حدیث نمبر: 2404
قَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي الْقَرْضِ إِلَى أَجَلٍ : لَا بَأْسَ بِهِ ، وَإِنْ أُعْطِيَ أَفْضَلَ مِنْ دَرَاهِمِهِ مَا لَمْ يَشْتَرِطْ ، وَقَالَ عَطَاءٌ ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : هُوَ إِلَى أَجَلِهِ فِي الْقَرْضِ .
مولانا داود راز

´اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` کسی مدت معین تک کے لیے قرض میں کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ اس کے درہموں سے زیادہ کھرے درہم اسے ملیں ۔ لیکن اس صورت میں جب کہ اس کی شرط نہ لگائی ہو ۔ عطاء اور عمرو بن دینار نے کہا کہ قرض میں ، قرض لینے والا اپنی مقررہ مدت کا پابند ہو گا ۔

وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ " .
مولانا داود راز

´لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اسرائیلی شخص کا تذکرہ فرمایا جس نے دوسرے اسرائیلی شخص سے قرض مانگا تھا اور اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے اسے قرض دے دیا ۔ ( جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ) ۔

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 278 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´پتھر کا موسیٰ علیہ السلام کے کپڑے لے کر بھاگنا `
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَخَرَجَ مُوسَى فِي إِثْرِهِ، يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى مُوسَى، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ وَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا"، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبًا بِالْحَجَرِ.»
"۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن موسیٰ علیہ السلام تنہا پردہ سے غسل فرماتے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ آپ کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا۔ اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے کر بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے۔ آپ کہتے جاتے تھے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ بخدا موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بخدا اس پتھر پر چھ یا سات مار کے نشان باقی ہیں۔" [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل: 278]
تخریج الحدیث:
یہ روایت صحیح بخاری میں تین مقامات پر ہے۔ [ح 278، 3404، 4799]
امام بخاری رحمہ اللہ کے علاوہ درج ذیل محدثین نے بھی اسے روایت کیا ہے:
مسلم النیسابوری [صحيح مسلم ح339 وترقيم دارالسلام: 770 وبعد ح 2371 ترقيم دارالسلام: 6146، 6147]
ترمذي [السنن: 3221 وقال: "هذا حديث حسن صحيح" إلخ]
النسائي فى التفسير [444، 445]
الطحاوي فى مشكل الآثار [1؍11]
والطبري فى تفسيره [تفسير ابن جرير 22؍37]
یہ روایت درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
مسند ابي عوانه [281/1]
صحيح ابن حبان [الاحسان 94/14 ح 6178، دوسرا نسخه: 6211]
الاوسط لابن المنذر [120/2 ح649]
السنن الكبريٰ للبيهقي [198/1]
معالم التنزيل للبغوي [545/3]
یہ روایت امام بخاری رحمہ اللہ سے پہلے درج ذیل محدثین نے بھی بیان کی ہے:
أحمد بن حنبل [المسند 2؍315، 392، 514، 535]
عبدالرزاق [المصنف: 20531]
همام بن منبہ [الصحيفة: 61]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت درج ذیل جلیل القدر تابعین کی سند سے مروی ہے:
① ہمام بن منبہ [الصحيفة: 61 وصحيح البخاري: 278 وصحيح مسلم: 339]
② محمد بن سیرین [صحيح البخاري: 3404، 4799]
③ خلاس بن عمرو [صحيح البخاري: 3404، 4799]
④ الحسن البصری [صحيح البخاري: 3404، 4799]
⑤ عبداللہ بن شقیق [صحيح مسلم: 339 بعد ح2371 ترقيم دارالسلام: 6147]
اس روایت کی دوسری سندیں، آثارِ صحابہ اور آثارِ تابعین بھی مروی ہیں دیکھئیے:
مصنف ابن ابی شیبہ [11؍533، 535]
وتفسیر الطبری [22؍36، 37]
وكشف الاستار [مسند البزار: 2252]
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ صحیح بخاری کی یہ روایت بالکل صحیح ہے۔
اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «انه ليس فى الحديث انهم رأوا من موسي الذكر - الذى هو عورة - و ان رأوا منه هيئة تبينوا بها أنه مبرأ مما قالوا من الادرة وهذا يتبين لكل ناظر بلا شك، بغير أن يرى شيئًا من الذكر لكن بأن يرى مابين الفخذين خاليًا»
"حدیث میں یہ نہیں ہے کہ انہوں (بنی اسرائیل) نے موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر یعنی شرمگاہ دیکھی تھی۔ انہوں نے ایسی حالت دیکھی جس سے واضح ہو گیا کہ موسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کے الزمات کہ وہ آدر ہیں (یعنی ان کے خصیے بہت موٹے ہیں) سے بری ہیں۔ ہر دیکھنے والے کو (ایسی حالت میں) بغیر کسی شک کے ذَکر (شرمگاہ) دیکھے بغیر ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ رانوں کے درمیان جگہ خالی ہے۔" [المحليٰ 3؍213 مسئله: 349]
اس تشریح سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر جو جسمانی نقص والے الزامات لگاتے تھے، ان تمام الزامات سے آپ بری تھے۔ دوسرے یہ کہ اس روایت میں یہ بھی نہیں ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بالکل ننگے نہا رہے تھے۔ امام ابن حزم کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے لنگوٹی وغیرہ سے اپنی شرمگاہ کو چھپا رکھا تھا اور باقی جسم ننگا تھا۔
بنی اسرائیل نے آپ کی شرمگاہ کو دیکھا ہی نہیں لہٰذا منکرین حدیث کا اس حدیث کا مذاق اڑانا مردود ہے۔
بعض الناس نے کہا کہ "تو تین یا چار نشان کہنے کا کیا مطلب؟" عرض ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» "اور بھیجا اس کو لاکھ آدمیوں پر یا زیادہ۔" [الصّٰفّٰت: 147 ترجمه شاه عبدالقادر ص543]
اس آیت کریمہ کا ترجمہ شاہ ولی اللہ الدہلوی کی تحریر سے پڑھ لیں: «وفرستاديم اُو را بسوئے صد هزار يا بيشتر ازان باشند» [ص543]
منکرین حدیث اس آیت کریمہ میں لفظ "او" کی جو تشریح کریں گے وہی تشریح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول «ستة أو سبعة» میں «او» کی ہے۔ «والحمدلله»
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 24، حدیث/صفحہ نمبر: 11 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 278 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´جس نے تنہائی میں ننگے ہو کر غسل کیا`
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ . . .»
". . . انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن موسیٰ علیہ السلام تنہا پردہ سے غسل فرماتے . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنِ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا وَحْدَهُ فِي الْخَلْوَةِ، وَمَنْ تَسَتَّرَ فَالتَّسَتُّرُ أَفْضَلُ:: 278]
تخريج الحديث:
[194۔ البخاري فى: 5 كتاب الغسل: 20 باب من اغتسل عريانًا وحده فى الخلوة 278، مسلم 339]
لغوی توضیح:
«آدَرُ» بڑے بڑے خصیتین والا۔
«فِيْ اِثْرِهِ» اس کے پیچھے۔
«نَدَبٌ» نشان۔
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 194 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 278 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
278. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہو کر غسل کرتے اور ایک دوسرے کو دیکھتے تھے، جبکہ موسی ؑ تنہا نہاتے۔ بنی اسرائیل نے کہا: اللہ کی قسم! موسی ؑ ہمارے ساتھ اس لیے غسل نہیں کرتے کہ وہ مرض فتق میں مبتلا ہیں۔ اتفاق سے ایک دن موسی ؑ نے نہاتے وقت اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے۔ ہوا یوں کہ وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ نکلا۔ حضرت موسیٰ ؑ اس کے تعاقب میں یہ کہتے ہوئے دوڑے! اے پتھر! میرے کپڑے دے دے۔ اے پتھر! میرے کپڑے دے دے، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ ؑ کو دیکھ لیا اور کہنے لگے: واللہ! موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنے لگے۔‘‘ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! موسیٰ ؑ کی مار کے چھ یا سات نشان اس پتھر پر اب بھی موجود ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:278]
حدیث حاشیہ:

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ننگے نہاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’’تم میں سے جب کوئی غسل کرے تواسے چاہیے کہ چھپ کرنہائے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الحمام، حدیث: 4012)
اس حدیث کے پیش نظر محدث ابن ابی لیلیٰ ؒ کا موقف ہے کی خلوت میں ننگے نہانا جائز نہیں۔
امام بخاری ؒ نے ان کی تردید میں اس عنوان کو قائم کیا ہے کہ خلوت میں ننگے نہانا جائز ہے، البتہ ستر چھپا کر غسل کرنا بہتر ہے، کیونکہ خلوت میں اگرچہ کسی انسان کی موجودگی نہیں جس سے شرم آئے، مگر اللہ تعالیٰ سے شرم ہونی چاہیے۔
جب انسانوں سے حیا کے پیش نظر ننگا نہانا درست نہیں تو اللہ تعالیٰ سے تو بدرجہ اولیٰ شرمانا چاہیے۔
اس کے لیے امام بخاری ؒ نےحضرت بہز بن حکیم ؓ کی روایت کا حوالہ دیا ہے، ان کے دادا حضرت معاویہ بن حیدہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے خلوت میں ستر کھولنے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔
‘‘ (جامع الترمذي، الأدب، حدیث: 2769)
اب سوال پیداہوتا ہے کہ اس حدیث کے پیش نظرتو خلوت میں بھی ننگے نہانے کا جواز نہیں تو امام بخاری ؒ نے ننگے نہانے کے موقف کو کیوں اپنا یا ہے؟ امام بخاری ؒ نے اس کے جواز کے لیے دو واقعات بیان فرمائے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ خلوت میں ننگے ہوکرنہائے تھے، اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام نے بھی برہنہ غسل فرمایا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے ان سابقہ انبیاء علیہم السلام کے عمل کو نقل فرمایا اور اس پر کسی قسم کا انکار نہیں فرمایا۔
اگر ہماری شریعت میں کوئی مختلف حکم ہوتا تو آپ اس پر ضرور تنبیہ فرمادیتے، اس لیے یہ سکوت، محل بیان کا سکوت ہے جس سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ برہنہ غسل میں کوئی مضائقہ نہیں۔
اسے یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد انبیاء علیہم السلام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ ﴾ ’’ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت یاب بنایاہے لہذا آپ ان کی اقتدا کریں۔
‘‘ (الأنعام 90/6)
اس لیے ان جلیل القدرانبیاء علیہم السلام کا عمل قابل اقتدا اور لائق اتباع ہے۔
(فتح الباري: 501/1)

کھلی فضا یا ایسے وسیع مکان میں جہاں لوگوں کے آنے کا احتمال نہ ہو، برہنہ غسل کرنا معصیت نہیں بلکہ صرف جائز ہے۔
بعض انتہاپسند حضرات غسل خانے میں بھی تہ بند باندھ کر غسل کرتے ہیں۔
ہماےنزدیک یہ بے جا تشدد ہے جس کی شریعت میں اجازت نہیں، کیونکہ غسل خانہ خود ایک تستر(پردے)
کی صورت ہے۔

ابن بطال ؒ نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نافرمان تھے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہاتے تھے۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل کے وادی تیہ میں قیام کے دوران میں پیش آیا جہاں عورتیں اورمکانات نہ تھے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شریعت میں ایک دوسرے کے سامنے ننگے ہو کر نہانا جائز تھا۔
اگرآپ کی نافرمانی کرتے ہوئے ایسا کرتے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ان کو روکنا ضرور منقول ہوتا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل اس لیے کرتے تھے کہ ان کے ہاں ایسا کرنا افضل تھا۔
(فتح الباري: 501/1)

موسیٰ علیہ السلام کے اس قصے سے معلوم ہوا کہ علاج یا عیب سے براءت کے پیش نظر دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھنا جائز ہے، مثلاً: زوجین میں سے کوئی دوسرے کے متعلق فسخ نکاح کے لیے برص کا دعویٰ کرے تو اس کی تحقیق کے لیے دیکھنا درست ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی خلقت واخلاق کے لحاظ سے انتہائی کامل ہوتے ہیں اور جو کوئی ان کی طرف کسی نقص خلقی یا عیب خلقی منسوب کرے گا وہ انھیں ایذا دینے والوں میں سے ہوگا اور اس کے ارتکاب پر کفر کااندیشہ ہے۔
(فتح الباري: 532/6)

ابن بطال نے لکھا ہے کہ واقعہ ایوب سے عریاں ہوکر غسل کرنے کا جواز معلوم ہوا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو سونے کی ٹڈیاں جمع کرنے پر ملامت کی، مگرعریاں غسل کرنے پر کوئی عتاب نہیں فرمایا۔
(شرح ابن بطال: 393/1)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 278 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4017 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ننگے ہونے کا بیان۔`
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے " وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے " وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4017]
فوائد ومسائل:
تنہائی میں بھی بلاوجہ ننگا ہو بیٹھنا جائز نہیں اور تعجب ہے کہ ہمارے ہاں کے جاہل اور بدعتی ومشرک لوگ ننگ دھڑنگ بے دین اور بے شعور لوگوں کو ولی اللہ سمجھتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4017 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1920 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔`
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو "، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو "، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1920]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیوی اور لونڈی کے سوا ہر کسی سے شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا مطلب ناجائز تعلقات اور بدکاری سے اجتناب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے: ﴿وَلَا تَقْرَ‌بُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾ (بنی اسرائیل: 32)
’’زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، یہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔‘‘
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اعضائے مستورہ پر کسی کی نظر نہ پڑنے دی۔

(2)
عام طور پر مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے اس معاملہ ميں احتیاط کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔
یہ غلط رویہ ہے۔
بغیر کسی مجبوری کے مرد دوسرے مرد کے اور عورت دوسری عورت کے اعضائے مستورہ کو نہیں دیکھ سکتے۔

(3)
اس حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ خاوند بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مستورہ دیکھ لیں تو گناہ نہیں۔
آئندہ روایتوں میں اس کی ممانعت مذکور ہے لیکن وہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔

(4)
تنہائی میں بھی بلا ضرورت بالکل ننگا ہونے سے اجتناب کرنا چاہیے اگرچہ غسل وغیرہ کے وقت تمام کپڑے اتارنا جائز ہے۔ (صحیح البخاري، الغسل، باب من اغتسل عریانا وحدہ فی خلوۃ، ومن تستر فالتستر أفضل، حدیث: 278)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1920 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2608 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: "مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں"۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک لوگ اس بات کی شہادت نہ دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ (کر کے عبادت) نہ کرنے لگیں۔ ہمارا ذبیحہ نہ کھانے لگیں اور ہمارے طریقہ کے مطابق نماز نہ پڑھنے لگیں۔ جب وہ یہ سب کچھ کرنے لگیں گے تو ان کا خون اور ان کا مال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2608]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی وہ کوئی ایساعمل کربیٹھیں جس کے نتیجہ میں ان کی جان اور ان کا مال مباح ہو جائے تو اس وقت ان کی جان اوران کا مال حرام نہ رہے گا۔

2؎:
یعنی جو حقوق و اختیارات اور مراعات عام مسلمانوں کو حاصل ہوں گے وہ انہیں بھی حاصل ہوں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2608 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2641 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» " نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں " کی گواہی دینے، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے، ہمارا ذبیحہ کھانے، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہو گئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2641]
فوائد ومسائل:
حق اسلام کا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے کو ناحق قتل کردے تو قصاص میں اسے قتل کیا جائے گا۔
شادی شدہ ہوتے ہوئے بدکاری کرلے تو رجم ہوگا۔
اور کسی کامال لوٹ لے تو بدلے میں مال دے گا وغیرہ۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2641 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3971 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´خون کی حرمت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں کفار و مشرکین سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر جب وہ گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور وہ ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے لگیں، ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں اور ہمارے ذبیحے کھانے لگیں تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3971]
اردو حاشہ: (1) اس مفہوم کی روایات کتاب الزکاۃ اور کتاب الجہاد میں گزر چکی ہیں اور ان کی تفصیل بھی بیان ہو چکی ہے۔
(2) "مجھے حکم دیا گیا ہے" مقصود یہ ہے کہ کافروں سے لڑائی لڑنے کی اجازت ہے لیکن اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو ان سے لڑنا جائز نہیں بشرطیکہ وہ اسلام کے اہم احکام پر بھی عمل کریں اور مسلمانوں کی طرح رہیں۔
(3) "اسلام کا کوئی حق بنتا ہو" یعنی انھوں نے کسی کے جان و مال کا نقصان کیا ہو تو اس میں ماخوذ ہوں گے۔
(4) لوگوں کے معاملات ظاہر پر محمول کیے جائیں گے۔ اگر دینی اعمال ظاہر کریں گے تو ان پر مسلمانوں کے احکامات جاری کیے جائیں گے اگرچہ وہ باطن میں کوئی اور عقائد رکھتے ہوں۔ یہ احکامات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ اسلام کے خلاف اپنا کوئی عمل ظاہر نہ کر دیں۔
(5) جو اسلام میں داخل ہو گا اس کے لیے وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے لیے ہیں اور اس پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو دیگر مسلمانوں پر ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3971 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5006 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کس بات پر لوگوں سے لڑنا صحیح ہے؟`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، پھر جب وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں، ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری نماز پڑھیں تو ان کے خون اور ان کے مال ہم پر حرام ہو گئے مگر کسی حق کے بدلے، ان کے ل [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5006]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیے دیکھسے،احادیث:3971،3972،5000.
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5006 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3974 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´خون کی حرمت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو بعض عرب مرتد ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ عربوں سے کیسے جنگ کریں گے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے: " مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم نہ کریں اور زکاۃ نہ دیں، اللہ کی قسم! اگر وہ بکری کا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3974]
اردو حاشہ: مانعین زکوۃ سے قتال کرنا واجب ہے بشرطیکہ وہ عدم ادائیگی پر اصرار کریں اور اس کی خاطر قتال کے لیے تیار ہو جائیں۔ اگر لڑائی نہ کریں تب بھی زبردستی ان سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 2445۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3974 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3972 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´خون کی حرمت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پھر جب وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری نماز پڑھیں تو ان کے خون اور ان کے مال ہم پر حرام ہو گئے مگر (جان و مال کے) کسی حق کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3972]
اردو حاشہ: (1) کفار سے لڑائی لڑنا ضروری نہیں بلکہ یہ حالات کے تقاضے پر موقوف ہے۔ اگر کفار مسلمانوں کے فرماں بردار ہو کر رہیں اور عائد کردہ ٹیکس ادا کریں تو ان سے لڑنے کی بجائے انہیں بطور ذمی رکھا جائے۔ اگر کوئی غیر اسلامی حکومت قائم ہو تو ان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر صلح کے ساتھ بھی رہا جا سکتا ہے۔
(2) حدیث سے قبلے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر نماز میں اپنا رخ قبلے کی جانب نہیں کرے گا اس کی نماز نہیں ہو گی۔ (دیکھئے، حدیث: 3092۔ اس مسئلے کی پوری تفصیل کتاب الجہاد میں ملاحظہ فرمائیں۔)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3972 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3096 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جہاد کی فرضیت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے، تو عرب (دین اسلام سے) مرتد ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ عربوں سے کیسے لڑائی لڑیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ لوگ گواہی دینے لگیں کہ کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے لگیں، اور زکاۃ دینے لگیں، قسم اللہ کی، اگر انہو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3096]
اردو حاشہ: (1) امام نسائی یہاں یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ مذکورہ روایت میں عمران ابوالعوام قطان علم حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ وہ اس روایت کو حضرت انس کی مسند بناتے ہیں جبکہ دیگر روای اس حدیث کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مسند بناتے ہیں جیسا کہ گزشتہ اجادیث: 3093 اور 3094 سے واضح ہے اور درست بھی یہی ہے۔ تاہم اس اختلاف سے حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، حدیث دوسری اسناد کے ساتھ بالکل صحیح ہے۔ واللہ أعلم۔
(2) "مرتد ہوگئے" مرتدین کی کئی قسمیں ہیں مگر یہاں اختلاف مانعین زکاۃ کے بارے میں ہے جن کا موقف تھا کہ زکاۃ صرف رسول اللہﷺ کے ساتھ خاص تھی، کوئی دوسرا وصول نہیں کرسکتا، حالانکہ آپ نے زکاۃ بطور امیر یا حاکم وصول فرماتی تھی ورنہ آپ کے لیے تو جائز ہی نہ تھی، لہٰذا اب جو نبیﷺ کا نائب بنے گا وہ بھی بطور حاکم وصول کرے گا ورنہ افراتفری پھیل جائے گی، زکاۃ کا فریضہ ترک ہوجائے گا، حالانکہ رسول اللہﷺ نے نماز اور زکاۃ دونوں کو مسلمان ہونے کے لیے شرط قراردیا ہے، نیز زکاۃ نہ دینے والا حکومت کا باغی ہے اور باغی سے لڑائی بالاتفاق جائز ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ یہ کلمہ گو ہیں۔ ان سے لڑائی جائز نہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دلائل سے ان کی سمجھ میں آگیا کہ مسلمان ہونے کے لیے صرف کلمہ ہی کافی نہیں کچھ دوسرے امور بھی ضروری ہیں جیسا کہ حدیث نبوی مذکور میں وضاحت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3096 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 18 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی بغیر طہارت و پاکی کے بھی ذکر الٰہی کر سکتا ہے`
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ . . .»
"ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کا ذکر ہر وقت کیا کرتے تھے۔" [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 18]
فوائد و مسائل:
کسی بھی مسلمان کو مرد ہو یا عورت کسی حال میں بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہیں رہنا چاہئیے (سوائے بیت الخلاء وغیرہ کے) باوضو ہو یا بےوضو، طاہر ہو یا جنبی۔ قرآن مجید بھی اللہ کا ذکر ہے مگر حالت جنابت میں ناجائز ہے۔ خواتین کو بھی ایام مخصوصہ میں عام ذکر اذکار کی پابندی کرنی چاہیے۔ مگر ان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کے مسئلہ میں اختلاف ہے۔ امام مالک، طبری، ابن المنذر، داؤد اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہم کا میلان مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں یہ ہے کہ مباح اور جائز ہے۔ بالخصوص ایسی خواتین جو قرآن مجید کی حافظہ ہوں یا علوم شرعیہ کے درس و تدریس سے متعلق ہوں ان کے لیے یہ تعطل انتہائی حارج ہوتا ہے۔ جبکہ جنابت کا حدث بہت مختصر وقت کے لیے ہوتا ہے۔ اگرچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ جنبی کے لیے بھی تلاوت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحيح البخاري وفتح الباري، كتاب الحيض، باب تقضي الحائض المناسك كلها....]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 18 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 302 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´پاخانہ میں اللہ کا ذکر کرنے اور اس میں انگوٹھی پہن کر جانے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر وقت کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 302]
اردو حاشہ: (1)
تمام اوقات سے مراد یہ ہے کہ خواہ باوضو ہو یا نہ ہوں اللہ کا ذکر فرماتے تھے۔
یعنی زبانی ذکر کے لیے طہارت کا وہ اہتمام ضروری نہیں جو نماز وغیرہ کے لیے ضروری ہے۔
تمام اوقات کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح نماز کے لیے بعض اوقات مکروہ ہیں اللہ کے ذکر کے لیے اس طرح کوئی وقت مکروہ نہیں۔

(2)
بعض علماء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ تلاوت قرآن مجید کے لیے جس طرح حدث اصغر سے پاک ہونا یعنی باوضو ہونا ضروری نہیں۔
اسی طرح حدث اکبر یعنی جنابت سے پاک ہونا بھی شرط نہیں۔
کیونکہ قرآن مجید بھی ذکر ہے۔
لیکن اولاً تو اللہ کے ذکر کا متبادر مفہوم سُبْحَانَ اللهِ، اَلحَمدُلِلهِ وغیرہ جیسے اذکار ہیں جن کے زبان سے ادا کرنے کو تلاوت قرآن نہیں سمجھاجاتا۔
ثانیاً حالت جنابت میں تلاوت ممنوع ہونے کی متعدد احادیث مروی ہیں۔
جو اگرچہ الگ الگ ضعیف ہیں لیکن علماء کے ایک گروہ کے نزدیک باہم مل کر وہ قابل استدلال ہوجاتی ہیں کیونکہ ان کا ضعف شدید نہیں اس لیے ان کے نزدیک احتیاط اس میں ہے کہ جنابت کی حالت میں تلاوت سے حتی الامکان اجتناب کیا جائے الا یہ کہ کوئی ناگزیر صورت پیش آجائے۔
لیکن علماء کا ایک دوسرا گروہ جس میں امام بخاری ؒ امام ابن تیمیہ ؒ اور امام ابن حزم ؒ  جیسے حضرات بھی شامل ہیں کہتا ہے کہ ممانعت کی تمام احادیث ضعیف ہیں، اس لیے جنبی اور حائضہ بھی قرآن مجید کی تلاوت کرسکتے ہیں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 302 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 373 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام اوقات میں اللی تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:826]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ زندگی کے تمام حالات میں اللہ کو یاد فرماتے تھے کھاتے پیتے سوتے جاگتے مسجد میں داخل اور خارج ہوتے بیت الخلاء میں داخل اور خارج ہوتے اس طرح ہر حالت میں اللہ کو یاد فرماتے اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ آپ ضرورت کے وقت بے وضو بھی اللہ کا ذکر فرماتے تھے لیکن جس طرح بیت الخلاء میں بیٹھ کر یا جماع کی حالت میں ذکر و اذکار درست نہیں ہے یا ان حالات میں قرآن مجید کی تلاوت نہیں ہو سکتی اسی طرح جنابت اور حیض کی حالت میں قرآن کی تلاوت درست نہیں ہے آئمہ کا یہی مؤقف ہے اور یہی درست ہے وگرنہ اگر کل احیان کے عموم کی روسے حیض اور جنابت میں قرآن پڑھنا درست ہے تو پھر بیت الخلاء اور اجماع کی حالت میں بھی جائز ہونا چاہیے وہ بھی کل احیان میں داخل ہیں جبکہ حدیث کا اصل مقصد زندگی کے ہر مرحلہ اور ہر موڑ پر اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا مقصود ہے ہر حالت اور ہر وقت مراد نہیں ہے اگر ہر حالت اور ہر وقت مراد ہے تو آپﷺ نے پیشاب کرنے کے بعد سلام کا جواب کیوں نہ دیا؟
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 826 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3384 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3384]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سبھی اوقات سے یہ اوقات مستثنیٰ ہیں مثلاً: پاخانہ، پیشاب کی حالت اور جماع کی حالت، کیوں کہ ان حالات میں ذکر الٰہی نہ کرنا، اسی طرح ان حالتوں میں موذن کے کلمات کا جواب نہ دینا اور چھینک آنے پر (اَلحَمدُ لِلّٰه) نہ کہنا اور سلام کا جواب نہ دینا بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3384 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1251 کی شرح از الشیخ عبدالسلام بھٹوی ✍️
´کھانے پینے اور پہننے میں فضول خرچی اور تکبر جائز نہیں`
«وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏كل واشرب والبس وتصدق فى غير سرف ولا مخيلة. اخرجه ابو داود واحمد وعلقه البخاري.»
"عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا (عبد اللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھا، پی، پہن اور صدقہ کر جس میں فضول خرچی نہ ہو اور تکبر نہ ہو۔" اسے ابوداود اور احمد نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیقًا (دانستہ سند حذف کر کے) روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1251]
تخریج:
[بخاري تعليقًا اللباس باب Q5783]، [احمد 181/2، 182]، [ابو داود؟]


مفردات:
«سَرَفٌ» اور «إِسْرَافٌ» کسی بھی قول یا فعل میں حد سے گزرنا، خرچ میں حد سے تجاوز کرنے میں یہ لفظ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے مقتول کے وارثوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: «فَلَا يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ» قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے اور فرمایا: «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا» "کھاؤ پیو اور حد سے نہ بڑھو۔" [فتح]

«مخيلةٌ» مصدر میمی ہے بروزن «مفعلة خيلاء» کا ہم معنی ہے یعنی تکبر۔ آدمی جب اپنے آپ میں کسی خوبی کا خیال جما لیتا ہے تو یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ تخیل نفس میں کسی چیز کے خیال کی نقش بندی کو کہتے ہیں۔ [راغب]


فوائد:
➊ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے دنیا کی ہر طیب چیز حلال فرما دی ہے کھانے کی ہو یا پینے کی ہو یا رہنے کی یا کوئی سواری ہو۔ صرف وہ چیزیں حرام فرمائیں جو خبیث ہیں اور انسان کے جسم یا عقل یا مال یا عزت یا دین کے لیے نقصان دہ ہیں کیونکہ یہ پانچوں چیزیں انسان کی عزیز ترین چیزیں ہیں اور ان کی حفاظت ضروری ہے۔

«وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ» [7-الأعراف:157]

"وہ پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال کرتا ہے اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتا ہے۔"

➋ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کی ہر مباح چیز انسان استعمال کر سکتا ہے اور جتنی چاہے استعمال کر سکتا ہے یہ نہیں کہ فلاں تو کر سکتا ہے اور فلاں نہیں اور اتنی کر سکتا ہے اور اتنی نہیں: «هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا» [2-البقرة:29]

"وہی ذات ہے جس نے دنیا کی سب چیزیں تمہارے لیے بنائیں۔"

«قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّـهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ» [7-الأعراف:32]

"تو کہہ جس زینت کو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا اس کو اور پاکیزہ رزق کو کس نے حرام کیا ہے۔"

➌ یہ حلال چیزیں اس وقت ناجائز ہوں گی جب وہ ضرورت کی حد سے تجاوز کر جائیں مثلاً اتنا کھانا یا پینا جو جسم کے لئے وبال بن جائے اور صحت کو نقصان پہنچائے یا کھانے پینے یا صدقہ کرنے میں اتنا خرچ کر دینا جو استطاعت سے زیادہ ہو پھر زیربار ہو کر پریشان رہنا یا کھانے پینے، پہننے یا صدقہ کرنے میں نمود و نمائش اور لوگوں سے اونچا ہونے کا مقصد دل میں رکھنا ان سب چیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: ➍ کھانے پینے کی حد جس سے گزرنا نہیں چاہئیے ترمذی کی ایک حدیث میں بیان ہوئی ہے مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ما ملا آدمي وعاء شرا من بطن بحسب ابن آدم اكلات يقمن صلبه فإن كان لا محالة فثلث لطعامه وثلث لشرابه وثلث لنفسه»

"کسی آدمی نے کوئی برتن نہیں بھرا جو پیٹ سے زیادہ برا ہو ابن آدم کے لئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں پس اگر اسے (زیادہ کھائے بغیر) کوئی چارہ ہی نہ ہو تو تیسرا حصہ کھانے کے لئے ہے اور تیسرا پینے کے لئے اور تیسرا سانس کے لیے۔" [ترمذي/الزهد 47 حديث صحيح ديكهيے صحيح الترمذي 1939]

اگر زیادہ دیر کا بھوکا پیاسا ہو تو زیادہ بھی کھا پی سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سخت بھوک کے بعد بار بار دودھ پینے کے لیے کہا یہاں تک کہ انہوں نے کہا «لا والذي بعثك بالحق ما اجد له مسلكا» اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس کے داخل ہونے کے لئے (پیٹ میں) کوئی جگہ نہیں پاتا۔ [صحيح بخاري 6452]

➎ لباس میں حد سے گزرنا یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو یا ریشم کا ہو یا عورتوں کے مشابہ ہو یا اس میں کفار سے مشابہت ہو۔

➏ صدقے میں اسراف کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا» [17-الإسراء:29]

"اور نہ اپنے ہاتھ کو گردن کی طرف طوق سے بندھا ہوا بنا لو اور نہ اسے پورا ہی کھول دو ورنہ اس حال میں بیٹھ رہو گے کہ ملامت کئے ہوئے تھک کر رہ جانے والے ہو گے۔"

حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں صدقہ کے علاوہ کھانے پینے، پہننے اور دوسرے کاموں میں خرچ کی وہ حد بیان کی گئی ہے جس سے آدمی بڑھتا ہے تو اسراف میں داخل ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 61 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1251 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´ادب کا بیان`
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کھا، پی اور لباس پہن اور صدقہ کر لیکن اسراف اور فخر کے بغیر۔ " اس کو ابوداؤد اور احمد نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے معلق بیان کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1251»
تخریج:
«أخرجه أحمد:2 /181، 182«والترمذي الأدب، حديث:2819 بلفظ آخر وحديثه صحيح» ، والنسائي، الزكاة، حديث:2560، وابن ماجه، اللباس، حديث:3605، والبخاري تعليقًا، اللباس، قبل حديث:5783، قتادة مدلس عنعن.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے‘ نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں اسے تعلیقاً بیان کیا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۱ /۲۹۴‘ ۲۹۵‘ وھدایۃ الرواۃ:۴ /۲۱۷‘ ۲۱۸) 2. اس حدیث میں اسراف اور تکبر سے منع کیا گیا ہے‘ خواہ اس کا تعلق کھانے پینے سے ہو‘ لباس سے ہو یا صدقہ و خیرات سے۔
یہ دونوں بہر آئینہ ناجائز ہیں کیونکہ کسی بھی چیز میں اسراف‘ جسم وجان اور معیشت کے لیے ضرر رساں ہوتا ہے اور انسان کو ہلاکت کے دہانے پر پہنچا دیتا ہے اور اس سے انسان کا نفس برباد ہو جاتا ہے۔
اور تکبر بھی انسان میں چونکہ خود پسندی اور اتراہٹ پیدا کرتا ہے‘ اس لیے یہ بھی دنیا و آخرت میں نقصان دہ ہے۔
آخرت کے اعتبار سے تو اس طرح کہ انسان کبیرہ گناہ کا مرتکب ٹھہرتا ہے اور دنیا میں اس طرح کہ ایسا انسان لوگوں کی نظروں میں مبغوض اور حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1251 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5783 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5783. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نطر رحمت سے نہیں دیکھے گا جو تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:5783]
حدیث حاشیہ: لباس کا اسراف یہ ہے کہ بے فائدہ کپڑا خراب کرے ایک ایک تھان کے عمامے باندھے، اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ کپڑا لٹکانے میں تکبر اور غرور کو بڑا دخل ہے یہ بہت ہی بری عادت ہے تکبر اور غرور کے ساتھ کتنی ہی نیکی ہو لیکن آدمی نجات نہیں پا سکے گا اور عاجزی اور فروتنی کے ساتھ کتنے بھی گناہ ہوں لیکن مغفرت کی امید ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5783 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5783 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5783. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نطر رحمت سے نہیں دیکھے گا جو تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:5783]
حدیث حاشیہ:
(1)
کپڑا گھسیٹ کر چلنا انتہائی معیوب ہے۔
اس میں چادر، قمیص، شلوار، جبہ، کوٹ اور پگڑی وغیرہ شامل ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’حد سے زیادہ کپڑا لٹکانا تہ بند، قمیص اور پگڑی تمام میں ممنوع ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4094)
یہ اسراف ہے اور تکبر کی علامت قرار دیا گیا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا تھا: ’’ٹخنوں سے نیچے چادر لٹکانے سے بچنا کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4084)
البتہ عورتوں کو ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کی اجازت ہے۔
(2)
گویا اس انداز میں نسوانیت کا پہلو بھی ہے جو مردوں کو زیب نہیں دیتا۔
مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنے لباس میں مردانہ صفات کا اظہار کریں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ تہ بند اور شلوار وغیرہ ٹخنوں سے اونچی ہو۔
اس کی مزید وضاحت آئندہ ہو گی۔
بہرحال مسلمانوں کو اپنے لباس میں اسراف اور تکبر سے بچنا چاہیے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5783 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 86 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نبیذ سے وضو`
«. . . عَنْ عَطَاءٍ،" أَنَّهُ كَرِهَ الْوُضُوءَ بِاللَّبَنِ وَالنَّبِيذِ، وَقَالَ: إِنَّ التَّيَمُّمَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهُ . . .»
". . . عطاء سے روایت ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے: اس سے تو مجھے تیمم ہی زیادہ پسند ہے . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 86]
فوائد و مسائل:
➊ پانی میں کوئی پاک چیز مل جائے تو اس کے پاک رہنے میں کوئی شبہ نہیں، مگر لازمی ہے کہ اس اختلاط سے پانی پانی ہی رہے۔ اگر وہ مائع پانی کے بجائے شربت، لسی یا شوربے وغیرہ سے موسو م ہو جاتا ہے تو وہ پانی نہ رہا اور اس سے وضو یا غسل کا کوئی معنیٰ نہیں۔
➋ ’’نبیذ‘‘ عرب کا خاص مشروب ہے جو وہ خشک کھجور یا منقیٰ کو پانی میں بھگوئے رکھنے سے تیار کرتے تھے جیسے ہمارے ہاں املی اور آلو بخارے سے شربت بنایا جاتا ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں کی طرح جنوں کی طرف بھی مبعوث کیے گئے تھے، کئی ایک مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تبلیغ اور وعظ بھی فرمایا تھا۔ قرآن مجید میں سورہ جن بالخصوص اس مسئلے کو واضح کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 86 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 242 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
´نبیذ سے اور کسی نشہ والی چیز سے وضو جائز نہیں`
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " . . . .»
". . . عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پینے کی ہر وہ چیز جو نشہ لانے والی ہو حرام ہے . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ لاَ يَجُوزُ الْوُضُوءُ بِالنَّبِيذِ وَلاَ الْمُسْكِرِ:: 242]
تشریح:
نبیذ کھجور کے شربت کو کہتے ہیں جو میٹھا ہو اور اس میں نشہ نہ آیا ہو۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے وضو جائز رکھا ہے جب پانی نہ ملے اور امام شافعی و امام احمد و دیگر جملہ ائمہ اہل حدیث کے نزدیک نبیذ سے وضو جائز نہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ حسن کے اثر کو ابن ابی شیبہ نے اور ابوالعالیہ کے اثر کو دارقطنی اور عطاء کے اثر کو ابوداؤد نے موصولاً روایت کیا ہے۔ حدیث الباب کا مقصد یہ ہے کہ نشہ آور چیز حرام ہوئی تو اس سے وضو کیوں کر جائز ہو گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 242 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 242 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
242. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتی ہیں، آپ نے فرمایا: ’’ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، حرام ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:242]
حدیث حاشیہ: نبیذ کھجور کے شربت کو کہتے ہیں جو میٹھا ہو اور اس میں نشہ نہ آیا ہو۔
حضرت امام ابوحنیفہ ؒ نے اس سے وضو جائز رکھا ہے، جب پانی نہ ملے اور امام شافعی وامام احمد ودیگر جملہ ائمہ اہل حدیث کے نزدیک نبیذ سے وضو جائز نہیں۔
امام بخاری ؒ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
حسن کے اثر کو ابن ابی شیبہ نے اور ابوالعالیہ کے اثر کو دارقطنی اور عطاء کے اثر کو ابوداؤد نے موصولاً روایت کیا ہے۔
حدیث الباب کا مقصد یہ ہے کہ نشہ آور چیز حرام ہوئی تو اس سے وضو کیوں کر جائز ہوگا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 242 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 242 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
242. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتی ہیں، آپ نے فرمایا: ’’ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، حرام ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:242]
حدیث حاشیہ:

پانی میں شامل ہونے والی چیزیں دوطرح کی ہوتی ہیں: ناپاک اور پاک۔
پھر پاک کی دوقسمیں ہیں: ایک وہ جو پاک ہونے کے باوجود قابل نفرت ہوتی ہیں، جیسے تھوک یا بلغم وغیرہ۔
دوسری وہ جو قابل نفرت نہیں ہوتیں، جیسے کھجور وغیرہ۔
امام بخاری ؒ کا فیصلہ ہے کہ اگر پانی میں کوئی ناپاک چیز شامل ہوگئی اور اس نے تغیر پیدا کردیا تو اس سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے۔
اور پاک مگر قابل نفرت چیزوں کے متعلق اس سے پہلے باب میں وضاحت کرآئے ہیں۔
اب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر پانی میں کوئی چیز مل جائے جوپاک ہونے کے ساتھ ساتھ قابل نفرت نہ ہو اور اس نے پانی کے تینوں اوصاف میں سے کوئی وصف بدل دیا اس پر پانی کا اطلاق نہ ہوسکے تو اس سے وضو جائز نہیں۔
امام بخاری ؒ کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اگر پانی میں ملنے والی کسی چیز سے نہ پانی کا نام بدلا اور نہ اس کے اوصاف ہی میں کوئی تبدیلی آئی، ایسی صورت میں اس سے وضو کرنا ناجائز نہیں ہوگا۔

امام بخاری ؒ نے اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے حدیث عائشہ ؓ کو بیان فرمایا ہے کہ ہروہ مشروب جو نشہ آور ہوحرام ہے۔
وضو ایک عبادت ہے جس میں کسی حرام چیز کو استعمال نہیں کیا جاسکتا، لہذا نشہ آور چیز سے وضو کرنا حرام ہے۔
امام بخاری ؒ کا استدلال بایں طور ہے کہ سکر(نشہ آورچیز)
میں تعمیم ہے: سکر بالفعل ہو، جیسے شراب وغیرہ یا بالقوہ ہو، جیسے نبیذ وغیرہ، ان سے وضو کرنا درست نہیں ہے۔
نبیذ میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ اگر سے زیادہ دیر تک رکھا جائے یا اسے زیادہ جوش دیا جائےتو اس میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ نبیذ تیار ہوجانے کے بعد اس سے لفظ’’پانی‘‘ زائل ہوجاتا ہے، یعنی اس پر پانی کالفظ نہیں بولا جاتا جبکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾’’جب تم پانی نہ پاؤ تو پاکیزہ مٹی سے تیمم کرلو۔
‘‘(المائدہ۔

6)
امام بخاری ؒ نے اس سے بھی استدلال کیا ہے کہ نبیذ کی موجودگی میں تیمم تو ہوسکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس پانی نہیں۔
واضح رہے کہ جن روایات میں نبیذ سے وضو کرنے کی اجازت مروی ہے وہ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتیں، لہٰذا انھیں بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔

امام تدبر نے اس مقام پر بھی تدبر سے کام نہیں لیا اور جھٹ سے امام بخاری ؒ پراعتراض جڑ دیا ہے، ملاحظہ فرمائیں: ’’معلوم نہیں اس باب کے باندھنے کی کیا ضرورت تھی؟ پانی کے علاوہ کسی اور چیز سے وضو کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
‘‘(تدبرحديث: 334/1)
فقہائے احناف نے نبیذ سے وضو کرنے کے لیے ا پنی تمام ترعلمی اورفکری توانائیوں کو صرف کرڈالا ہے۔
فقہ کی ہرکتاب میں اسے بڑی شدومد سے بیان کیا گیا ہے۔
امام بخاری ؒ ان حضرات کی یہاں تردید فرمارہے ہیں، لیکن اصلاحی صاحب اس سے بے خبر ہیں نہ معلوم کیوں؟
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 242 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 73 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان`
«. . . وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه. رواه مسلم،‏‏‏‏ وعلقه البخاري. . . .»
". . . ´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔ "
اسے مسلم نے روایت کیا اور بخاری نے اس کو تعلیقاً نقل کیا ہے۔ . . ." [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/باب نواقض الوضوء: 73]
فوائد و مسائل:
➊ اس کا مطلب یہ ہے کہ جماع اور بول و براز وغیرہ کی حالت میں ذکر سے اجتناب کرنا ہے باقی اوقات میں ذکر کی اجازت ہے۔
➋ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جنابت کی حالت کے علاوہ قرآن پڑھا کرتے تھے۔ چونکہ زبان پاک ہے اس لیے زبانی ذکر الہی ہر وقت کیا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 73 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 634 کی شرح از محمد حسین میمن ✍️
´ کیا مؤذن اذان میں اپنا منہ ادھر ادھر (دائیں بائیں) پھرائے`
«. . . عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّهُ رَأَى بِلَالًا يُؤَذِّنُ، فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا بِالْأَذَانِ . . .»
". . . عون بن ابی حجیفہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے کہ انھوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ: 634]
فوائد و مسائل:
باب اور حدیث میں مناسبت:
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب میں اذان کے وقت اِدھر اُدھر منہ کرنے کو پیش فرمایا ہے یہاں مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ نماز کے لئے وضو شرط ہے اور بندہ نماز میں التفات اِدھر اُدھر اپنے منہ نہیں کر سکتا اس لئے کہ نماز میں قبلہ رو ہونا شرط ہے، لہٰذا جب اذان میں اِدھر اُدھر بندہ اپنا منہ کر سکتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے لئے وضو شرط نہیں ہے جیسا کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل نقل کیا کہ آپ علیہ السلام ہر حالت میں ذکر فرماتے تھے تو معلوم ہوا کہ ہر حالت میں ذکر کرنے کے لئے وضو شرط نہیں اور اذان دینا بھی ایک ذکر ہے اور اس پر بھی وضو شرط نہیں ہے۔
◈ ابوجحیفہ سے جو اثر منقول ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان میں اِدھر اُدھر منہ کیا کرتے تھے یہ بھی اسی مسئلہ پر دال ہے۔ «والله اعلم»
◈ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «غرضه اثبات ان الأذان غير ملحق بالصلاة فى الاحكام ولا يشترط فيه الاستقبال، وبهذا يتحقق المناسبة بين الترجمة والاثار الواردة فيه» [شرح تراجم ابواب البخاري، ص202]
"امام بخاری رحمہ اللہ کی غرض یہ ہے کہ آپ ثابت کر رہے ہیں کہ اذان نماز کے ساتھ ملحق نہیں ہے اور نہ ہی اس میں (بیت اللہ کی طرف منہ کرنا) استقبال کی کوئی شرط ہے۔"
لہٰذا یہی مناسبت ہے ترجمۃ الباب کی ان آثار کے ساتھ جو وارد ہوئے ہیں۔
◈ امام عبدالله بن سالم البصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لأن الأذان من جملة الاذكار فلا يشترط فيه ما يشترط فى الصلاة من الطهارة ولا من استقبال القبلة كما لا يستحب فيه الخشوع الذى ينافيه الالتفات» [ضياء الباري فى مالك ابواب البخاري، ج7، ص74]
"اذان دراصل اذکار میں سے ہے اس (کی ادائیگی کے لئے) وہ شرائط نہیں ہیں جو نماز کی ہیں۔ جیسے کہ طہارت کا ہونا، قبلہ رو ہونا اور اس میں خشوع کا ہونا بھی مستحب نہیں ہے جو التفات کے منافی ہو (یعنی اذان میں التفات کر سکتے ہیں)۔"
"امام بخاری رحمہ اللہ کا ترجمۃ الباب میں یہ مقصود ہے کہ مؤذن دائیں اور بائیں طرف التفات کر سکتا ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ میں (اذان دیتے ہوئے) اپنے منہ کو ادھر ادھر یعنی دائیں اور بائیں پھیرتا «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» پر۔
ان تصریحات کا حاصل یہ ہے کہ اذان میں جب التفات ہو سکتا ہے تو اس کا حکم نماز کا نہیں ہے کیونکہ نماز میں خشوع اور خضوع کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بس جب اذان کا حکم نماز جیسا نہیں تو اس کے لئے طہارت بھی شرط نہیں۔ یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہو گی۔
درج بالا اقتباس عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 182 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 634 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
634. حضرت ابوجحیفہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت بلال ؓ کو اذان کہتے ہوئے دیکھا۔ (وہ کہتے ہیں:) میں بھی اذان دیتے وقت ان کے چہرے کی اتباع کرتے ہوئے اذان میں اپنے چہرے کو اِدھر اُدھر پھیرتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:634]
حدیث حاشیہ: اس باب کے ذیل میں حضرت الامام ؒ نے کئی ایک مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔
مثلاً مؤذن کو حي علی الصلوٰة، حي علی الفلاح کے وقت دائیں بائیں منہ پھیرنا درست ہے نیز کانوں میں انگلیاں داخل کرنا بھی جائز ہے تاکہ آواز میں بلندی پیدا ہو۔
کوئی کانوں میں انگلیاں نہ ڈالیں توبھی کوئی حرج نہیں۔
وضو کر کے اذان کہنا بہتر ہے مگراس کے لیے وضو شرط نہیں ہے جن لوگوں نے وضو ضروری قرار دیا ہے، انھوں نے فضیلت کا پہلواختیار کیا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 634 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 634 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
634. حضرت ابوجحیفہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت بلال ؓ کو اذان کہتے ہوئے دیکھا۔ (وہ کہتے ہیں:) میں بھی اذان دیتے وقت ان کے چہرے کی اتباع کرتے ہوئے اذان میں اپنے چہرے کو اِدھر اُدھر پھیرتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:634]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ اذان دیتے ہوئے چہرے کو دائیں بائیں کیا جاسکتا ہے، نماز کی طرح قبلے کی طرف منہ کیے رکھنا ضروری نہیں۔
ایک روایت میں اس وقت کی تعیین بیان ہوئی ہے جب مؤذن اپنے چہرے کو دائیں بائیں پھیرے، یعنی حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے موقع پر اپنا چہرہ دائیں بائیں پھیرنا چاہیے۔
امام ابن خزیمہ ؒ نے اس روایت پر جو عنوان قائم کیا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ پورے بدن کو پھیرنے کے بجائے صرف اپنے چہرے کو پھیرنا چاہیے۔
مصنف عبدالرزاق کی روایت میں دو اضافے ہیں: ایک پورے بدن کو پھیرنا اور دوسرا اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالنا۔
ترمذی کی روایت سے بھی پتہ چلتا ہےکہ دائیں بائیں چہرہ پھیرنے کے بجائے پورے جسم سے گھومتے تھے لیکن بعض روایات میں گھومنے کی نفی بھی آئی ہے۔
ان کے درمیان بایں طور تطبیق دی گئی ہے کہ جن روایات میں گھومنے کا اثبات ہے اس سے مراد صرف چہرے کا پھیرنا ہے اور جن روایات میں گھومنے کی نفی ہے اس سے مراد پورے جسم کا پھیرنا ہے۔
(فتح الباري: 151/2)
بہرحال امام بخاری ؒ نے عنوان میں لفظ هل لا کر اشارہ کیا ہے کہ ان مسائل میں متقدمین کے ہاں اختلاف ہے، پھر آثار و احادیث سے اپنے رجحان کو واضح کیا ہے۔
والله أعلم.
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 634 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 634 کی شرح از الشیخ عبدالسلام بھٹوی ✍️
‏‏‏‏ اور بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اذان میں اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کیں۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اذان میں کانوں میں انگلیاں نہیں ڈالتے تھے۔ اور ابراہیم نخعی نے کہا کہ بےوضو اذان دینے میں کوئی برائی نہیں اور عطاء نے کہا کہ اذان میں وضو ضروری اور سنت ہے۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب وقتوں میں اللہ کو یاد فرمایا کرتے تھے۔ [صحيح بخاري ح: 634]
«باب هل يتتبع المؤذن فاه هاهنا وها هنا، وهل يلتفت فى الأذان»

باب: کیا مؤذن اذان میں اپنا منہ ادھر ادھر (دائیں بائیں) پھرائے اور کیا اذان کہتے وقت ادھر ادھر دیکھ سکتا ہے؟

فوائد:

➊ اس باب میں امام صاحب نے تین مسائل بیان کیے ہیں: ایک یہ کہ کیا مؤذن اذان میں دائیں اور بائیں جانب اپنا منہ پھیر سکتا ہے؟ دوسرا یہ کہ کیا مؤذن اذان کہتے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالے گا؟ اور تیسرا یہ کہ کیا اذان کے لیے وضو ضروری ہے؟ ان تمام مسائل کا اصل یہ ہے کہ اذان نماز سے الگ ایک عبادت ہے، اس میں وہ پابندیاں نہیں ہیں جو نماز میں ہیں، مثلاً نماز کے لیے باوضو ہونا، قبلہ رخ رہنا، ادھر ادھر نہ دیکھنا، کسی سے بات نہ کرنا، ہنسنے سے اجتناب کرنا اور خشوع و خضوع لازم ہے اور ان سب باتوں کی دلیل قرآن یا حدیث میں موجود ہے جب کہ اذان کے لیے ان میں سے کوئی پابندی قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔

➋ اذان کے دوران دائیں بائیں طرف پھرنے اور دیکھنے کے بارے میں آئندہ حدیث کے تحت بات ہو گی۔

➌ اذان کے دوران کانوں میں انگلیاں ڈالنے سے متعلق امام صاحب نے دو آثار نقل کیے ہیں: ایک یہ کہ بلال رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں ڈالیں۔ دوسرا یہ کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کانوں میں انگلیاں نہیں ڈالتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس میں وسعت ہے، کانوں میں انگلیاں ڈالے یا نہ ڈالے دونوں طرح ٹھیک ہے۔ البتہ ایک بات قابلِ توجہ ہے کہ انھوں نے بلال رضی اللہ عنہ کے اثر کو «يُذْكَرُ» (ذکر کیا جاتا ہے) کے الفاظ سے بیان کیا ہے، جو وہ عام طور پر ایسی روایت کے متعلق استعمال کرتے ہیں جس میں کوئی کمزوری ہوتی ہے، جب کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اثر کو ایسے الفاظ سے بیان کیا ہے جن میں جزم و یقین ہے، اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ان کے نزدیک ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل راجح ہے، اگرچہ دوسرا بھی جائز ہے۔ البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کچھ آثار و شواہد کے ساتھ اسے قوی بنایا ہے، جن میں سے ایک ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ترمذی کی حدیث ہے کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہتے ہوئے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے اور منہ کو اِدھر اور اُدھر لے جا رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے کانوں میں تھیں۔ [ترمذي: 197] ترمذی نے اسے حسن صحیح اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کانوں میں انگلیاں ڈالنے کے دو فائدے ہیں: ایک یہ کہ اس سے آواز بلند ہو جاتی ہے، دوسرا یہ کہ یہ اذان کی علامت ہے، دور والا یا بہرا آدمی اسے دیکھ کر جان لیتا ہے کہ مؤذن اذان کہہ رہا ہے۔ آج کل لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں ڈالنے یا دائیں بائیں پھرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہی، اس لیے اگر یہ عمل نہ بھی کیے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔

➍ اذان باوضو ہو کر کہنے کے متعلق امام صاحب نے ایک قول ابراہیم نخعی کا بیان کیا ہے کہ وضو کے بغیر اذان کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ دوسرا عطاء کا کہ وضو حق اور سنت ہے مگر ساتھ ہی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ذکر کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی بات کو ترجیح دے رہے ہیں کہ اذان کے لیے وضو ضروری نہیں۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ باوضو اذان کہنا یا اللہ تعالی کا کوئی بھی ذکر کرنا بےبوضو سے افضل ہے، کیونکہ وضو اپنی جگہ خود ایک عبادت ہے۔

فائدہ:

ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت کا کچھ حصہ حدیث (187) میں گزر چکا ہے۔ اس حدیث میں مؤذن کے منہ کو ادھر ادھر پھیرنے کا ذکر ہے۔ صحیح مسلم میں اس کے راوی سفیان سے وکیع کی روایت مفصل ہے۔ اس کے لفظ یہ ہیں: «فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا - يَقُولُ: يَمِينًا وَشِمَالًا - يَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» [مسلم: 503/249] "تو میں بھی ان کے منہ کی پیروی کرتے ہوئے ادھر ادھر یعنی دائیں اور بائیں طرف اپنا منہ پھیرنے لگا، جب وه «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَي الْفَلَاحِ» کہہ رہے تھے۔" اس میں اذان میں منہ ادھر ادھر پھیرنے کا موقع بھی بیان ہوا ہے کہ وہ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کے وقت ہے اور یہ کہ ادھر ادھر صرف منہ پھیرنا ہے، پورا جسم نہیں پھیرنا۔ ابن خزیمہ نے اس حدیث (387) پر ان دونوں باتوں کا باب قائم کیا ہے۔ پھر اس بات میں اختلاف ہے کہ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» میں دونوں دفعہ دائیں طرف اور «حَيَّ عَلَى الفَلَاحِ» میں دونوں دفعہ بائیں طرف منہ پھیرنا چاہیے یا «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَي الْفَلَاح» دونوں میں ایک دفعہ دائیں اور ایک دفعہ بائیں طرف منہ پھیرنا چاہیے۔ ابن بطال نے [شرح صحيح بخاري] میں فرمایا: پہلی صورت حدیث کے الفاظ کے زیادہ قریب ہے جب کہ دوسری صورت میں دونوں کلموں کو دائیں اور بائیں جانب کا حصہ مل جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اس منہ پھیرنے کا فائدہ اس وقت ہے جب کسی اونچی جگہ اذان کہہ رہا ہو اور دائیں اور بائیں دونوں جانب آواز دور تک پہنچانا مقصود ہو۔ لاؤڈ سپیکر میں اس کی ضرورت نہیں، ہاں! بلال رضی اللہ عنہ سے مشابہت کا شرف حاصل کرنے کے لیے منہ پھیر لے تو بہتر ہے۔ اس حدیث سے بھی اذان اور نماز کا فرق واضح ہو رہا ہے کہ نماز میں نہ دائیں بائیں منہ پھیرنا جائز ہے نہ ادھر ادھر دیکھنے کی اجازت ہے جب کہ اذان میں بلال رضی اللہ عنہ یہ دونوں کام کرتے تھے۔

یہاں اذان سے متعلقہ مسائل ختم ہیں، اس کے بعد نماز با جماعت کے مسائل ذکر ہوں گے۔
درج بالا اقتباس فتح السلام بشرح صحیح البخاری الامام، حدیث/صفحہ نمبر: 634 سے ماخوذ ہے۔