صحيح البخاري
كتاب الهبة— کتاب: ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان
بَابُ فَضْلِ الْمَنِيحَةِ: باب: تحفہ «منيحة» کی فضیلت کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ مِنْ مَكَّةَ وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ يَعْنِي شَيْئًا ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ ، فَقَاسَمَهُمْ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ يُعْطُوهُمْ ثِمَارَ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ وَيَكْفُوهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ ، وَكَانَتْ أُمُّهُ أُمُّ أَنَسٍ أُمُّ سُلَيْمٍ كَانَتْ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، فَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا ، فَأَعْطَاهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلَاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِ أَهْلِ خَيْبَرَ فَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّهِ عِذَاقَهَا ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ . وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ : أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا ، وَقَالَ : مَكَانَهُنَّ مِنْ خَالِصِهِ .´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی یونس سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ` جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کے ساتھ کوئی بھی سامان نہ تھا ۔ انصار زمین اور جائیداد والے تھے ۔ انصار نے مہاجرین سے یہ معاملہ کر لیا کہ وہ اپنے باغات میں سے انہیں ہر سال پھل دیا کریں گے اور اس کے بدلے مہاجرین ان کے باغات میں کام کیا کریں ۔ انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام سلیم جو عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہما کی بھی والدہ تھیں ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کا ایک باغ ہدیہ دے دیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ اپنی لونڈی ام ایمن رضی اللہ عنہا جو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ تھیں ، عنایت فرما دیا ۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر کے یہودیوں کی جنگ سے فارغ ہوئے اور مدینہ تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے تحائف واپس کر دئیے جو انہوں نے پھلوں کی صورت میں دے رکھے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس رضی اللہ عنہ کی والدہ کا باغ بھی واپس کر دیا اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اس کے بجائے اپنے باغ میں سے ( کچھ درخت ) عنایت فرما دئیے ۔ احمد بن شبیب نے بیان کیا ، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں یونس نے اسی طرح البتہ اپنی روایت میں بجائے «مكانهن من حائطه.» کے «مكانهن من خالصه.» مکانہن من خالصہ بیان کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
امام مسلم ؒ کی روایت میں یوں ہے کہ ایک شخص اپنی زمین میں سے چند کھجور کے درخت آنحضرت ﷺ کو دیا کرتا تھا۔
جب بنوقريظہ اور بنو نضیر کی جائیدادیں آپ کو ملیں تو آپ نے اس شخص کے درخت پھیر دئیے۔
انس ؓ نے کہا میرے عزیزوں نے مجھ سے کہا تو آنحضرت ﷺ کے پاس جا اور جو درخت ہم نے آنحضرت ﷺ کو دئیے تھے وہ سب کے سب یا ان میں سے کچھ واپس مانگ۔
آنحضرت ﷺ نے وہ درخت ام ایمن اپنی آیا کو دے دئیے تھے۔
میں جب آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے وہ درخت مجھ کو دے دئیے۔
ام ایمن آئیں اورمیرے گلے پڑ گئیں، کہنے لگیں وہ درخت تو میں تجھ کو کبھی نہیں دوں گی۔
آنحضرت ﷺ ان کو سمجھانے لگے۔
ام ایمن تو ان کے بدلے اتنے درخت لے لے۔
وہ کہتی رہیں میں ہرگز نہ لوں گی قسم اس خدا کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔
یہاں تک کہ آپ نے دس گنے درخت ان کے بدل دینا قبول کئے (وحیدي)
(1)
جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آئے تو انصار نے بڑی فیاضی سے پیشکش کی کہ اے اللہ کے رسول! ہماری زمینیں اور ہمارے باغ مہاجرین میں تقسیم کر دیں لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کی اجازت نہ دی، آخر یہ طے ہوا کہ مہاجرین باغوں میں محنت کریں گے اور پھل وغیرہ تقسیم کر لیا جائے گا۔
(2)
صحیح مسلم میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ ایک شخص اپنے نخلستان میں سے چند ایک درختوں کا پھل رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتا تھا، جب بنو قریظہ اور بنو نضیر کے باغات آپ کے قبضے میں آئے تو آپ نے دوسروں کے دیے ہوئے درخت واپس کر دیے۔
(صحیح مسلم، الجھاد، حدیث: 4604(1771)
حضرت انس ؓ کہتے ہیں: میرے عزیزوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا تاکہ میں بھی ان درختوں کی واپسی کا مطالبہ کروں جو انہوں نے آپ کو دیے تھے۔
چونکہ آپ نے وہ درخت ام ایمن ؓ کو دیے دیے تھے، اس لیے جب وہ درخت واپس کیے تو ام ایمن ؓ آئیں اور ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگیں میں تو وہ درخت تمہیں واپس نہیں کروں گی، بالآخر رسول اللہ ﷺ نے انہیں دس گنا درخت دے کر راضی کیا۔
(فتح الباري: 301/5)
احمد بن شبیب کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اپنے خاص حصے میں سے ام ایمن ؓ کو درخت عطا فرمائے۔
ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں۔
(1)
عِذَاق: عَذق کی جمع ہے، جس طرح حَبل کی جمع حِبَال ہے، مراد کھجور کے درختوں کا پھل آپ کو بطور عطیہ دینا ہے۔
(2)
مَنَائحَ: منيحة کی جمع ہے، فائدہ اٹھانے کے لیے کسی کو کوئی چیز دے دینا کہ وہ جب اس سے بے نیاز ہو جائے تو واپس کر دے گا۔
(3)
وَصِيفة: لونڈی، باندی۔