حدیث نمبر: 2628
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعَلَيْهَا دِرْعُ قِطْرٍ ثَمَنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ ، فَقَالَتْ : ارْفَعْ بَصَرَكَ إِلَى جَارِيَتِي انْظُرْ إِلَيْهَا ، فَإِنَّهَا تُزْهَى أَنْ تَلْبَسَهُ فِي الْبَيْتِ ، وَقَدْ كَانَ لِي مِنْهُنَّ دِرْعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ بِالْمَدِينَةِ ، إِلَّا أَرْسَلَتْ إِلَيَّ تَسْتَعِيرُهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ` میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ قطر ( یمن کا ایک دبیز کھردرا کپڑا ) کی قمیص قیمتی پانچ درہم کی پہنے ہوئے تھیں ۔ آپ نے ( مجھ سے ) فرمایا ۔ ذرا نظر اٹھا کر میری اس لونڈی کو تو دیکھ ۔ اسے گھر میں بھی یہ کپڑے پہننے سے انکار ہے ۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میرے پاس اسی کی ایک قمیص تھی ۔ جب کوئی لڑکی دلہن بنائی جاتی تو میرے یہاں آدمی بھیج کر وہ قمیص عاریتاً منگا لیتی تھی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الهبة / حدیث: 2628
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2628. عبدالوحد بن ایمن سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میرے والد (حضرت ایمن) بیان کرتے ہیں کہ میں صدیقہ کائنات حضرت عائشہ ؓ کے ہاں گیا تو انھوں نے روئی کا موٹا کرتا پہن رکھا تھا جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: میری اس لونڈی کی طرف ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھو یہ گھر میں اس قسم کا لباس پہننے سے نفرت کرتی ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں میرے پاس اسی طرح کا ایک کرتا تھا۔ مدینہ طیبہ میں جب بھی کسی عورت کو آراستہ کرنا ہوتا تو وہ مجھے پیغام بھیج کر منگوالیتی تھیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2628]
حدیث حاشیہ: حضرت عائشہ ؓ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ اب ہمارے گھروں میں جس طرح کے کپڑے پہننے سے ہماری باندیوں کو انکار ہے رسول کریم ﷺ کے زمانے میں ہمارے ایسے کپڑے لوگ شادیوں میں استعمال کے لیے عاریتاً لے جایا کرتے تھے۔
اس سے کپڑوں کا عاریتاً لے جانا ثابت ہوا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2628 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2628. عبدالوحد بن ایمن سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میرے والد (حضرت ایمن) بیان کرتے ہیں کہ میں صدیقہ کائنات حضرت عائشہ ؓ کے ہاں گیا تو انھوں نے روئی کا موٹا کرتا پہن رکھا تھا جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: میری اس لونڈی کی طرف ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھو یہ گھر میں اس قسم کا لباس پہننے سے نفرت کرتی ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں میرے پاس اسی طرح کا ایک کرتا تھا۔ مدینہ طیبہ میں جب بھی کسی عورت کو آراستہ کرنا ہوتا تو وہ مجھے پیغام بھیج کر منگوالیتی تھیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2628]
حدیث حاشیہ:
(1)
مقصد یہ ہے کہ شادی کی پہلی رات کے لیے کسی سے ادھار لباس لینا باعث ملامت نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں بھی یہ سلسلہ رائج تھا کہ ہنگامی صورت کے پیش نظر لباس ادھار لیا جاتا تھا۔
(2)
اس حدیث میں حضرت عائشہ ؓ کی تواضع اور انکساری کا بھی پتہ چلتا ہے، نیز ہمارے ہاں شادی کی پہلی رات کے لیے ہزاروں اور لاکھوں روپے کا لباس تیار کیا جاتا ہے، اس حدیث کے پیش نظر یہ مستحسن اقدام نہیں بلکہ وقتی ضرورت کے لیے کسی سے ادھار لے لیا جائے۔
اگر مستقل کوئی لباس تیار کرنا ہے تو وہ گراں بھی نہ ہو اور زیادہ بھاری بھر کم بھی نہیں ہوتا کہ وہ آئندہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہو، وہ صرف صندوق کی زینت بن کر نہ رہ جائے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2628 سے ماخوذ ہے۔