صحيح البخاري
كتاب الخصومات— کتاب: نالشوں اور جھگڑوں کے بیان میں
بَابُ الْمُلاَزَمَةِ: باب: قرض داروں کے ساتھ رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَقَالَ غَيْرُهُ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ دَيْنٌ ، فَلَقِيَهُ ، فَلَزِمَهُ ، فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا ، فَمَرَّ بِهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا كَعْبُ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ ، فَأَخَذَ نِصْفَ مَا عَلَيْهِ ، وَتَرَكَ نِصْفًا .´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، اور یحییٰ بن بکیر کے علاوہ نے بیان کیا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے ، ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے ، اور ان سے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ پر ان کا قرض تھا ، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان کا پیچھا کیا ۔ پھر دونوں کی گفتگو تیز ہونے لگی ۔ اور آواز بلند ہو گئی ۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے کعب ! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے گویا یہ فرمایا کہ آدھے قرض کی کمی کر دے ۔ چنانچہ انہوں نے آدھا لے لیا اور آدھا قرض معاف کر دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
آنحضرت ﷺ نے آدھا قرض معاف کرنے کی سفارش فرمائی، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مقروض اگر تنگ دست ہے تو قرض خواہ کو چاہے کہ کچھ معاف کردے، نیک کام کے لیے سفارش کرنا بھی ثابت ہوا۔
(1)
عنوان میں ملازمت کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس کے معنی نوکری کرنا نہیں بلکہ کسی کے پیچھے پڑنا اور نگرانی کرنا ہیں۔
آپ نے کسی سے کچھ لینا ہے تو آپ اس کا تعاقب کر سکتے ہیں، اسے اپنی نگرانی میں لے سکتے ہیں، چنانچہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مقروض کو پابند کیا جا سکتا ہے۔
اگر یہ کام ناجائز ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اس سے منع فرما دیتے۔
آپ ﷺ کا اس کے متعلق انکار نہ کرنا اس کے جواز کی دلیل ہے۔
ہاں اگر مقروض غریب اور نادار ہو تو اس کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے۔
اسے نگرانی میں لینے کے بجائے اسے مزید مہلت دی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر اس کی تلقین فرمائی ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نیک کام کے لیے سفارش کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے قرض معاف کر دینے کی سفارش کی تھی۔