صحيح البخاري
كتاب الهبة— کتاب: ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان
بَابُ هِبَةِ الْمَرْأَةِ لِغَيْرِ زَوْجِهَا: باب: اگر عورت اپنے خاوند کے سوا اور کسی کو کچھ ہبہ کرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً ، وَلَمْ تَسْتَأْذِنْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُهَا الَّذِي يَدُورُ عَلَيْهَا فِيهِ ، قَالَتْ : أَشَعَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي أَعْتَقْتُ وَلِيدَتِي ، قَالَ : أَوَفَعَلْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا إِنَّكِ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ " . وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ : عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، إِنَّ مَيْمُونَةَ أَعْتَقَتْ .´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، ان سے لیث نے ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے بکیر نے ، ان سے ابن عباس کے غلام کریب نے اور انہیں ( ام المؤمنین ) میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ` انہوں نے ایک لونڈی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیے بغیر آزاد کر دی ۔ پھر جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باری آپ کے گھر آنے کی تھی ، انہوں نے خدمت نبوی میں عرض کیا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو معلوم بھی ہوا ، میں نے ایک لونڈی آزاد کر دی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا تم نے آزاد کر دیا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں ! فرمایا کہ اگر اس کے بجائے تم نے اپنے ننھیال والوں کو دی ہوتی تو تمہیں اس سے بھی زیادہ ثواب ملتا ۔ اس حدیث کو بکیر بن مضر نے عمرو بن حارث سے ، انہوں نے بکیر سے ، انہوں نے کریب سے روایت کیا کہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ۔ اخیر تک ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں: ایک تو رسول اللہ ﷺ کی عدم موجودگی میں لونڈی آزاد کرنا، امام بخاری ؒ کا یہی مقصود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے باطل قرار نہیں دیا بلکہ اسے برقرار رکھتے ہوئے ایک بہتر کام کی طرف رہنمائی کی ہے اور دوسری صلہ رحمی کرنا کیونکہ آپ نے فرمایا: ’’صلہ رحمی کا ثواب اسے آزاد کرنے سے زیادہ ہوتا۔
‘‘ اس مقام پر ہدیہ نہیں صلہ رحمی ہے۔
حدیث میں ہے: ’’مسکین پر صدقہ کرنا تو صرف صدقہ ہے لیکن رشتے دار کے ساتھ دست تعاون بڑھانا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔
‘‘ (فتح الباري: 269/5، و سنن النسائي، الزکاة، حدیث: 2583) (2)
دراصل امام بخاری ؒ ایک حدیث کے ناقابل استدلال ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ خاوند کی اجازت کے بغیر بیوی کا عطیہ نافذ نہیں ہو گا۔
(سنن أبي داود، البیوع، حدیث: 3547)
امام مالک نے ان دونوں احادیث میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ایک تہائی سے کم اجازت کے بغیر ہبہ کر سکتی ہے لیکن اس سے زیادہ اگر ہبہ کرنا ہو تو خاوند سے اجازت لینا ہو گی۔
(فتح الباري: 268/5) (3)
امام بخاری ؒ نے حدیث میمونہ کے بعد جو تعلیق ذکر کی ہے اس کے دو مقاصد ہیں: محمد بن اسحاق جب یہ روایت بکیر سے بیان کرتے ہیں تو بکیر عن سلیمان بن یسار کے طریق کا ذکر کرتے ہیں جبکہ مذکورہ روایت میں یزید جب بکیر سے بیان کرتے ہیں تو "بکیر عن کریب" بیان کرتے ہیں۔
امام بخاری ؒ بتانا چاہتے ہیں کہ عمرو بھی یزید کی متابعت کرتے ہوئے اسے بکیر عن کریب ہی بیان کرتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔
دوسری بات یہ ذکر کی کہ عمرو بیان کرتے ہیں تو مرسل ذکر کرتے ہیں، یعنی ان کی روایت میں کریب کا انداز یوں ہے کہ انہوں نے خود واقعے کا مشاہدہ کیا۔
(فتح الباري: 270/5)
اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا عورت اپنا مال خاوند کو بتائے بغیر بھی خرچ کر سکتی ہے اگرچہ بہتر یہ ہے کہ اس کو اعتماد میں لے۔