حدیث نمبر: 2551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَمْلُوكُ الَّذِي يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ ، وَيُؤَدِّي إِلَى سَيِّدِهِ الَّذِي لَهُ عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ وَالنَّصِيحَةِ وَالطَّاعَةِ لَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، انہوں نے برید بن عبداللہ سے ، وہ ابوبردہ سے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” غلام جو اپنے رب کی عبادت احسن طریق کے ساتھ بجا لائے اور اپنے آقا کے جو اس پر خیر خواہی اور فرماں برداری ( کے حقوق ہیں ) انہیں بھی ادا کرتا رہے ، تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العتق / حدیث: 2551
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2551. حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اس غلام کے لیے دوہرا اجر ہے جو اپنے رب کی عبادت بھی خوش اسلوبی سے کرتاہے اوراپنے آقا کاوہ حق بھی ادا کرتا ہے جو اس کے ذمے ہے، نیز اس کی خیر خواہی اور فرمانبرداری کرتا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2551]
حدیث حاشیہ: یہ اس لیے کہ اس نے دو فرض ادا کئے۔
ایک اللہ کی عبادت کا فرض ادا کیا۔
دوسرے اپنے آقا کی اطاعت کی جو شرعاً اس پر فرض تھی اس لیے اس کو دوگنا ثواب حاصل ہوا۔
(فتح)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2551 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2551. حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اس غلام کے لیے دوہرا اجر ہے جو اپنے رب کی عبادت بھی خوش اسلوبی سے کرتاہے اوراپنے آقا کاوہ حق بھی ادا کرتا ہے جو اس کے ذمے ہے، نیز اس کی خیر خواہی اور فرمانبرداری کرتا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2551]
حدیث حاشیہ:
ان احادیث میں غلام کے لیے لفظ "عبد" اور آقا کے لیے لفظ "سید" استعمال ہوا ہے، احادیث لانے کا یہی مقصد ہے کہ جس حدیث میں ممانعت ہے وہ تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے، یعنی بہتر ہے ایسے الفاظ کے استعمال سے بچا جائے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2551 سے ماخوذ ہے۔