صحيح البخاري
كتاب الشهادات— کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان
بَابُ الشُّهَدَاءِ الْعُدُولِ: باب: گواہ عادل معتبر ہونے ضروری ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ ، قَالَ :سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " إِنَّ أُنَاسًا كَانُوا يُؤْخَذُونَ بِالْوَحْيِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُكُمُ الْآنَ بِمَا ظَهَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِكُمْ ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا أَمِنَّاهُ وَقَرَّبْنَاهُ وَلَيْسَ إِلَيْنَا مِنْ سَرِيرَتِهِ شَيْءٌ اللَّهُ يُحَاسِبُهُ فِي سَرِيرَتِهِ ، وَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا سُوءًا لَمْ نَأْمَنْهُ وَلَمْ نُصَدِّقْهُ ، وَإِنْ قَالَ إِنَّ سَرِيرَتَهُ حَسَنَةٌ " .´ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے ، کہا کہ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عتبہ نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ آپ بیان کرتے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا ۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور ہم صرف انہیں امور میں مواخذہ کریں گے جو تمہارے عمل سے ہمارے سامنے ظاہر ہوں گے ۔ اس لیے جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا ، ہم اسے امن دیں گے اور اپنے قریب رکھیں گے ۔ اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا ۔ اس کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے خواہ وہ یہی کہتا رہے کہ اس کا باطن اچھا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کہو، جب حضرت عمر ؓ ایسے شخص کو دل کا حال معلوم نہیں ہوسکتا تھا تو تم بے چارے کس باغ کی مولی ہو۔
دل کا حال بجز اللہ کریم کے کوئی نہیں جانتا۔
پیغمبر صاحب کو بھی اس کا علم وحی یعنی اللہ کے بتلانے سے ہوتا۔
حضرت عمر ؓ نے قاعدہ بیان کیا کہ ظاہر کی رو سے جس کے اعمال شرع کے موافق ہوں اس کو اچھا سمجھو اور جس کے اعمال شرع کے خلاف ہوں ان کو برا سمجھو۔
اب اگر اس کا دل بالفرض اچھا بھی ہوگا جب بھی ہم اس کے برا سمجھنے میں کوئی مواخذہ وار نہ ہوں گے کیوں کہ ہم نے شریعت کے قاعدے پر عمل کیا۔
البتہ ہم اگر اس کو اچھا سمجھیں گے تو گناہ گار ہوں گے۔
(وحیدی)
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ فاسق بدکار کی بات نہ مانی جائے گی یعنی اس کی شہادت مقبول نہ ہوگی۔
معلوم ہوا کہ شاہد کے لیے عدالت ضروری ہے۔
عدالت سے مراد یہ ہے کہ مسلمان آزاد، عاقل، بالغ، نیک ہو، تو کافر یا غلام یا مجنون یا نابالغ یا فاسق کی گواہی مقبول نہ ہوگی۔
(وحیدی)
یہ بھی مقصد ہے کہ عادل گواہ کے ظاہری حالات کا درست ہونا ضروری ہے ورنہ اس کو عادل نہ مانا جائے گا۔
اسلام کا فتویٰ ظاہری حالت پر ہے۔
باطن اللہ کے حوالہ ہے۔
اس میں ان نام نہاد صوفیوں کی بھی تردید ہے جن کا ظاہر سراسر خلاف شرع ہوتا ہے اور باطن میں وہ ایمان دار عاشق خدا و رسول بنتے ہیں۔
ایسے مکار نام نہاد صوفیوں نے ایک خلقت کو گمراہ کررکھا ہے۔
ان میں سے بعض تو اتنے بے حیا واقع ہوئے ہیں کہ نماز روزہ کی کھلے لفظوں میں تحقیر کرتے ہیں، علماءکی برائیاں کرتے ہیں، شریعت اور طریقت کو الگ الگ بتلاتے ہیں۔
ایسے لوگ سراسر گمراہ ہیں۔
ہرگز ہرگز قابل قبولیت نہیں ہیں بلکہ وہ خود گمراہ اور مخلوق کے گمراہ کرنے والے ہیں۔
حضرت جنید بغدادی ؒ کا مشہور قول ہے کہ کل حقیقة لایشهد له الشرع فهو زندقة۔
ہر وہ حقیقت جس کی شہادت شریعت سے نہ ملے وہ بددینی اور بے ایمانی اور زندیقیت ہے۔
نعوذ باﷲ من شرور أنفسنا ومن سیآت أعمالنا۔
(1)
اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ قبول شہادت کے لیے عدالت شرط ہے، البتہ صفتِ عدالت میں اختلاف ہے۔
امام بخاری ؒ کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ عدالت میں انسان کے ظاہر کو دیکھا جائے گا بشرطیکہ اس کا کوئی عیب مشہور نہ ہو، باطنی معاملات پر عدالت کا دارومدار ہرگز نہیں۔
اس سلسلے میں جمہور اہل علم کا موقف ہے کہ عدالت، اسلام کے علاوہ ایک سے زائد صفات کا نام ہے، یعنی وہ شرعی احکام کا پابند ہو، مستحبات پر عمل کرنے والا ہو، نیز شریعت کے ناپسندیدہ اور حرام کاموں سے بچنے والا ہو۔
(2)
ہمارے رجحان کے مطابق ایک مسلمان کے لیے عدالت کی یہ شرط کافی ہے کہ اس کے ظاہر کو دیکھا جائے اس کے باطن کی کھوج نہ لگائی جائے۔
(3)
حضرت مالک بن دخیشن ؓ کا ظاہری چال چلن نفاق پر مبنی تھا لیکن وحی نے ان کے ظاہر کی تردید کر کے ان کے ایمان کی تصدیق کر دی۔
اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، اس لیے فیصلہ کرتے وقت ظاہر کو دیکھا جائے گا۔
گواہ بظاہر اچھا ہے تو اس کے بیان کو تسلیم کیا جائے گا اور اگر ظاہر میں برا ہے تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی۔
اس فاروقی اثر سے کئی مسئلے ثابت ہوئے: جو لوگ کتاب و سنت پر عمل نہیں کرتے مثلاً داڑھیاں منڈاتے یا منڈواتے ہیں، منشیات استعمال کرتے ہیں، قسما قسم کے گناہوں میں غرق ہیں، جب انھیں کہا جاتا ہے کہ نماز پڑھو، داڑھی منڈوانا حرام ہے اور تمام گناہوں سے بچ جاؤ تو بدمعاش بدکار فاسق کہتے ہیں: ’’ظاہری اعمال سے کیا ہوتا ہے بلکہ دل اچھا ہونا چاہئے اور ہمارے دلوں میں ایمان ہے‘‘۔ یہ روایت ان فساق و فجار پر زبردست رد ہے، کیونکہ اگر دل اچھا ہوتا تو پھر اعمال بھی اچھے ہوتے اور مسلسل بُرے اعمال اس کی دلیل ہیں کہ دل سیاہ اور داغدار ہو چکا ہے۔ «أعاذنا الله منه»
شریعت میں باطنیت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ ظاہر کا اعتبار ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو الہام یا کشف نہیں ہوتا تھا ورنہ وہ لوگوں کے دلوں کے حالات معلوم کر لیتے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں وحدت الوجودی تصوف والوں نے مختلف جھوٹے قصے مشہور کر رکھے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ ایک دفعہ انھوں (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ)نے بہت دور سے کہا تھا: «يا ساريةُ الجبلَ» اے ساریہ! پہاڑ کی طرف ہو جا۔
یہ سب قصے اصولِ حدیث اور علم اسماء الرجال کی رُو سے غیر ثابت اور مردود ہیں۔
وحی (اور الہام) کا سلسلہ اب ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا ہے۔
کتاب و سنت پر عامل شخص ہی ثقہ اور عادل ہوتا ہے، شریعت میں اسے زبردست حقوق حاصل ہیں بلکہ ہر ممکن طریقے سے اس کا احترام اور دفاع کرنا چاہئے۔
فاسق مثلاً داڑھی منڈے کی گواہی ناقابلِ اعتبار اور مردود ہوتی ہے۔
اہلِ ایمان کے بارے میں ہر وقت حسنِ ظن اور اُمیدِ خیر رکھنی چاہئے اور ان کی نجی زندگی و پوشیدہ اُمور کے بارے میں کسی قسم کی جاسوسی کبھی نہیں کرنی چاہئے۔
ہر زمانے میں مسلمان حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہے بلکہ اُن پر فرض ہے کہ قرآن و حدیث کا نظام اپنے ممالک میں نافذ کریں بلکہ پوری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کی کوشش میں مسلسل مشغول رہیں۔ نیز دیکھئے: [سورة المائده 44]
گواہی صرف ثقہ و عادل کی ہی مقبول ہوتی ہے۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ ’’فلاں فلاں پیر غیب جانتے ہیں‘‘ ان کی یہ بات بالکل جھوٹ اور باطل ہے، وحی کے بغیر غیب کا علم محال ہے اور وحی کا دروازہ قیامت تک کے لئے بند ہو چکا ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ نمبر 75 صفحہ 2 اور 3
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ ’’ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لوگوں کا مواخذہ وحی کے ذریعہ ہوتا تھا۔ اب وحی کا نزول بند ہو چکا ہے اب ہم تمہارا مواخذہ تمہارے اعمال کے مطابق کریں گے جیسے وہ ہمارے روبرو ظاہر ہوں گے۔ “ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1205»
«أخرجه البخاري، الشهادات، باب الشهداء العدول، حديث:2641.»
تشریح: 1. اس اثر سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی تھی اور آپ کی وفات کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیا‘ گویا نبوت کی تکمیل ہوگئی۔
اب نہ کوئی نیا نبی و رسول آئے گا اور نہ آسمان سے وحی نازل ہو گی۔
اب اگر کوئی اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے تو وہ سراسر دروغ گو‘ کذاب‘ دجال‘ مفتری اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
2.حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تو لوگوں کے بارے میں معلومات کا ذریعہ وحی الٰہی تھی مگر اب ایک شخص کے رازوں اور بھیدوں کی جستجو اور تفتیش کیے بغیر اور ان کا سراغ لگائے بغیر ہم اس کے ظاہری حالات و اعمال کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
اگر اس کے ظاہری اعمال و احوال شک و شبہ سے محفوظ ہیں تو وہ قابل اعتبار ہے اور اس کی گواہی مقبول ہے ورنہ نہیں۔