حدیث نمبر: 2555
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " .
مولانا داود راز

´ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا زہری سے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا ، کہا میں نے ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے سنا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب باندی زنا کرائے تو اسے ( بطور حد شرعی ) کوڑے لگاؤ پھر اگر کرئے تو اسے کوڑے لگاؤ تیسری یا چوتھی بار میں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) پھر اسے بیچ دو ، خواہ قیمت میں ایک رسی ہی ملے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العتق / حدیث: 2555
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2555. حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت زید بن خالد ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جب لونڈی زنا کی مرتکب ہوتو اسے کوڑے لگاؤ۔ پھر بدکاری کرے تو اسے کوڑے مارو۔ پھر حرام کاری کرے تو اسے کوڑے مارو۔‘‘ تیسری بار یا چوتھی بار میں آپ نے فرمایا: ’’اسے فروخت کردو، خواہ قیمت میں ایک رسی ہی ملے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2555]
حدیث حاشیہ: اس حدیث کو اس لیے لائے کہ اس میں لونڈی کے لیے أمة کا لفظ فرمایا ہے۔
قسطلانی نے کہا کہ اس حدیث کے لانے سے یہ مقصود ہے کہ جب لونڈی زنا کرائے تو اس پر دست درازی منع نہیں ہے بلکہ اس کو سزا دینا ضروری ہے آخر میں راوی کا شک ہے کہ آپ نے تیسری بار میں بیچنے کا حکم فرمایا یا چوتھی بار میں۔
ان جملہ روایات کو نقل کرکے حضرت امام ؒ نے ثابت فرمایا کہ مالکوں کو غلاموں اور لونڈیوں پر بڑائی نہ جتانی چاہئے۔
انسان ہونے کے ناطے سب برابر ہیں۔
شرافت اور بڑائی کی بنیاد ایمان اور تقویٰ ہے۔
حقیقی آقا حاکم مالک سب کا صرف اللہ تبارک و تعالی ہے۔
دنیاوی مالک آقا سب مجازی ہیں۔
آج ہیں اور کل نہیں۔
جن آیات اور احادیث میں ایسے الفاظ آقاؤں یا غلاموں کے لیے مستعمل ہوئے ہیں وہاں مجازی معانی مراد ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2555 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2555. حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت زید بن خالد ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جب لونڈی زنا کی مرتکب ہوتو اسے کوڑے لگاؤ۔ پھر بدکاری کرے تو اسے کوڑے مارو۔ پھر حرام کاری کرے تو اسے کوڑے مارو۔‘‘ تیسری بار یا چوتھی بار میں آپ نے فرمایا: ’’اسے فروخت کردو، خواہ قیمت میں ایک رسی ہی ملے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2555]
حدیث حاشیہ:
(1)
ان روایات میں غلام کے لیے لفظ عبد، لونڈی کے لیے أمة اور آقا کے لیے لفظ سید استعمال ہوا ہے، اس طرح مجازی معنوں میں ان الفاظ کا استعمال درست ہے۔
جب حقیقی معنی مراد لیے جائیں تو ان کا استعمال ایسے مواقع پر صحیح نہیں۔
مختلف احادیث میں تطبیق کی یہی صورت ہے جسے امام المحدثین نے بیان کیا ہے، نیز انہوں نے ثابت کیا ہے کہ آقاؤں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر قطعاً بڑائی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔
انسان ہونے کے ناتے سے سب برابر اور حضرت آدم ؑ کی اولاد ہیں، شرافت اور بڑائی، نیز عزت و تکریم کی بنیاد تقویٰ اور پرہیزگاری ہے جیسا کہ قرآن مجید نے اس کی صراحت کی ہے۔
(2)
حقیقی آقا اور حاکم و مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
دنیاوی مالک اور آقا سب مجازی ہیں، آج ہیں تو کل فنا ہو جائیں گے۔
جن آیات اور احادیث میں ایسے الفاظ آقاؤں یا غلاموں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، وہاں مجازی معنی مراد ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2555 سے ماخوذ ہے۔