صحيح البخاري
كتاب الاستقراض— کتاب: قرض لینے ادا کرنے حجر اور مفلسی منظور کرنے کے بیان میں
بَابُ أَدَاءِ الدُّيُونِ: باب: قرضوں کا ادا کرنا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَبْصَرَ يَعْنِي أُحُدًا ، قَالَ : مَا أُحِبُّ أَنَّهُ يُحَوَّلُ لِي ذَهَبًا يَمْكُثُ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا دِينَارًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ ، إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا ، وَأَشَارَ أَبُو شِهَابٍ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَعَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ، وَقَالَ : مَكَانَكَ ، وَتَقَدَّمَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ مَكَانَكَ حَتَّى آتِيَكَ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الَّذِي سَمِعْتُ أَوْ قَالَ الصَّوْتُ الَّذِي سَمِعْتُ ، قَالَ : وَهَلْ سَمِعْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، قُلْتُ : وَإِنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : نَعَمْ " .´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا ، آپ کی مراد احد پہاڑ ( کو دیکھنے ) سے تھی ۔ تو فرمایا کہ میں یہ بھی پسند نہیں کروں گا کہ احد پہاڑ سونے کا ہو جائے تو اس میں سے میرے پاس ایک دینار کے برابر بھی تین دن سے زیادہ باقی رہے ۔ سوا اس دینار کے جو میں کسی کا قرض ادا کرنے کے لیے رکھ لوں ۔ پھر فرمایا ، ( دنیا میں ) دیکھو جو زیادہ ( مال ) والے ہیں وہی محتاج ہیں ۔ سوا ان کے جو اپنے مال و دولت کو یوں اور یوں خرچ کریں ۔ ابوشہاب راوی نے اپنے سامنے اور دائیں طرف اور بائیں طرف اشارہ کیا ، لیکن ایسے لوگوں کی تعداد کم ہوتی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہیں ٹھہرے رہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دور آگے کی طرف بڑھے ۔ میں نے کچھ آواز سنی ( جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے باتیں کر رہے ہوں ) میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آیا کہ ” یہیں اس وقت تک ٹھہرے رہنا جب تک میں نہ آ جاؤں “ اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ابھی میں نے کچھ سنا تھا ۔ یا ( راوی نے یہ کہا کہ ) میں نے کوئی آواز سنی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم نے بھی سنا ! میں نے عرض کیا کہ ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے تھے اور کہہ گئے ہیں کہ تمہاری امت کا جو شخص بھی اس حالت میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو ، تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ میں نے پوچھا کہ اگرچہ وہ اس طرح ( کے گناہ ) کرتا رہا ہو ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ہاں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے رسول اللہ ﷺ کی فیاضی اور سخاوت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اُحد پہاڑ کے سونا بننے کی تمنا کی تاکہ میں اسے تین دن کے اندر اندر لوگوں میں تقسیم کر دوں۔
آپ کی غریب پروری کو بیان کیا گیا ہے، نیز پتا چلا کہ رسول اللہ ﷺ ادائیگی قرض کے معاملے میں انتہائی حساس تھے۔
آپ نے فرمایا: ’’تقسیم کے بعد میرے پاس سونا اتنا ہی بچے جس سے میں قرض ادا کر سکوں۔
‘‘ (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرض کی ادائیگی صدقہ و خیرات کرنے پر مقدم ہے، نیز اس کی ادائیگی کے لیے انسان کو ہر وقت فکرمند رہنا چاہیے۔
یہ ہر دو قول غلط ہیں اور اہل سنت ہی کا مذہب صحیح ہے۔
مومن مسلمان کے لئے بہر حال بخشش مقدرہے۔
یا اللہ! اپنی بخشش سے ہم کو بھی سرفراز فرمائیو۔
(آمین)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے دنیا میں فقر و تنگدستی کا انتخاب کیا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو قناعت، صبر اور توکل کا وافر سرمایہ دے کر ہوس زر سے فارغ کر دیا، اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر و فاقے کی جس حالت میں زندگی گزاری وہ اپنے لیے آپ نے خود ہی پسند کی تھی اور اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے اسے خود مانگا تھا۔
واللہ المستعان
(1)
مَلَأٌ: اشراف و سردار۔
(2)
أَخْشَنُ: سخت اور کھردرا، جس میں ملائمت اور نرمی نہ ہو۔
(3)
رَضْفٍ: گرم پتھر۔
(4)
يُحْمَى عَلَيْهِ: اسے تپایا اور گرم کیا جائے گا۔
(5)
حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ: سر پستان۔
(6)
نُغْضِ: شانے (کندھے)
کے کنارے کی پتلی اور باریک ہڈی۔
(7)
لَا تَعْتَرِيهِمْ: اپنی ضرورت پوری کرنے کا ان سے مطالبہ نہیں کرتے۔
فوائد ومسائل: (1)
جمہور صحابہ و تابعین اور جمہور امت کے نزدیک کنز اس خزانہ اور مال و دولت کو کہتے ہیں جو زکاۃ کے نصاب کو پہنچ جاتا ہے لیکن مال کا مالک اس کی زکاۃ ادا کرنے کی بجائے اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاتا ہے اور اس کو محتاجوں ضرورتمندوں کی ضروریات کے لیے صرف کر کے اللہ کا شکر گزار نہیں بنتا ہے لیکن جو مال حد نصاب کو نہیں پہنچتا کنز نہیں ہے کیونکہ شریعت نے اس پر زکاۃ فرض نہیں کی۔
لہٰذا وہ نصاب جس سے زکاۃ ادا کر دی جائے وہ بھی کنز نہیں رہے گا۔
کیونکہ مالک نے اسے محتاجوں اور ضرورتمندوں پر خرچ کیا ہے اس لیے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ جو مال زکاۃ کی ادائیگی کے نصاب کو پہنچا اور اس کی زکاۃ ادا کردی گئی تو وہ کنز نہیں ہے (سنن ابو داؤد)
علامہ عراقی کہتے ہیں سندہ جید، اس کی سند عمدہ اور قابل اعتماد ہے ہاں جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔
انسان کے لیے بلند ترین مقام جس پر ہمیشہ کم لوگ ہی فائز ہوتے ہیں وہ یہی ہے کہ وہ ضروریات سے زائد اپنا تمام مال و دولت دین اور اہل دین کی ضروریات میں صرف کر دے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ تبوک کے موقع پر اپنا تمام مال و متاع آپ کے سامنے لا رکھا تھا۔
اور یہ شرف صرف ابو بکر کو ہی حاصل ہوا تھا۔
(2)
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نظریہ، یہ تھا (غلہ وخوراک مویشیوں کے سوا)
مسلمان اپنا تمام مال و دولت یعنی سونا چاندی اور کیش کی صورت میں جو کچھ ہے وہ اپنی ضرورت سے زائد سب کا سب خرچ کردیں اور یہ اس کے لیے لازم اور ضروری ہے۔
اس طرح وہ وجوبی ولازمی اور استحبابی و مندوب حکم میں امتیاز نہیں کرتے تھے حالانکہ یہ بات مقاصد شریعت اور اس کی روح کے منافی ہے۔
کیونکہ تمام انسان اعلیٰ معیار اور بلند مقام پر یکساں طور پر فائز نہیں ہو سکتے تمام افراد کو تو فرائض ہی کا پابند کیا جا سکتا ہے۔
اگر حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نظریہ ہی لازم ہوتا تو پھر زکاۃ صدقات اور وراثت مال کی تقسیم کی ضرورت ہی نہ رہتی اور کم ازکم خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اس کی لازمی طور پر پابندی کرتے حالانکہ یہ ابھی بتا چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی صحابی نے بھی اپنا تمام اندوختہ پیش نہیں کیا تھا اور امت میں سے کسی امام نے اس نظریہ کو قبول نہیں کیا۔
لیکن حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زندگی بھر اپنے نظریہ پر عمل کیا اور کھانے پینے لباس کے سوا کوئی مال و متاع یا ساز وسامان نہیں جوڑا اور اشتراکیوں کی طرح محض پر فریب نعرہ لگانے پر اکتفا نہیں کیا کہ اپنے گھر میں عیش و عشرت کا ہر سامان جمع ہے وافر بینک بیلنس ہے اور زبان پر نعرہ ابو ذری ہے۔