حدیث نمبر: 2566
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عاصم بن علی ابوالحسین نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے مسلمان عورتو ! ہرگز کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے ( معمولی ہدیہ کو بھی ) حقیر نہ سمجھے ، خواہ بکری کے کھر کا ہی کیوں نہ ہو ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الهبة / حدیث: 2566
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6017 | صحيح مسلم: 1030 | بلوغ المرام: 797

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2566. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اے مسلمان بیبیو!کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے بکری کاکھر بھی ہوتوا سے حقیر خیال نہ کرے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2566]
حدیث حاشیہ: جس پر بہت ہی ذرا سا گوشت ہوتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اپنی ہمسائی کا ہدیہ خوشی سے قبول کرے، اس کے لینے سے ناک بھوں نہ چڑھائے۔
نہ زبان سے کوئی ایسی بات نکالے جس سے اس کی حقارت نکلے۔
کیوں کہ ایسا کرنے سے اس کے دل کو رنج ہوگا اور کسی مسلمان کا دل دکھانا بڑا گناہ ہے۔
حدیث سے باب کا مطلب یوں نکلا کہ اپنے پڑوس والوں کو تحفہ تحائف پیش کرنا سنت ہے گو وہ کم قیمت ہی کیوں نہ ہو۔
روایت میں بکری کے کھر کا ذکر ہے جو بیکار جان کر پھینک دیا جاتا ہے۔
اس کا ذکر ہدیہ کی کم قیمتی کے ظاہر کرنے کے لیے کیاگیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2566 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2566. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اے مسلمان بیبیو!کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے بکری کاکھر بھی ہوتوا سے حقیر خیال نہ کرے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2566]
حدیث حاشیہ:
(1)
مطلب یہ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا تحفہ، خواہ کتنا حقیر معلوم ہو اپنی پڑوسن کو بھیجنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
بسا اوقات تحفہ دینے کے لیے کوئی چیز موجود ہوتی ہے لیکن خیال آ جاتا ہے کہ یہ تو حقیر چیز ہے اسے دینے کا کیا فائدہ، یہ خیال غلط ہے۔
اسی طرح جس کے پاس چھوٹا سا تحفہ بھیجا جائے وہ خوش دلی سے قبول کرے کیونکہ تحائف کے تبادلے سے خوشگوار ماحول پیدا ہوتا ہے۔
(2)
بکری کے کھر سے مراد کسی چیز کے معمولی ہونے میں مبالغہ ہے کیونکہ عادت کے طور پر کھر کا ہدیہ نہیں بھیجا جاتا۔
بہرحال جو بھی شے موجود ہو اپنی پڑوسن کو بھیجے اور قلیل ہونے کے باعث اس کو حقیر خیال نہ کرے کیونکہ سخاوت موجود چیز کی ہوتی ہے تھوڑی سی خیرات کرنا بالکل نہ کرنے سے بہتر ہے۔
(فتح الباري: 345/5)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2566 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6017 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6017. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے: اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پروسن کے لیے معمولی اور حقیر خیال نہ کرے اگرچہ بکری کی کھری کا ہدیہ ہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6017]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کے دومعنی ہیں: ٭کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو ہدیہ دینے میں حقیر خیال نہ کرے اگرچہ وہ بکری کا پایہ ہو، اور اسے خوش رکھنے کی کوشش کرے۔
٭کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن سے ہدیہ لینے میں حقیر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کا پایہ ہو، اسے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
مقصد یہ ہے کہ ہدیہ دینے لینے کا تبادلہ ہوتا رہنا چاہیے، اس سے محبت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں اور باہمی بغض وعداوت ختم ہوتی ہے۔
(2)
عورتوں کو اس لیے تلقین کی گئی ہے کہ ان کےجذبات بہت جلد متأثر ہو جاتے ہیں اور ان کا آبگینۂ محبت بہت جلد چور چور ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 547/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6017 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1030 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ ’’اے مسلمان عورتو! پڑوسن پڑوسن کے لیے تحفہ حقیر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کا کھر ہی ہو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2379]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
ایک دوسرے کے معمولی اور کم تحفہ کو حقیر خیال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ مقصود تو دلی محبت و پیار اور تعلق کا اظہار ہے کہ معمولی چیز کے وقت بھی یاد رکھا بڑی چیز کی صورت کیونکر نظرانداز کرے گا۔
(2)
کوفی نحویوں کے نزدیک نساء المسلمات میں نساء موصوف اور المسلمات صفت ہے اور موصوف کی صفت کی طرف اضافت جائز ہے۔
بصری نحویوں کے نزدیک یہاں موصوف محذوف ہے یعنی: (نساء النفس المسلمات يا إِيْجَاءَاتٌ المسلمات)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1030 سے ماخوذ ہے۔