حدیث نمبر: 2453
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ ، فَذَكَرَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا سَلَمَةَ ، اجْتَنِبِ الْأَرْضَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے حسین نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کہ مجھ سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ` ان کے اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان ( زمین کا ) جھگڑا تھا ۔ اس کا ذکر انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے بتلایا ، ابوسلمہ ! زمین سے پرہیز کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر کسی شخص نے ایک بالشت بھر زمین بھی کسی دوسرے کی ظلم سے لے لی تو سات زمینوں کا طوق ( قیامت کے دن ) اس کے گردن میں ڈالا جائے گا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب المظالم والغصب / حدیث: 2453
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3195 | صحيح مسلم: 1612 | معجم صغير للطبراني: 932

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2453. حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ان کے اور کچھ لوگوں کے درمیان ایک جھگڑا تھا۔ حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے اس کا ذکر کیا گیاتو انھوں نے فرمایا: ابو سلمہ!زمین کے معاملے میں اجتناب کرو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اگر کسی نے ایک بالشت کے برابر بھی کسی کی زمین ہڑپ کی تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائےگا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2453]
حدیث حاشیہ: چوں کہ زمینوں کے سات طبق ہیں۔
اس لیے ظلم سے حاصل کی ہوئی زمین سات طبقوں تک طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالی جائے گی۔
زمین کے سات طبق کتاب و سنت سے ثابت ہیں۔
ان کا انکار کرنے والا قرآن و حدیث کا منکر ہے۔
تفصیلات کا علم اللہ کوہے۔
﴿وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ﴾ (المدثر: 31)
امام شوکانی ؒفرماتے ہیں: و فیه أن الأرضین السبع أطباق کالسموات و هو ظاهر قوله تعالیٰ و من الأرض مثلهن خلافا لمن قال إن المراد بقوله سبع أرضین سبعة أقالیم۔
(نیل)
یعنی اس سے ثابت ہوا کہ آسمانوں کی طرح زمینوں کے بھی سات طبق ہیں جیسا کہ آیت قرآنی و منَ الأَرضِ مثلهُن میں مذکور ہے یعنی زمینیں بھی ان آسمانوں ہی کے مانند ہیں۔
اس میں ان کی بھی تردید ہے جو سات زمینوں سے ہفت اقلیم مراد لیتے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2453 سے ماخوذ ہے۔