حدیث نمبر: 2610
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَكَانَ عَلَى بَكْرٍ لِعُمَرَ صَعْبٍ ، فَكَانَ يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُ أَبُوهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَا يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِعْنِيهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : هُوَ لَكَ ، فَاشْتَرَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا عمرو سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` وہ سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے ۔ وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ جایا کرتا تھا ۔ اس لیے ان کے والد ( عمر رضی اللہ عنہ ) کو تنبیہ کرنی پڑتی تھی کہ اے عبداللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کسی کو نہ ہونا چاہئے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! کہ عمر ! اسے مجھے بیچ دے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہ تو آپ ہی کا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ۔ پھر فرمایا ، عبداللہ یہ اب تیرا ہے ۔ جس طرح تو چاہے استعمال کر ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الهبة / حدیث: 2610
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2610. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفرمیں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے اور ایک منہ زور اونٹ پر سوار تھے جو حضرت عمر ؓ کا تھا۔ وہ اونٹ بار بار نبی کریم ﷺ سے آگے نکل جاتا تھا تو ان کے والد(حضرت عمر ؓ) انھیں کہتے: عبداللہ! نبی کریم ﷺ سے آگے کوئی نہیں بڑھتا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’اس اونٹ کو میرے ہاتھ فروخت کردو۔‘‘ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: یہ آپ کا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے خرید لیا، پھر آپ نے فرمایا: ’’اے عبداللہ! یہ تمہارا ہے اب اس سے جو چاہو کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2610]
حدیث حاشیہ: مطابقت ظاہر ہے کہ عبداللہ کے ساتھ والے اس اونٹ میں شریک نہیں ہوئے، حضرت امام بخاری ؒ نے اپنی دور رس نظر بصیرت سے اس امر کوثابت فرمایا ہے کہ مجلس میں خواہ کتنے ہی لوگ بیٹھے ہوں، ہدیہ صرف اس کو دیا جائے گا جو اس کا مستحق ہے۔
اسی باریک بینی نے حضرت امام کو یہ مقام عطا فرمایا کہ فن حدیث کی گہرائیوں تک پہنچنا یہ صرف آپ کا حصہ تھا جس کی وجہ سے وہ امیرالمؤمنین فی الحدیث سے مشہور ہوئے۔
اب آپ کے اس خداداد منصب سے کوئی حسد کرتا ہے یا عناد، اس سے انکار کرتا ہے تو وہ کرتا رہے۔
حدیث نبوی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیرفانی قبولیت دی جو تاقیام دنیا قائم رہے گی۔
إن شاءاللہ
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2610 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2610. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفرمیں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے اور ایک منہ زور اونٹ پر سوار تھے جو حضرت عمر ؓ کا تھا۔ وہ اونٹ بار بار نبی کریم ﷺ سے آگے نکل جاتا تھا تو ان کے والد(حضرت عمر ؓ) انھیں کہتے: عبداللہ! نبی کریم ﷺ سے آگے کوئی نہیں بڑھتا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’اس اونٹ کو میرے ہاتھ فروخت کردو۔‘‘ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: یہ آپ کا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے خرید لیا، پھر آپ نے فرمایا: ’’اے عبداللہ! یہ تمہارا ہے اب اس سے جو چاہو کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2610]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ ﷺ نے وہ اونٹ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو ہبہ کیا، حالانکہ اور لوگ بھی شریک سفر تھے۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے یہ ثابت کیا ہے کہ شرکائے مجلس ہدیے میں شریک نہیں ہوں گے، خواہ وہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں۔
ہدیے کا حق دار وہی شخص ہے جسے پیش کیا گیا ہے۔
(2)
ہمارے رجحان کے مطابق جب ہدیہ معین شخص کے لیے ہو تو اس میں شراکت نہیں ہو سکتی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2610 سے ماخوذ ہے۔