صحيح البخاري
كتاب الهبة— کتاب: ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان
بَابُ فَضْلِ الْمَنِيحَةِ: باب: تحفہ «منيحة» کی فضیلت کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَاكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أَرْضٍ تَهْتَزُّ زَرْعًا ، فَقَالَ : لِمَنْ هَذِهِ ؟ فَقَالُوا : اكْتَرَاهَا فُلَانٌ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَوْ مَنَحَهَا إِيَّاهُ كَانَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا أَجْرًا مَعْلُومًا " .´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے عمرو نے ، ان سے طاؤس نے بیان کیا کہ مجھ سے ان میں سب سے زیادہ اس ( مخابرہ ) کے جاننے والے نے بیان کیا ، ان کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایسے کھیت کی طرف تشریف لے گئے جس کی کھیتی لہلہا رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ” یہ کس کا ہے ؟ “ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتلایا کہ فلاں نے اسے کرایہ پر لیا ہے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اگر وہ ہدیتاً دے دیتا تو اس سے بہتر تھا کہ اس پر ایک مقررہ اجرت وصول کرتا ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
اس کا کرایہ لینے سے یہ امر افضل ہے اور کرایہ لینے سے آپ نے منع نہیں فرمایا۔
دوسری روایت میں عمرو نے طاؤس سے کہا، کاش! تم بٹائی کرنا چھوڑدو، کیوں کہ لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔
انہوں نے کہاعمرو! میں تو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہوں اور صحابہ میں جو سب سے زیادہ علم رکھتے تھے یعنی ابن عباس ؓ انہوں نے مجھ سے بیان کیا، آخر تک یہ نہ بھولنا چاہئے کہ عہد نبوی نہ صرف عرب بلکہ ساری دنیا میں انسانی، تمدنی، معاشرتی ترقی کا ابتدائی دور تھا۔
اس دور میں غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کی سخت ضرورت تھی۔
ان ہی مقاصد کے پیش نظر پیغمبر اسلام ﷺ نے زمین کو آباد کرنے کے سلسلہ میں ہر ممکن آسانی و سہولت کو مدنظر رکھا اور اس کو زیادہ عوامی بنانے کی رغبت دلائی، مگر بعد کے زمانوںمیں جاگیرداری نظام نے زمیندار اور کاشت کار دو طبقے پیدا کردئیے جن کے نتائج بد کی سنگین سزائیں آج تک یہ دونوں گروہ باہمی کش مکش کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔
کاش اسلامی نظام دنیا میں برپا ہو، جس کی برکت سے نوع انسانی کو ان مصائب سے نجات مل سکے۔
آمین
رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی زمین بے کار اور فالتو پڑی ہے تو اپنے مسلمان بھائی کو مفت دے دے تاکہ وہ اسے آباد کرے۔
واضح رہے کہ اس وقت تمدنی، معاشرتی ترقی کا ابتدائی دور تھا، اس دور میں غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کی سخت ضرورت تھی۔
انہی مقاصد کے پیش نظر آپ نے رغبت دلائی۔
آباد زمینوں کے متعلق تو انصار اور مہاجرین کے درمیان بٹائی کا معاہدہ ہو چکا تھا، بے آباد اور فالتو زمین کے متعلق آپ نے فرمایا: ’’اسے فضیلت کے طور پر اگر دے دیا جائے تو بہتر ہے۔
‘‘ اس سے بٹائی یا ٹھیکے پر دینے کی نفی نہیں ہوتی۔
واللہ أعلم
مزارعت کی ممنوعہ صورت یہ ہے کہ متعین رقبے کی پیداوار یا متعین مقدار غلے کے عوض زمین کسی کو دی جائے، اس میں نقصان اور دھوکا ہے۔
اسلامی قانون کے اعتبار سے ایسا کرنا جائز نہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی مزید وضاحت فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو یہ فرمایا: ’’ کھیتی خود کاشت کرے یا بطور احسان اپنے بھائی کو دے دے۔
‘‘ تو اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کریں۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ بٹائی پر زمین دینا حرام ہے، البتہ ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔
بہرحال قانون اور ہے اور اخلاق و مروت چیزے دیگر است۔
واللہ أعلم
انہوں ے کہا، اللہ رافع بن خدیج کو بخشے، میں ان سے زیادہ اس حدیث کو جانتا ہوں۔
ہوا یہ تھا کہ دو انصاری آدمی آنحضرت ﷺ کے پاس لڑتے آئے۔
آپ ﷺ نے فرمایا اگر تمہارا یہ حال ہے تو کھیتوں کو کرایہ پر مت دیا کرو۔
رافع نے یہ لفظ سن لیا کہ کھیتوں کو کرایہ پر مت دیا کرو۔
حالانکہ آنحضرت ﷺ نے کرایہ پر دینے کو منع نہیں فرمایا۔
بلکہ آپ نے یہ برا سمجھا کہ اس کے سبب سے لوگوں میں فساد اور جھگڑا پیدا ہو۔
وہاں یہ مفہوم بھی درست ہے کہ اگر کسی کے پاس فالتو زمین بے کار پڑی ہوئی ہے تو بہتر ہے کہ وہ اپنے کسی بھائی کو بطور بخشش دے دے کہ وہ اس زمین سے فائدہ حاصل کرسکے۔
ایسے قانونی حیثیت میں تو بہرحال وہ اس کا مالک ہے۔
اور بٹائی یا کرایہ پر بھی دے سکتا ہے۔
لفظ مخابرہ بٹائی پر کسی کے کھیت کو جوتنے اور بونے کو کہتے ہیں۔
جب کہ بیج بھی کام کرنے والے ہی کا ہو۔
عام اصطلاح میں اسے بٹائی کہا جاتا ہے۔
خبرہ حصہ کو بھی کہتے ہیں۔
اسی سے مخابرہ نکلا ہے۔
بعض نے کہا کہ یہ لفظ خیبر سے ماخود ہے۔
کیوں کہ آنحضرت ﷺ نے خیبر والوں سے یہی معاملہ کیا تھا کہ آدھی پیداوار وہ لے لیں آدھی آپ کو دیں۔
بعض نے کہا کہ یہ لفظ خبار سے نکلا ہے جس کے معنی نرم زمین کے ہیں۔
کہا گیا ہے کہ فدفعنا في خبار من الأرض یعنی ہم نرم زمین میں پھینک دیئے گئے۔
نووی ؒنے کہا کہ مخابرہ اور مزارعہ میں یہ فرق ہے کہ مخابرہ میں تخم عامل کا ہوتا ہے نہ کہ مالک زمین کا۔
اور مزارعہ میں تخم مالک زمین کا ہوتا ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث پر کوئی عنوان قائم نہیں کیا کیونکہ یہ عنوانِ سابق کا تتمہ ہے۔
مزارعت کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ ہے کہ پیداوار کے طے شدہ حصے پر کسی کو زمین دی جائے۔
قبل ازیں یہ صورت بیان کی گئی تھی۔
دوسری صورت یہ ہے کہ زمین کے عوض طے شدہ اجرت لی جائے۔
وہ اس حدیث میں بیان ہوئی ہے، چنانچہ کتب حدیث میں وضاحت ہے کہ امام طاؤس زمین سونے یا چاندی کے عوض اجرت پر دینے کو ناپسند کرتے تھے لیکن تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض دینے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے۔
امام مجاہد نے ان سے کہا کہ رافع بن خدیج کے بیٹے کے پاس جاؤ ان سے رافع بن خدیج کی بیان کردہ حدیث سنو۔
انہوں نے کہا: اگر مجھے علم ہو جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے تو میں اسے کیوں عمل میں لاؤں لیکن مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے۔
آگے مذکورہ حدیث کا حوالہ ہے۔
(2)
حضرت ابن عباس ؓ کی بیان کردہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس فالتو زمین ہے تو بہتر ہے کہ وہ اپنے بھائی کو یوں ہی کاشت کے لیے مفت دے دے، یعنی یہ فضیلت اور احسان کا طریقہ ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے معاملے کی حقیقت کو خوب سمجھا جس سے اس مسئلے کی وضاحت ہو گئی۔
(فتح الباري: 19/5)
ایک روایت میں نہی کی علت ایک دوسرے انداز سے بیان ہوئی ہے، حضرت زید بن ثابت ؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج کو معاف فرمائے! میں ان سے زیادہ اس حدیث کو جاننے والا ہوں۔
واقعہ یہ ہے کہ دو انصاری رسول اللہ ﷺ کے پاس لڑتے جھگڑتے ہوئے آئے تو آپ نے فرمایا: ’’اگر تمہارا یہی حال ہے تو زمینوں کو کرائے پر مت دیا کرو۔
‘‘ حضرت رافع ؓ نے یہ لفظ سن لیا کہ کھیتوں کو کرائے پر مت دیا کرو، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع نہیں کیا بلکہ آپ نے اس بات کو برا خیال کیا کہ اس کی وجہ سے لوگوں میں فساد اور شر پیدا ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاقی اعتبار سے آپ نے اسے اچھا خیال نہیں کیا لیکن اس کی قانونی حیثیت وہی ہے کہ زمین کا مالک بااختیار ہے اسے خود کاشت کرے یا بٹائی اور کرائے پر کسی کو دے یا مفت میں کسی کو دے دے۔
(عمدة القاري: 25/9) (3)
اگر آدمی اپنے ہاتھ سے کھیتی باڑی نہ کر سکے تو اسے اجرت یا بٹائی پر دینے کی قانونی اجازت ہے لیکن اس قانونی اجازت کے باوجود اخلاقی اعتبار سے یہ بات زیادہ پسندیدہ ہے کہ اگر وہ کھیتی باڑی نہیں کر پاتا اور اس کے پاس دوسرا ذریعۂ معاش بھی ہے اور اس کا کوئی دوسرا بھائی بالکل بے سہارا اور بے وسیلہ ہے تو وہ اپنی زمین بغیر کسی معاوضے کے دوسرے بھائی کو دے دے تاکہ وہ اپنی ضروریات اس سے پوری کر سکے، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ کی اس تفسیر سے ارشاد نبوی کی اخلاقی حیثیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ طاؤس اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی زمین سونے، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھائے۔ البتہ (پیداوار کی) تہائی یا چوتھائی کے بدلے بٹائی پر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ تو ان سے مجاہد نے کہا: رافع بن خدیج کے لڑکے (اسید) کے پاس جاؤ اور ان سے ان کی حدیث سنو، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3904]
(2) ”مقررہ پیداوار“ یعنی نصف یا تہائی یا چوتھائی وغیرہ‘ نہ کہ وزن کے لحاظ سے معین کیونکہ یہ تو قطعاً جائز نہیں۔
(3) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے خیال کے مطابق یہ آپ نے بطور ہمدردی نصیحت فرمائی ہے نہ کہ شرعی قانون بیان فرمایا ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا تھا: ” کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین یوں ہی مفت کھیتی کے لیے دیدے، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے کوئی معین محصول لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2464]
فائدہ: زمین کو بٹائی یا حصے پردینا حرام یاناجائز نہیں لیکن اگر بلا عوض دے دے توبہتر ہے۔
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کاش آپ اس بٹائی کو چھوڑ دیتے، اس لیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ بولے: عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں، اور ان کو (زمین بٹائی پر) دیتا ہوں، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہماری موجودگی میں لوگوں سے ایسا معاملہ کیا ہے، اور ان کے سب سے بڑے عالم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا، بلکہ یوں فرمایا: ” اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یوں ہی بغیر کرایہ کے دی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2462]
فوائد ومسائل: (1)
عالم سے مسئلہ پوچھنے میں احترام پوری طرح ملحوظ رکھنا چاہیے۔
(2)
عالم کو چاہیے کہ مسئلہ پوچھنے والے کو وضاحت سے مسئلہ سمجھا کر مطمئن کرے۔
اپنے موقف کی تائید میں اپنے سے بڑے عالم کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جس طرح تابعی حضرت طاوس رحمت اللہ علیہ نے دو صحابیوں حضرت معاذ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیا اس سے عام سائل کو زیادہ اطمینان ہو جاتا ہے۔
(3)
مقرر معاوضہ سے مراد متعین رقم کا معاہدہ ہے۔