حدیث نمبر: 2485
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَنَنْحَرُ جَزُورًا فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ، فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے اوزاعی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوالنجاشی نے بیان کیا کہا کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھ کر اونٹ ذبح کرتے تو انہیں دس حصوں میں تقسیم کرتے اور پھر سورج غروب ہونے سے پہلے ہی ہم اس کا پکا ہوا گوشت بھی کھا لیتے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشركة / حدیث: 2485
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 625

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2485. حضرت رافع بن خدیج ؓ سےروایت ہے، انھوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ نماز عصر پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کرتے اور اس کے گوشت کو دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا۔ پھر ہم غروب آفتاب سے پہلے پہلے پکا ہوا گوشت بھی کھالیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2485]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے نکلتا ہے کہ آپ ﷺ عصر کی نماز ایک مثل پر پڑھا کرتے تھے ورنہ دو مثل سایہ پرجو کوئی عصر کی نماز پڑھے گا تو اتنے وقت میں اس کے لیے یہ کام پورا کرنا مشکل ہے۔
اس حدیث سے باب کا مطلب یوں نکلتا ہے کہ اونٹ کا گوشت یونہی اندازے سے تقسیم کیا جاتاتھا۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2485 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2485. حضرت رافع بن خدیج ؓ سےروایت ہے، انھوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ نماز عصر پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کرتے اور اس کے گوشت کو دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا۔ پھر ہم غروب آفتاب سے پہلے پہلے پکا ہوا گوشت بھی کھالیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2485]
حدیث حاشیہ:
(1)
گوشت وغیرہ وزن سے تولا جاتا ہے لیکن اس حدیث کے مطابق اسے دس حصوں میں اندازے سے تقسیم کر دیا جاتا تھا۔
یہ بھی ایک قیاسی وزن تھا۔
عرف میں ایسا کرنا جائز ہے کہ ایک وزنی چیز دوسری شکل میں تقسیم کر دی جائے۔
(2)
اس روایت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عصر اور مغرب کے درمیان اتنا وقت ہوتا تھا کہ اونٹ ذبح ہوتا، اس کا گوشت بنا کر دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا، پھر اسے مغرب سے پہلے پکا کر کھا لیا جاتا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں نماز عصر ایک مثل سایہ ہونے پر پڑھی جاتی تھی، اگر دو مثل سایہ ہونے پر اسے ادا کیا جاتا تو اتنے وقت میں مذکورہ کام انتہائی مشکل تھا۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2485 سے ماخوذ ہے۔