حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، "أَنَّ بَنِي صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ جُدْعَانَ ادَّعَوْا بَيْتَيْنِ وَحُجْرَةً ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى ذَلِكَ صُهَيْبًا ، فَقَالَ مَرْوَانُ : مَنْ يَشْهَدُ لَكُمَا عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالُوا : ابْنُ عُمَرَ ، فَدَعَاهُ ، فَشَهِدَ لَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُهَيْبًا بَيْتَيْنِ وَحُجْرَةً ، فَقَضَى مَرْوَانُ بِشَهَادَتِهِ لَهُمْ " .´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ ابن جدعان کے غلام بنوصہیب نے دعویٰ کیا کہ` دو مکان اور ایک حجرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا تھا ( جو وراثت میں انہیں ملنا چاہئے ) خلیفہ مروان بن حکم نے پوچھا کہ تمہارے حق میں اس دعویٰ پر گواہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ۔ مروان نے آپ کو بلایا تو آپ نے گواہی دی کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب رضی اللہ عنہ کو دو مکان اور ایک حجرہ دیا تھا ۔ مروان نے آپ کی گواہی پر فیصلہ ان کے حق میں کر دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
گواہ کتنا ہی معتبر ہو۔
مروان نے عبداللہ بن عمر ؓ کی شہادت لی ہوگی اور مدعیوں سے قسم، ایک گواہ اور ایک مدعی کی قسم پر فیصلہ کرنا جائز ہے۔
اہل حدیث، شافعی، احمد اور اکثر علماء کا یہی قول ہے، حنفیہ اس کو جائز نہیں رکھتے۔
(1)
اس مقدمے میں کسی کا دوسرے پر دعویٰ نہیں تھا کہ ایک گواہ سے مقدمے کا فیصلہ کیسے کر دیا گیا؟ بلکہ یہاں صرف حقیقت حال معلوم کرنا تھی، جس کا اظہار ہو گیا۔
(2)
واضح رہے کہ اس باب کا کوئی عنوان نہیں بلکہ یہ عنوانِ سابق کا تتمہ ہے۔
مناسبت اس طرح ہے کہ اس میں حضرت صہیب ؓ پر صدقے اور ہبے کا ذکر ہے، جب رسول اللہ ﷺ کا عطیہ ثابت ہو گیا تو مروان نے یہ سوال نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے رجوع تو نہیں فرمایا؟ کیونکہ ہبہ میں رجوع کا امکان نہیں ہوتا۔
ممکن ہے کہ پیش کردہ حدیث سے یہ مسئلہ ثابت کرنا ہو کہ جب موہوب لہ فوت ہو جائے تو بالاتفاق اس سے رجوع حرام ہے۔
واللہ أعلم