صحيح البخاري
كتاب الاستقراض— کتاب: قرض لینے ادا کرنے حجر اور مفلسی منظور کرنے کے بیان میں
بَابُ إِذَا أَقْرَضَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى أَوْ أَجَّلَهُ فِي الْبَيْعِ: باب: ایک معین مدت کے وعدہ پر قرض دینا یا بیع کرنا۔
حدیث نمبر: 2404
وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ " .مولانا داود راز
´لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اسرائیلی شخص کا تذکرہ فرمایا جس نے دوسرے اسرائیلی شخص سے قرض مانگا تھا اور اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے اسے قرض دے دیا ۔ ( جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
2404. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا۔ اس نے ایک دوسرے بنی اسرائیلی سے قرض طلب کیا تو اس نے مقررہ مدت تک کے لیے اسے قرض دے دیا۔ پھر آگے پوری حدیث بیان کی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2404]
حدیث حاشیہ: حدیث میں حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کا ذکر ہے۔
باب سے یہی مناسبت ہے۔
قرآن پاک کی آیت ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى﴾ (الأحزاب: 69)
میں اسی واقعہ کی طرف اشارہے۔
باب سے یہی مناسبت ہے۔
قرآن پاک کی آیت ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى﴾ (الأحزاب: 69)
میں اسی واقعہ کی طرف اشارہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2404 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2404. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا۔ اس نے ایک دوسرے بنی اسرائیلی سے قرض طلب کیا تو اس نے مقررہ مدت تک کے لیے اسے قرض دے دیا۔ پھر آگے پوری حدیث بیان کی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2404]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عنوان میں دو مسئلے بیان ہوئے ہیں: ٭ قرض میں مقررہ مدت تک تاخیر کرنا کیسا ہے؟ بعض حضرات کا موقف ہے کہ قرض خواہ جب چاہے اس کا مطالبہ کر سکتا ہے، خواہ مدت مقرر ہی کیوں نہ ہو، لیکن صحیح موقف یہ ہے کہ جب مدت مقررہ تک کے لیے قرض دیا ہے تو اس کا وقت سے پہلے مطالبہ کرنا صحیح نہیں۔
٭ خریدوفروخت میں قیمت کے لیے مدت مقرر کرنا، اس میں سب کا اتفاق ہے کہ اس میں وقت سے پہلے قیمت کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں۔
٭ خریدوفروخت میں قیمت کے لیے مدت مقرر کرنا، اس میں سب کا اتفاق ہے کہ اس میں وقت سے پہلے قیمت کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ قرض میں مدت مقرر کی جا سکتی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مدح اور تعریف کے طور پر اس واقعے کا ذکر فرمایا ہے۔
اگر اس میں کوئی غلط بات ہوتی تو آپ اس کی تردید کر دیتے۔
پہلی امتوں کی شریعت ہمارے لیے حجت ہے بشرطیکہ ہماری شریعت کے خلاف نہ ہو۔
(1)
اس عنوان میں دو مسئلے بیان ہوئے ہیں: ٭ قرض میں مقررہ مدت تک تاخیر کرنا کیسا ہے؟ بعض حضرات کا موقف ہے کہ قرض خواہ جب چاہے اس کا مطالبہ کر سکتا ہے، خواہ مدت مقرر ہی کیوں نہ ہو، لیکن صحیح موقف یہ ہے کہ جب مدت مقررہ تک کے لیے قرض دیا ہے تو اس کا وقت سے پہلے مطالبہ کرنا صحیح نہیں۔
٭ خریدوفروخت میں قیمت کے لیے مدت مقرر کرنا، اس میں سب کا اتفاق ہے کہ اس میں وقت سے پہلے قیمت کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں۔
٭ خریدوفروخت میں قیمت کے لیے مدت مقرر کرنا، اس میں سب کا اتفاق ہے کہ اس میں وقت سے پہلے قیمت کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ قرض میں مدت مقرر کی جا سکتی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مدح اور تعریف کے طور پر اس واقعے کا ذکر فرمایا ہے۔
اگر اس میں کوئی غلط بات ہوتی تو آپ اس کی تردید کر دیتے۔
پہلی امتوں کی شریعت ہمارے لیے حجت ہے بشرطیکہ ہماری شریعت کے خلاف نہ ہو۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2404 سے ماخوذ ہے۔