صحيح البخاري
كتاب العتق— کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں
بَابُ الْعَبْدِ إِذَا أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ سَيِّدَهُ: باب: جب غلام اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کی خیر خواہی بھی تو اس کے ثواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الصَّالِحِ أَجْرَانِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّي ، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ " .´ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو یونس نے خبر دی ، انہوں نے زہری سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو اور نیکو کار ہو تو اسے دو ثواب ملتے ہیں ۔ “ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد ، حج اور والدہ کی خدمت ( کی روک ) نہ ہوتی تو میں پسند کرتا کہ غلام رہ کر مروں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسی طرح اپنی ماں کی خدمت بھی آزادی کے ساتھ نہیں کرسکتا۔
اس لیے اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو میں آزادی کی نسبت کسی کا غلام رہنا زیادہ پسند کرتا۔
قال ابن بطال هو من قول أبي هریرة و کذلك قاله الداودي وغیرہ أنه مدرج في الحدیث و قد صرح بالإدراج الإسماعیلي من طریق آخر عن عبداﷲ بن المبارك بلفظ والذي نفس أبي هریرة بیدہ الخ و صرح مسلم أیضا بذلك۔
(حاشیہ بخاری)
یعنی یہ قول حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کا ہے۔
عبداللہ بن مبارک سے صراحتاً یہ آیا ہے اور مسلم میں بھی یہ صراحت موجود ہے۔
واللہ أعلم
1۔
اس حدیث پر ایک اعتراض ہے کہ رسول اللہﷺ کی والدہ ماجدہ تو رسول اللہﷺ کی صغر سنی ہی میں وفات پا گئی تھیں تو حدیث کے مطابق اپنی ماں سے نیکی کرنے کے کیا معنی ہیں؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ مذکورہ کلام رسول اللہﷺ کا نہیں بلکہ یہ حضرت ابو ہریرہؓ کا مقولہ ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’نیک اور صالح غلام کو دوہرا اجر ملتا ہے‘‘ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابو ہریرہ کی جان ہے! اگر اللہ کی راہ میں جہاد اور حج نہ ہوتا، نیز والدہ سے نیک کرنا ضروری نہ ہوتا تو میری خواہش یہی تھی کہ میں غلامی میں فوت ہوتا۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 4320(1665)
۔
2۔
حضرت ابو ہریرہؓ کا مطلب ہے کہ غلام پر جہاد فرض نہیں ہے اسی طرح حج کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل نہیں ہے، ماں کی خدمت بھی آزادی سے نہیں کر سکتا، اس لیے اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو میں آزادی کی نسبت کسی کا غلام رہنا پسند کرتا۔
(فتح الباري: 217/5)
رسول اللہ ﷺ نے جہاں آقاؤں کو اپنے لونڈی غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تلقین فرمائی ہے وہاں لونڈی غلاموں سے توقع رکھی ہے کہ وہ اسلامی فرائض کی ادائیگی کے بعد اپنے آقاؤں کی خیرخواہی کو اہم فریضہ خیال کریں، ان کے ساتھ وفاداری کریں اور انہیں تکلیف پہنچانے کا تصور تک نہ کریں۔
اگر وہ ان تعلیمات پر عمل کریں گے تو اللہ کے ہاں دوگنا اجر پائیں گے۔
ایسے غلاموں کی رسول اللہ ﷺ نے تعریف کی ہے جیسا کہ حدیث مذکور میں ہے۔
واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان کے لیے کیا ہی اچھا ہے کہ اپنے رب کی اطاعت کریں اور اپنے مالک کا حق ادا کریں “، آپ کے اس فرمان کا مطلب لونڈی و غلام سے تھا ۱؎۔ کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1985]
وضاحت:
1؎:
گویا وہ غلام اور لونڈی جو رب العالمین کی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے مالک کے جملہ حقوق کو اچھی طرح سے ادا کریں ان کے لیے دوگنا ثواب ہے، ایک رب کی عبادت کا دوسرا مالک کا حق اداکرنے کا۔