صحيح البخاري
كتاب الهبة— کتاب: ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان
بَابُ الاِسْتِعَارَةِ لِلْعَرُوسِ عِنْدَ الْبِنَاءِ: باب: شب عروسی میں دلہن کے لیے کوئی چیز عاریتاً لینا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعَلَيْهَا دِرْعُ قِطْرٍ ثَمَنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ ، فَقَالَتْ : ارْفَعْ بَصَرَكَ إِلَى جَارِيَتِي انْظُرْ إِلَيْهَا ، فَإِنَّهَا تُزْهَى أَنْ تَلْبَسَهُ فِي الْبَيْتِ ، وَقَدْ كَانَ لِي مِنْهُنَّ دِرْعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ بِالْمَدِينَةِ ، إِلَّا أَرْسَلَتْ إِلَيَّ تَسْتَعِيرُهُ " .´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ` میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ قطر ( یمن کا ایک دبیز کھردرا کپڑا ) کی قمیص قیمتی پانچ درہم کی پہنے ہوئے تھیں ۔ آپ نے ( مجھ سے ) فرمایا ۔ ذرا نظر اٹھا کر میری اس لونڈی کو تو دیکھ ۔ اسے گھر میں بھی یہ کپڑے پہننے سے انکار ہے ۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میرے پاس اسی کی ایک قمیص تھی ۔ جب کوئی لڑکی دلہن بنائی جاتی تو میرے یہاں آدمی بھیج کر وہ قمیص عاریتاً منگا لیتی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس سے کپڑوں کا عاریتاً لے جانا ثابت ہوا۔
(1)
مقصد یہ ہے کہ شادی کی پہلی رات کے لیے کسی سے ادھار لباس لینا باعث ملامت نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں بھی یہ سلسلہ رائج تھا کہ ہنگامی صورت کے پیش نظر لباس ادھار لیا جاتا تھا۔
(2)
اس حدیث میں حضرت عائشہ ؓ کی تواضع اور انکساری کا بھی پتہ چلتا ہے، نیز ہمارے ہاں شادی کی پہلی رات کے لیے ہزاروں اور لاکھوں روپے کا لباس تیار کیا جاتا ہے، اس حدیث کے پیش نظر یہ مستحسن اقدام نہیں بلکہ وقتی ضرورت کے لیے کسی سے ادھار لے لیا جائے۔
اگر مستقل کوئی لباس تیار کرنا ہے تو وہ گراں بھی نہ ہو اور زیادہ بھاری بھر کم بھی نہیں ہوتا کہ وہ آئندہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہو، وہ صرف صندوق کی زینت بن کر نہ رہ جائے۔