ہوئے۔
اس حدیث کے مطابق وہ فوت ہو چکے تھے، دوسرے افلح نامی چچا تھے جو ابو القعیس کے بھائی تھے۔
وہ اس وقت زندہ تھے جس کا ذکر حدیث: 2644 میں آیا ہے اور ان کے ساتھ حضرت عائشہ کی گفتگو بھی ہوئی۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رضاعی چچا محرم ہے اور اس سے نکاح جائز نہیں۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ مشہور رشتوں کے لیے گواہی کی ضرورت نہیں، البتہ اس سلسلے میں تحقیق ضرور کر لینی چاہیے۔
(1)
یہ حدیث ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر ہے کہ عورتوں پر غیر مردوں کا داخل ہونا جائز ہے جبکہ وہ دودھ کا رشتہ رکھتے ہوں کیونکہ دودھ کا رشتہ خون کے رشتے کے برابر ہے لیکن اجنبیوں کی طرح قریبی رشتے داروں کو بھی اجازت حاصل کر کے داخل ہونا چاہیے کیونکہ اگر اچانک آئیں گے تو ممکن ہے کہ وہ ان سے ایسی چیز دیکھ لیں جس پر ان کے لیے اطلاع پانا جائز نہیں یا وہ ایسی حالت میں ہوں جس پر مطلع ہونے کو اچھا خیال نہ کرتی ہوں، البتہ بیوی کے ہاں اجازت کے بغیر آنا جائز ہے کیونکہ اسے ہر حالت میں دیکھنا جائز ہے۔
اس کے علاوہ ماں، بہن، بیٹی اور دوسرے محارم اجازت میں مساوی ہیں۔
والله اعلم
جس سے باب کا مطلب ثابت ہوا کہ کسی بچے نے اپنی چچی کا دودھ پیا ہے تو چچا رضاعی باپ ہوگا۔
اور چچا کے لڑکے لڑکیاں رضاعی بھائی بہن ہوں گے۔
ان سے پردہ بھی نہیں ہے۔
کیونکہ رضاعت سے یہ سب محرم بن جاتے ہیں۔
1۔
اس باب کی تمام مذکوراحادیث میں گھروں کی نسبت ازواج مطہرات ؓ کی طرف کی گئی ہے چنانچہ ان میں حضرت عائشہ ؓ، حضرت اُم سلمہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ کی صراحت ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گھر ازواج مطہرات ؓ کے تھے جبکہ قرآنی آیت سے معلوم ہوتا ہے۔
کہ وہ گھر رسول اللہ ﷺ کے تھے کہ ان کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کی گئی ہے۔
اس امر میں علمائے امت کا اختلاف ہے۔
جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
ازواج مطہرات ؓ کی طرف ان گھروں کی نسبت ملکیت کی وجہ سے ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے وفات سے قبل اپنی بیویوں کو ان کا مالک بنا دیا تھا اس لیے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد: ’’ہمارا ترکہ صدقہ ہے۔
‘‘ ان گھروں پر صادق نہیں آتا۔
رسول اللہ ﷺ کی طرف ان گھروں کی نسبت کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ گھر آپ کی ملکیت تھے اور ازواج مطہرات ؓ کی طرف ان کی نسبت ’’مکین ہونے‘‘ کی وجہ سے ہے رسول اللہ ﷺ نے انھیں رہائش کے لیے مذکورہ مکانات دیے تھے اور وہ مرتے دم تک ان میں رہائش پذیر رہیں۔
2۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ان بیویوں کو گھروں کا مالک نہیں بنایا تھا اگر ایسی بات ہوتی تو ان ازواج مطہرات ؓ کی وفات کے بعد ان کے ورثاء مذکورہ مکانات کے وارث ہوتے حالانکہ ان کی وفات کے بعد ان گھروں کو گرا کر مسجد نبوی میں شامل کردیا گیا تاکہ عام مسلمانوں کو ان سے نفع پہنچے جیسا کہ نان و نفقہ کے متعلق معاملہ کیا گیا۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 254/6)
3۔
ہمارا رجحان یہ ہے کہ وہ گھر رسول اللہ ﷺ کی ملکیت تھے اور آپ کی وفات کے بعد وہ صدقہ قرارپائے البتہ ازواج مطہرات ؓ کو زندگی بھر ان میں رہائش رکھنے کی اجازت تھی جیسا کہ دیگر صدقات سے انھیں نان ونفقہ دیا جاتا تھا اسی طرح تاوفات انھیں وہ مکان رہائش کے لیے دیے گئے۔
جیسا کہ ایک حدیث میں "مسکن عائشہ"ہے اس سےبھی پتہ چلتا ہے کہ وہ گھرآپ کی ملک نہیں تھا بلکہ صرف رہائش کے لیے تھا پھر آیت کریمہ میں ہے۔
’’رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں اس وقت تک کوئی داخل نہ ہو جب تک اسے رسول اللہ ﷺ اجازت نہ دیں۔
‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر خاوند کا ہوتا ہے تبھی تو اسے اجازت دینے کا اختیاردیا گیا ہے بہر حال رسول اللہ ﷺنے یہ مکانات انھیں ہبہ نہیں کیے تھے بلکہ انھیں رہائش کے لیے دیے تھے کہ مرتے دم تک وہ ان میں رہائش پذیر رہیں جیسے ان کے نفقات مستثنیٰ تھے ایسے رہائش بھی مستثنیٰ تھی۔
ان کی وفات کے بعد ان کے ورثاء ان گھروں کے مالک نہیں بنے اور نہ کسی نے اس قسم کا دعوی ہی کیا بلکہ ان تمام گھروں کو مسجد نبوی میں شامل کردیا گیا۔
واللہ أعلم۔
نوٹ:۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی رہائش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اس طرف سے شیطانی فتنہ طلوع ہوگا۔
‘‘ اس حدیث کو بنیاد بنا کر رافضیوں نے پروپیگنڈا کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کا گھر فتنوں کی آما جگاہ تھا حالانکہ انھیں ایسی باتیں کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے اپنے آخری ایام حضرت عائشہ ؓ کے گھر گزارے اور زندگی کے بعد وہ آپ کا مشہد بنا۔
جو کہ اللہ کی طرف سے خیر و برکت کے نزول کا محل ہے۔
ایسی جگہ کو فتنوں کی آما جگاہ کیونکرقرار دیا جا سکتا ہے دراصل صحابہ کرام ؓ سےبغض وعناد کے نتیجے میں ایسی باتیں کہی گئی ہیں۔
امام بخاری ؒ نے دوسرے مقام پر ایک تفصیلی روایت ذکر کی ہےکہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے ایک دفعہ اہل عراق سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہوئے دیکھا۔
’’خبردار! فتنہ ادھر سے طلوع ہوگا فتنہ اس طرف سے ظاہر ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7092)
مدینہ طیبہ سے عراق مشرق کی طرف پڑتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فتنوں کی آما جگاہ سر زمین عراق ہے۔
اس میں شک نہیں کہ عراق کا خطہ بڑا ہنگامہ خیز اور فتنہ پرور واقع ہوا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی مذکورہ بالا پیش گوئی کے مطابق یہ منحوس علاقہ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کی آماجگاہ ہے چنانچہ قوم نوح کے بت وداور سواع وغیرہ عراق ہی میں تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف آگ کا الاؤ تیار کرنے والا نمرودبھی اسی عراق کا فرمانروا تھا۔
حضرت عثمان ؓکے خلاف فتنہ بھی عراقی لوگوں نے برپا کیا تھا نواسہ رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے والے بھی عراقی تھے۔
حدیث اور اہل حدیث کے خلاف اہل رائےکے طوفان بھی اسی سر زمین سے اٹھے۔
اب بھی یہ خطہ اس قسم کے فتنوں کی بد ترین مثالیں قائم کیےہوئے ہے ان واقعات و شواہد کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کا گھر فتنوں کی آماجگاہ نہیں تھا بلکہ یہ "شرف" سر زمین عراق کو حاصل ہوا ہے۔
(1)
رضاعی چچا کی دو صورتیں ممکن ہیں: ایک یہ ہے کہ والد کے ہمراہ جس نے دودھ پیا ہے وہ اولاد کے لیے رضاعی چچا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ جس عورت کا دودھ پیا جائے اس کے خاوند کا بھائی دودھ پینے والے کا رضاعی چچا ہوگا۔
(2)
رضاعت سے پردہ اٹھ جاتا ہے اور اجنبیت ختم ہو جاتی ہے، یعنی جس عورت کا دودھ پیا جائے وہ ماں اور عورت کا شوہر باپ اور اس کا بھائی ماموں اور اس کی بہن رضاعی خالہ بن جاتی ہے۔
لیکن وراثت اور اخراجات کی ذمے داری اس رضاعت سے ثابت نہیں ہوتی۔
(3)
اس مسئلے میں امت کا اتفاق ہے کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ دودھ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں لیکن رضاعت کے لیے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے: ٭ کم ازکم پانچ مرتبہ دودھ پیا جائے۔
٭ مدت رضاعت، یعنی دو سال کے اندر اندر دودھ پیا جائے۔
اگر کسی نے ایک یا دو مرتبہ دودھ پیا یا مدت رضاعت کے بعد دودھ پیا تو اس سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔
والله اعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دودھ پلانے سے وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو پیدائش سے حرام ہوتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2055]
نکاح میں محرمات کی دو قسمیں ہیں۔
ابدی محرمات اور وقتی محرمات ابدی محرمات بسبب نسب کے سات ہیں۔
1۔
مایئں (اوپر تک) 2۔
بیٹیاں (نیچے تک) تین حیققی بہنیں (ماں باپ دونوں کی طرف سے یا صرف باپ کی طرف سے یا ماں کی طرف سے) 4۔
بھانجیاں۔
5بھتیجیاں۔
6۔
پھوپھیاں 7۔
خالایئں۔
بدلیل (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ الخ) (النساء 23) اور ان کے مماثل وہ رشتے جو رضاعت سے قائم ہوتے ہیں۔
سب حرام ہیں۔
جیسے کہ اس باب کی حدیث میں آیا ہے۔
تعلق مصاہرت (سسرال اور ازدواجی تعلق) کی بناء پر حرام ہونے والی خواتین یہ ہیں۔
1۔
بیویوں کی مایئں۔
2۔
بیویوں کی بیٹیاں بشرط یہ کہ بیوی سے دخول ہوا ہو۔
3۔
باپ دادا کی بیویاں 4۔
بیٹوں کی بیویاں (نیچے تک) اور یہی رشتے اگر رضاعت سے قائم ہوں تو حرام ہیں۔
ایک محدود وقت تک کے لئے حرام رشتے یہ ہیں۔
بیوی کی بہن اس کی پھوپھی یا بھتیجی یا خالہ اور خالہ یا بھانجی اور آزاد آدمی کےلئے چار بیویاں موجود ہوں۔
تو پانچویں حرام ہے۔
(کچھ علماء کے نزدیک) زانیہ تا آنکہ توبہ کرلے۔
اور وہ عورت جسے تین طلاقیں دی ہوں تاآنکہ کسی اور سے نکاح کرلے۔
اور وہاں سے فارغ ہو۔
محرمہ اپنے احرام سے حلال ہونے تک اور کوئی مطلقہ جو اپنے ایام عدت میں ہو۔
عدم ختم ہونے تک ان کے علاوہ دیگر عورتیں حلال ہیں۔
(وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ) (النساء۔
24) (دیکھئے۔
تیسیر العلام شرح عمدۃ الاحکام)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو رشتے (ماں کے پیٹ سے) پیدا ہونے سے حرام ہوتے ہیں وہی رشتے (عورت کا) دودھ پینے سے بھی حرام ہوتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3302]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے رضاعی چچا افلح نے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے ان سے پردہ کیا، اس کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عائشہ سے) فرمایا: ” ان سے پردہ مت کرو، کیونکہ نسب سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، وہی رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3303]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے تو انہوں نے سنا کہ ایک آدمی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر میں اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” میں نے اسے پہچان لیا ہے، وہ حفصہ کا رضاعی چچا ہے “، میں نے کہا: اگر فلاں میرے رضاعی چچا زندہ ہوتے تو میرے یہاں بھی آیا کرتے؟ رسو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3315]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1937]
فوائد و مسائل:
(1)
رضاعت سے مراد دودھ پلانا ہے، یعنی جب کسی بچے کو ماں کے علاوہ کوئی اور عورت دودھ پلائے تو وہ عورت بھی اسی طرح اس کی ماں شمار ہوتی ہے جس طرح جننے والی ماں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ (النساء: 23)
’’اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا (ان سے بھی نکاح حرام ہے۔‘‘
)
(2)
رضاعت سے حرام ہونے والی عورتوں کی تفصیل یہ ہے: (ا)
رضاعی ماں: جس کا دودھ تم نے مدت رضاعت (دو سال کی عمر)
کے اندر پیا ہو۔
(ب)
رضاعی بہن: جس کو تمہاری حقیقی یا رضاعی ماں نے دودھ پلایا، خواہ تمہارے ساتھ یا تم سے پہلے یا بعد میں یا جس عورت کی حقیقی یا رضاعی ماں نے تمہیں دودھ پلایا ہو یعنی رضاعی ماں بننے والی عورت کی تمام نسبی اور رضاعی اولاد دودھ پینے والے بچے کے بہن بھائی بن جائیں گے۔
(ج)
رضاعی خالہ: دودھ پلانے والی کی بہنیں دودھ پینے والے کی خالائیں بن جائیں گی۔
(د)
رضاعی پھوپھی: چونکہ دودھ پلانے والی کا خاوند دودھ پینے والے کا باپ بن جائے گا اس لیے اس رضاعی باپ کی بہنیں دودھ پینے والے کی پھوپھیاں ہوں گی۔
اور رضاعی باپ کے بھائی دودھ پینے والے کے چچا تایا بن جائیں گے۔
(3)
ان رضاعی رشتوں سے نکاح کرنا اسی طرح حرام ہے جس طرح نسبی رشتوں سے لہٰذا ان میں پردہ اسی طرح فرض نہیں ہوگا جس طرح نسبی رشتوں میں پردہ فرض نہیں ہوتا۔
لڑکے کی رضاعی ماں، رضاعی بہن، رضاعی خالہ اور رضاعی پھوپھی اس سے پردہ نہیں کریں گی۔
اسی طرح لڑکی اپنے رضاعی باپ، رضاعی بھائی، رضاعی چچا، تایا اور رضاعی ماموں سے پردہ نہیں کرے گی۔
(4)
دودھ پینے والے کے دوسرے بھائی بہن، جنہوں نے اس عورت کا دودھ نہیں پیا ان کا اس عورت سے اور اس کے بچوں وغیرہ سے رضاعت کا تعلق شمار نہیں ہو گا۔
«. . . 310- وعن عمرة أن عائشة أم المؤمنين أخبرتها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عندها، وأنها سمعت صوت رجل يستأذن فى بيت حفصة، فقالت عائشة: فقلت: يا رسول الله، هذا رجل يستأذن فى بيتك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أراه فلانا، لعم لحفصة من الرضاعة، فقالت عائشة: يا رسول الله، لو كان فلان حيا، لعم لها من الرضاعة، دخل علي؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”نعم إن الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة . “ . . .»
”. . . ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے کہ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے ایک آدمی کی آواز سنی جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ آدمی (اندر آنے کی) اجازت مانگ رہا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ وہ فلاں آدمی ہے، حفصہ کا رضاعی چچا ہے “۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یا رسول اللہ! اگر فلاں آدمی، جو کہ ان کا رضاعی چچا تھا، اگر زندہ ہوتا تو کیا میرے پاس (گھر میں) آ سکتا تھا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جو رشتے (حقیقی) اولاد ہونے کی وجہ سے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 376]
تفقه:
➊ جس طرح نسب سے رشتے حرام ہوتے ہیں اسی طرح رضاعت سے بھی رشتے حرام ہوجاتے ہیں مثلاً رضاعی بہن اُسی طرح حرام ہے جس طرح حقیقی بہن حرام ہے۔
➋ سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: دو سال کے اندر بچہ جو دودھ پی لے تو حرمت ثابت ہوجاتی ہے اگرچہ ایک گھونٹ ہی ہو اور دو سال کے بعد اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 422/7 و سنده صحيح]
➌ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رضاعت صرف بچپن میں ہی ہوتی ہے، بڑی عمر کی رضاعت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ [الموطأ 603/2 ح 1318 وسنده صحيح/مفهوم]
➍ سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: دو سال کے اند اگر ایک قطرہ (دودھ) بھی ہو تو حرام ہوجاتا ہے۔ الخ [الموطأ 604/2 ح 1322 وسنده صحيح]
➎ بچہ اگر منہ ڈال کر پانچ مرتبہ دودھ پی لے، چوس لے تو رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔
➏ غیر محرم سے پردہ ضروری ہے۔
«. . . 469- وبه: أنها قالت: جاء عمي من الرضاعة فاستأذن على فأبيت أن آذن له حتى أسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت: فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم. قالت: فسألته عن ذلك فقال: ”إنه عمك فأذني له“ قالت: فقلت: يا رسول الله، إنما أرضعتني المرأة ولم يرضعني الرجل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”إنه عمك فليلج عليك قالت عائشة: وذلك بعد أن ضرب علينا الحجاب، وقالت عائشة: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ میرے رضاعی چچا آئے اور مجھ سے (گھر میں) آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا تاکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارا چچا ہے، اسے اجازت دے دیا کرو۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا تھا مرد نے تو دودھ نہیں پلایا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارا چچا ہے تمہارے پاس آ سکتا ہے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ بات ہم پر پردہ فرض ہونے کے بعد کی ہے۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 375]
[وأخرجه البخاري 5239، من حديث مالك به، ورواه مسلم 7/1445، من حديث هشام بن عروه به * من رواية يحييٰ بن يحييٰ، وجاء فى الأصل: ”أُرْسِلَ“!!]
تفقه:
➊ حقیقی رشتوں کی طرح رضاعی رشتے بھی حرام ہوتے ہیں۔ ➋ غیرمحرم سے پردہ کرنا واجب ہے۔
➌ حدیث رسول کے مقابلے میں کسی کے عقلی اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
➍ ہر اختلاف میں کتاب و سنت کو ہی ترجیح حاصل ہے۔
➎ ضرورت کے وقت سائل اپنے سوال کی وضاحت طلب کر سکتا ہے۔
➏ کسی مسئلے پر عمل پیرا ہونے سے قبل اس کی تحقیق ضروری ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا ہے: «العلم قبل القول والعمل» یعنی تبلیغ کرنے اور عمل کرنے سے پہلے اس کا علم ہونا ضروری ہے۔ [صحيح بخاري بعد حديث: 67]
➐ نیز دیکھئے: [الموطأحديث: 310]