صحيح البخاري
كتاب الخصومات— کتاب: نالشوں اور جھگڑوں کے بیان میں
بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الإِشْخَاصِ وَالْخُصُومَةِ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِ: باب: قرض دار کو پکڑ کر لے جانا اور مسلمان اور یہودی میں جھگڑا ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ جَاءَ يَهُودِيٌّ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، ضَرَبَ وَجْهِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَقَالَ : مَنْ ؟ قَالَ : رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : ادْعُوهُ ، فَقَالَ : أَضَرَبْتَهُ ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ بِالسُّوقِ يَحْلِفُ ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ ، قُلْتُ : أَيْ خَبِيثُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ضَرَبْتُ وَجْهَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ أَمْ حُوسِبَ بِصَعْقَةِ الْأُولَى " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ یحییٰ بن عمارہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی آیا اور کہا کہ اے ابوالقاسم ! آپ کے اصحاب میں سے ایک نے مجھے طمانچہ مارا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کس نے ؟ اس نے کہا کہ ایک انصاری نے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلاؤ ۔ وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے مارا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے بازار میں یہ قسم کھاتے سنا ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر بزرگی دی ۔ میں نے کہا ، او خبیث ! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ! مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو انبیاء میں باہم ایک دوسرے پر اس طرح بزرگی نہ دیا کرو ۔ لوگ قیامت میں بیہوش ہو جائیں گے ۔ اپنی قبر سے سب سے پہلے نکلنے والا میں ہی ہوں گا ۔ لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا پایہ پکڑے ہوئے ہیں ۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہوں گے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا انہیں پہلی بے ہوشی جو طور پر ہو چکی ہے وہی کافی ہو گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
گویا آنحضرت ﷺ کے سامنے اس کی حاضری ہی اس کے حق میں سزا تھی۔
اس حدیث کو اور بھی کئی مقامات پر امام بخاری ؒ نے نقل فرما کر اس سے بہت سے مسائل کا استخراج فرمایا ہے۔
ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی فضیلت جملہ انبیاءو رسل ؑ پر ایسی ہی ہے جیسی فضیلت چاند کو آسمان کے سارے ستاوں پر حاصل ہے۔
اس حقیقت کے باوجود آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ لوگ آپ کی فضیلت بیان کرنے کے سلسلے میں کسی دوسرے نبی کی تنقیص شروع کر دیں۔
آپ نے خود حضرت موسیٰ ؑ کی فضیلت کا اعتراف فرمایا۔
بلکہ ذکر بھی فرمادیا کہ قیامت کے دن میرے ہوش میں آنے سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ عرش کا پایہ پکڑے ہوئے نظر آئیں گے۔
نہ معلوم آپ ان میں سے ہیں جن کا اللہ نے استثناءفرمایا ہے جیسا کہ ارشاد ہے: ﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ﴾ (الزمر: 68)
یعنی قیامت کے دن سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے مگر جن کو اللہ چاہے گا بے ہوش نہ ہوں گے۔
یا پہلے طور پر جو بے ہوشی ان کو لاحق ہو چکی ہے وہ یہاں کام دے دی گی یا آپ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کو اللہ پاک نے محاسبہ سے بری قرار دے دیا ہوگا۔
بہرحال آپ نے اس جزوی فضیلت کے بارے میں حضرت موسیٰ ؑ کی افضیلت کا اعتراف فرمایا۔
اگرچہ یہ سب کچھ محض بطور اظہار انکساری ہی ہے۔
اللہ پاک نے اپنے حبیب ﷺ کو خاتم النبیین کا درجہ بخشا ہے جملہ انبیاء ؑ پر آپ کی افضلیت کے لیے یہ عزت کم نہیں ہے۔
(1)
مطلق فضیلت میں تمام انبیاء ؑ برابر درجہ رکھتے ہیں، البتہ خاص وجوہات اور خصوصیات کی وجہ سے ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے، مثلاً: رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔
آپ سید ولدِ آدم ہیں۔
ایسی خصوصیات میں رسول اللہ ﷺ کو دوسرے انبیاء ؑ پر فضیلت دی جا سکتی ہے، البتہ مطلق فضیلت کا دعویٰ کسی کے لیے نہ کیا جائے، نیز کسی نبی کے لیے ایسی فضیلت نہ ثابت کی جائے جس سے دوسرے نبی کی تنقیص یا توہین ہوتی ہو یا ایسی فضیلت نہ ہو جو باعث فساد بن جائے۔
(2)
اس روایت سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ ایک یہودی مسلمان کے خلاف اسلامی عدالت میں دعویٰ دائر کر سکتا ہے۔
ایسے حالات میں عدالت کو عدل و انصاف کا دامن تھامنا چاہیے۔
مسلمان کی بےجا حمایت سے اجتناب کرنا چاہیے۔
آیت اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
1۔
اس حدیث میں موسیٰ ؑ کا کوہ طور پر بے ہوش ہونے کا ذکر ہے۔
اس کی تفصیل آیت بالا میں بیان ہوچکی ہے۔
اس آیت سے معتزلہ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار نہ دنیا میں ممکن ہے اور نہ آخرت ہی میں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَن تَرَانِي﴾ "تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا" اس میں ہمیشہ کی نفی ہے، لیکن معتزلہ کا یہ مؤقف صحیح احادیث کے خلاف ہے۔
متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن اہل ایمان اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اورجنت میں بھی دیدارالٰہی ہوگا۔
اس نفی روئیت کا تعلق صرف دنیا سے ہے کہ دنیا میں کوئی آنکھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے پر قادر نہیں ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان آنکھوں میں اتنی قوت پیدا فرمادے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جلوے کو برداشت کرسکیں گی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اس روز بہت سے چہرے خوش وخرم ہوں گے اور اپنے رب سے محودیدار ہوں گے۔
" (القیامة: 22: 23: 75)
2۔
اللہ تعالیٰ کے موسیٰ ؑ سے محو کلام ہونے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ بغیر کسی واسطے کے سب زبانوں میں، ان کے لب ولہجے اور الفاظ وحروف میں کلام کرسکتا ہے جبکہ فرقہ جہمیہ اللہ تعالیٰ کے اس طرح کلام کرنے کے منکر ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کے خلاف خیال کرتے ہیں۔
ان کا یہ مؤقف قرآنی آیات اور صحیح احادیث کے خلاف ہے جس کی تفصیل ہم کتاب التوحید میں بیان کریں گے۔
1۔
اس حدیث میں حضرت موسیٰ ؑ کے متعلق وضاحت ہے کہ وہ کوہ طور کے دامن میں بے ہوش ہوئے تھے۔
عنوان میں یہی واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
2۔
اس حدیث میں ایک جزوی فضیلت بیان ہوئی ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے متعلق حدیث میں ہے کہ انھیں سب سے پہلے لباس پہنایاجائے گا۔
اس قسم کی جزوی فضیلت سے کلی فضیلت پر فوقیت لازم نہیں آتی۔
بہرحال رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے اپنی قبر مبارک سے اٹھیں گے اور اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے۔
ان کی مرویات کی تعداد 1170 ہے۔
آپ کی وفات جمعہ کے دن سنہ 74ھ میں ہوئی۔
جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔
(1)
پہلی حدیث مختصر ہے کیونکہ اس میں طمانچہ رسید کرنے کا ذکر نہیں، البتہ دوسری حدیث میں تفصیل سے یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء علیہ السلام کے درمیان ایک کو دوسرے پر اس طرح فضیلت دینے سے منع فرمایا ہے۔
جس سے کسی پیغمبر کی توہین یا حقارت کا پہلو نمایاں ہوتا ہو۔
ویسے برتری کا انداز تو قرآن کریم سے ثابت ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’یہ رسول، ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔
‘‘ (البقرة: 2: 253)
اللہ تعالیٰ نے از خود بعض رسولوں کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے، تاہم ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے درجات متعین کرنا تمھارا کام نہیں، ان کے باہمی تقابل سے کسی نبی کی تحقیر کا امکان ہے۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اگر آدمی کوئی ایسی بات کہے جس کا اسے علم نہیں تو اہل علم مسلمان کے لیے جائز ہے کہ اس اقدام پر اس کی گوشمالی کریں۔
واللہ أعلم. (فتح الباري: 329/12)
بہرحال ایک مسلمان کو کسی کافر یا ذمی کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو ۱؎۔" [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4668]
بلا شبہ انبیا ورسل ؐ میں بعض پر فضیلت حاصل ہے اور قرآن مجید نے واضح طور بیان کیا ہے، مگر ان فضائل کا اس انداز سے تقابلی بیان کہ دوسروں کی تنقیص لازم آئے، حرام ہے۔