صحيح البخاري
كتاب الهبة— کتاب: ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان
بَابُ قَبُولِ الْهَدِيَّةِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ: باب: مشرکین کا ہدیہ قبول کر لینا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : "كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ ؟ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ ، فَعُجِنَ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً ، قَالَ : لَا ، بَلْ بَيْعٌ ، فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً ، فَصُنِعَتْ ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى ، وَايْمُ اللَّهِ مَا فِي الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا ، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ ، فَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ ، فَأَكَلُوا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا ، فَفَضَلَتِ الْقَصْعَتَانِ ، فَحَمَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ " .´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ہم ایک سو تیس آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ایک سفر میں ) تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا کسی کے ساتھ کھانے کی بھی کوئی چیز ہے ؟ ایک صحابی کے ساتھ تقریباً ایک صاع کھانا ( آٹا ) تھا ۔ وہ آٹا گوندھا گیا ۔ پھر ایک لمبا تڑنگا مشرک پریشان حال بکریاں ہانکتا ہوا آیا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ بیچنے کے لیے ہیں ۔ یا کسی کا عطیہ ہے یا آپ نے ( عطیہ کی بجائے ) ہبہ فرمایا ۔ اس نے کہا کہ نہیں بیچنے کے لیے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی پھر وہ ذبح کی گئی ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی بھوننے کے لیے کہا ۔ قسم اللہ کی ایک سو تیس اصحاب میں سے ہر ایک کو اس کلیجی میں سے کاٹ کے دیا ۔ جو موجود تھے انہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہی دے دیا اور جو اس وقت موجود نہیں تھے ان کا حصہ محفوظ رکھ لیا ۔ پھر بکری کے گوشت کو دو بڑی قابوں میں رکھا گیا اور سب نے خوب سیر ہو کر کھایا ۔ جو کچھ قابوں میں بچ گیا تھا اسے اونٹ پر رکھ کر ہم واپس لائے ۔ او کما قال ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مشرک سے پوچھا: ’’تم یہ بکریاں بطور ہدیہ لائے ہو یا انہیں فروخت کرنے کا ارادہ ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرک کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔
اگر ناجائز ہوتا تو آپ اس کے متعلق دریافت کیوں کرتے؟ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے دل میں رحم آ جاتا ہے اور اس میں طمع اور لالچ کے جذبات نہیں ہوتے، مسلمانوں کا قافلہ دیکھ کر ممکن ہے کہ مشرک کو خیال آئے، اس موقع پر کچھ ہدیہ پیش کرنا چاہیے، اس بنا پر رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ ہدیہ لائے ہو یا فروخت کرنے کا ارادہ ہے۔
(2)
اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دل میں کوئی طمع تھی، البتہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے مشرکین کے ہدایا قبول کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الخراج، حدیث: 3057)
اس میں تطبیق یوں ہے کہ آپ ان مشرکین کا ہدیہ قبول کرتے تھے جن سے ایمان کی توقع ہوتی تھی، اور جس ہدیے میں مشرکین سے دوستی بڑھانا مقصود ہو تو وہ جائز نہیں۔
بہرحال امام بخاری ؒ نے ان احادیث سے ثابت کیا ہے کہ کفار و مشرکین سے ہدایا قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ حالات سازگار ہوں، سیاسی اور معاشرتی طور پر کوئی پیچیدگی نہ ہو، البتہ اس مشرک کا ہدیہ قبول کرنا منع ہے جو دوستی اور محبت کی بنا پر ہو جس سے محبت اور تعلقات بڑھانا مقصود ہو۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 284/5)
(فتح)
یعنی کفار سے معاملہ داری کرنا جائز ہے مگر ایسا معاملہ درست نہیں جس سے وہ اہل اسلام کے ساتھ جنگ کرنے میں مدد پاسکیں۔
اور اس حدیث کی رو سے کافر کی بیع کو نافذ ماننا بھی ثابت ہوا۔
اور یہ بھی کہ اپنے مال کا وہ اسلامی قانون میں مالک ہی مانا جائے گا اور اس حدیث سے کافر کا ہدیہ قبول کرنا بھی جائز ثابت ہوا۔
یہ جملہ قانونی امور ہیں جن کے لیے اسلام میں ہر ممکن گنجائش رکھی گئی ہے۔
مسلمان جب کہ ساری دنیا میں آباد ہیں، ان کے بہت سے لین دین کے معاملات غیر مسلموں کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں۔
لہٰذا ان سب کو قانونی صورتوں میں بتلایا گیا اور اس سلسلہ میں بہت فراخدلی سے کام لیا گیا ہے جو اسلام کے دین فطرت اور عالمگیر مذہب ہونے کی واضح دلیل ہے۔
(1)
اس عنوان کا مقصد یہ ہے کہ مشرکین اور اہل حرب کے ساتھ معاملہ اس عالم رنگ وبو کے باشندوں کی حیثیت سے ان کے حقوق تسلیم کرتے ہوئے کیا جائے گا۔
ہاں، اگر ان سے جنگ کی نوبت آجائے تو ان کے لیے اسلام کا ایک جداگانہ ضابطہ ہے۔
اہل ذمہ اور اہل صلح کے لیے الگ الگ قاعدے ہیں۔
ان کا مال ہمارے اہل اسلام کے مال کی طرح اور ان کا خون ہمارے خون کی طرح محترم ہے۔
مشرک یا کافر کی اہل شرک یا اہل کفر ہونے کی حیثیت سے ان کی گردن مارنے کی اجازت نہیں ہے۔
بہر حال مشرکین وکفار کے بھی حقوق ہیں۔
وہ بھی حق ملکیت رکھتے ہیں،ان سے خریدوفروخت کی جاسکتی ہے لیکن انتہا پسندوں کے خیال کے مطابق مشرک اور کافر جس حالت میں بھی ہو اس کا خون حلال اور مال و آبرو جائز ہے۔
بہر حال اسلام نے کفار ومشرکین کا انسان ہونے کے ناتے سے خیال رکھا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک مشرک سے بکری خریدی جبکہ ہمارے دور کے انتہا پسندوں کے ہاں ایسے حالات میں شاید بکریوں کے ریوڑ کو ذبح کردینا جائز ہو۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: کفار سے معاملہ داری کرنا جائز ہے مگر ایسا معاملہ درست نہیں جس سے وہ اہل اسلام کے خلاف جنگ کرنے میں مدد حاصل کرسکیں، نیز کافر کی خریدوفروخت صحیح ہے اور وہ اسلامی قانون کے اعتبار سے اپنے اموال کا مالک تسلیم کیا جائے گا۔
اس حدیث کی رو سے کافر سے ہدیہ قبول کرنا بھی جائز ثابت ہوا۔
(فتح الباري: 815/4)
واضح رہے کہ مذکورہ روایت انتہائی مختصر ہے، تفصیلی روایت آئندہ بیان ہوگی۔
(صحیح البخاري، الھبة، حدیث: 2618)
(1)
ابن بطال نے کہا ہے کہ اس حدیث سے پیٹ بھر کر کھانا ثابت ہوتا ہے اگرچہ کبھی کبھار بھوک برداشت کرنا افضل ہے۔
بہرحال پیٹ بھر کر کھانا اگرچہ مباح ہے لیکن اس کی ایک حد ہے، جب اس حد سے تجاوز ہو تو اسراف و فضول خرچی ہو گی۔
صرف اس حد تک کھائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مددگار ثابت ہو اور اس سے جسم بوجھل نہ ہو جو اللہ کی عبادت سے رکاوٹ کا باعث بنے۔
(فتح الباري: 654/9) (2)
ہمارے رجحان کے مطابق پیٹ بھر کے کھانے کی حد یہ ہے کہ پیٹ کے تین حصے ہوں: ایک حصہ کھانے کے لیے، ایک پینے کے لیے اور ایک سانس کی آمد و رفت کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
اگر یہ معمول بنا لیا جائے تو انسان توانا و تندرست رہے گا۔
(1)
مشحان: پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والا، دراز قد جیسا کہ راوی نے تفسیر کی ہے۔
(2)
حزة: ٹکڑا، حصہ۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرک کے ساتھ خرید و فروخت کرنا جائز ہے اور اس سے تحفہ بھی قبول کیا جا سکتا ہے، اور اس سے آپ کے معجزہ کا اظہار ہو رہا ہے کہ آپ نے ایک بکری کی کلیجی کو ایک سو تیس آدمیوں میں تقسیم فرمایا اور وہ سب ایک بکری کے گوشت سے سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا، جبکہ آٹا صرف ایک صاع (ڈھائی کلو یا بقول احناف چار کلو)
تھا، جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کھانا اکٹھے کھانا باعث برکت ہے، کیونکہ اتفاق و اتحاد میں برکت ہے۔