صحيح البخاري
كتاب الاستقراض— کتاب: قرض لینے ادا کرنے حجر اور مفلسی منظور کرنے کے بیان میں
بَابُ حُسْنِ التَّقَاضِي: باب: تقاضے میں نرمی کرنا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَاتَ رَجُلٌ ، فَقِيلَ لَهُ : قَالَ : كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فَأَتَجَوَّزُ عَنِ الْمُوسِرِ وَأُخَفِّفُ عَنِ الْمُعْسِرِ ، فَغُفِرَ لَهُ " . قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے مسلم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک نے ، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کا انتقال ہوا ( قبر میں ) اس سے سوال ہوا ، تمہارے پاس کوئی نیکی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا ۔ ( اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا ) تو میں مالداروں کو مہلت دیا کرتا تھا اور تنگ دستوں کے قرض کو معاف کر دیا کرتا تھا اس پر اس کی بخشش ہو گئی ۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾ (البقرة: 280)
یعنی اگر مقروض تنگ دست ہو تو اس کو ڈھیل دینا بہتر ہے۔
اور اگر اس پر صدقہ ہی کردو تو یہ اور بھی بہتر ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ عمل عنداللہ بہت ہی پسندیدہ ہے۔
(1)
اس حدیث سے تقاضا کرتے وقت نرمی کرنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا بھی ذکر ہے کہ وہ معمولی سی نیکی کے بدلے بڑے بڑے گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ جب انسان اچھی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ کی رحمت سے وہ خسارے میں نہیں رہتا۔
(2)
حدیث میں مذکور نیکی کو قرآن کریم نے ایک دوسرے انداز سے بیان کیا ہے کہ اگر مقروض تنگ دست ہے تو اسے کشادگی تک مزید مہلت دے دو اور اگر بالکل ہی معاف کر دو تو یہ سب سے زیادہ بہتر ہے۔
(البقرة: 280: 2)
بہرحال تقاضا کرتے وقت نرمی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا اللہ کے ہاں انتہائی پسندیدہ عمل ہے۔