حدیث نمبر: 2489
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرُنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ جَمِيعًا حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ۔ انہوں نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کوئی شخص اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ( دستر خوان پر ) دو دو کھجور ایک ساتھ ملا کر کھائے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشركة / حدیث: 2489
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2045 | سنن ترمذي: 1814 | سنن ابن ماجه: 3331

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2045 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر دو کھجوریں ملا کر کھائے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5335]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کے موقوف (اپنا قول)
اور مرفوع (آپ کی طرف منسوب)
دونوں طرح ثابت ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے، دانے دار اشیاء جن کو ایک ایک کر کے اور ملا کر کھایا جاتا ہے، ان کو ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ملا کر کھانا جائز نہیں ہے، یا کم از کم ادب اور وقار کے منافی ہے، لیکن آج کل ان اخلاقی ہدایات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا جاتا اور کھانوں میں اسلامی شریعت کی ہدایات کی بجائے مغربی تہذیب کی پابندی کی جاتی ہے اور اس پر بڑا خوش ہوا جاتا ہے کہ ہم بڑے مہذب اور شائستہ لوگ ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2045 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1814 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دو دو کھجور ایک لقمے میں کھانے کی کراہت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کر لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1814]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایسا وہ کرے گا جو کھانے کے سلسلہ میں بے انتہا حریص اور لالچی ہو، اور جسے ساتھ میں دوسرے کھانے والوں کا بالکل لحاظ نہ ہو، اس لیے اس طرح کے حرص اور لالچ سے دور رہنا چاہیئے، خاص طور پر جب کھانے کی مقدار کم ہو، یہ ممانعت اجتماعی طور پر کھانے کے سلسلہ میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1814 سے ماخوذ ہے۔