صحيح البخاري
كتاب الاستقراض— کتاب: قرض لینے ادا کرنے حجر اور مفلسی منظور کرنے کے بیان میں
بَابُ مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَوْ إِتْلاَفَهَا: باب: جو شخص لوگوں کا مال ادا کرنے کی نیت سے لے اور جو ہضم کرنے کی نیت سے لے۔
حدیث نمبر: 2387
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ ، وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ " .مولانا داود راز
´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، ان سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے ثور بن زید نے ، ان سے ابوغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی لوگوں کا مال قرض کے طور پر ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف سے ادا کرے گا اور جو کوئی نہ دینے کے لیے لے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو تباہ کر دے گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
2387. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جو شخص لوگوں سے مال اس نیت سے لیتا ہے کہ وہ اس کی ادائیگی کرے گاتو اللہ تعالیٰ اسے ادا کرنے کی توفیق دے گا اور جو شخص لوگوں کا مال ضائع کردینے کے ارادے سے لے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع کردے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2387]
حدیث حاشیہ: حدیث نبوی اپنے مطلب میں واضح ہے۔
جس کی نیت ادا کرنے کی ہوتی ہے اللہ پاک بھی ضرور اس کے لیے کچھ نہ کچھ اسباب وسائل بنا دیتا ہے۔
جن سے وہ قرض ادا کرا دیتا ہے اور جن کی نیت ادا کرنے کی ہی نہ ہو، اس کی اللہ بھی مدد نہیں کرتا۔
اس صورت میں قرض لینا گویا لوگوں کے مال پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔
پھر ایسے لوگوں کی ساکھ بھی ختم ہوجاتی ہے۔
اور سب لوگ اس کی بے ایمانی سے واقف ہو کر اس سے لین دین ترک کردیتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ قرض لیتے وقت ادا کرنے کی نیت اور فکر ضروری ہے۔
جس کی نیت ادا کرنے کی ہوتی ہے اللہ پاک بھی ضرور اس کے لیے کچھ نہ کچھ اسباب وسائل بنا دیتا ہے۔
جن سے وہ قرض ادا کرا دیتا ہے اور جن کی نیت ادا کرنے کی ہی نہ ہو، اس کی اللہ بھی مدد نہیں کرتا۔
اس صورت میں قرض لینا گویا لوگوں کے مال پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔
پھر ایسے لوگوں کی ساکھ بھی ختم ہوجاتی ہے۔
اور سب لوگ اس کی بے ایمانی سے واقف ہو کر اس سے لین دین ترک کردیتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ قرض لیتے وقت ادا کرنے کی نیت اور فکر ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2387 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2387. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جو شخص لوگوں سے مال اس نیت سے لیتا ہے کہ وہ اس کی ادائیگی کرے گاتو اللہ تعالیٰ اسے ادا کرنے کی توفیق دے گا اور جو شخص لوگوں کا مال ضائع کردینے کے ارادے سے لے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع کردے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2387]
حدیث حاشیہ:
بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ان کی نیتوں کے مطابق ہوتا ہے۔
اگر وہ نیت رکھتے ہیں تو انہیں دنیا و آخرت میں اس کا پھل دیتا ہے اور اگر کسی کی نیت میں فساد ہے تو اسے اس کی بدنیتی کی وجہ سے برے اثرات سے دوچار کر دیتا ہے۔
جو انسان کسی سے کوئی چیز یا نقدی لیتا ہے اور اس کی نیت ادا کرنے کی ہوتی ہے تو اس کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالیٰ دنیا میں کوئی نہ کوئی سبب پیدا کر دیتا ہے یا پھر آخرت میں اللہ تعالیٰ قرض خواہ کو حوریں اور خوبصورت محلات دے کر راضی کر دے گا اور مقروض کو لوگوں کے سامنے ذلیل و خوار نہیں کرے گا۔
اس کے برعکس اگر اس کی نیت ادا کرنے کی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی دنیا ہی میں ساکھ خراب کر دیتا ہے۔
دوسرے لوگ اس کی بے ایمانی سے واقف ہو کر اس کے ساتھ لین دین ترک کر دیتے ہیں، نیز اس کی زندگی تنگ ہو جاتی ہے یا اسے کوئی جانی یا مالی نقصان ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اسے عذاب سے دوچار کیا جائے گا، الغرض قرض لیتے وقت ہی ادا کرنے کی نیت اور فکر ضروری ہے۔
بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ان کی نیتوں کے مطابق ہوتا ہے۔
اگر وہ نیت رکھتے ہیں تو انہیں دنیا و آخرت میں اس کا پھل دیتا ہے اور اگر کسی کی نیت میں فساد ہے تو اسے اس کی بدنیتی کی وجہ سے برے اثرات سے دوچار کر دیتا ہے۔
جو انسان کسی سے کوئی چیز یا نقدی لیتا ہے اور اس کی نیت ادا کرنے کی ہوتی ہے تو اس کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالیٰ دنیا میں کوئی نہ کوئی سبب پیدا کر دیتا ہے یا پھر آخرت میں اللہ تعالیٰ قرض خواہ کو حوریں اور خوبصورت محلات دے کر راضی کر دے گا اور مقروض کو لوگوں کے سامنے ذلیل و خوار نہیں کرے گا۔
اس کے برعکس اگر اس کی نیت ادا کرنے کی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی دنیا ہی میں ساکھ خراب کر دیتا ہے۔
دوسرے لوگ اس کی بے ایمانی سے واقف ہو کر اس کے ساتھ لین دین ترک کر دیتے ہیں، نیز اس کی زندگی تنگ ہو جاتی ہے یا اسے کوئی جانی یا مالی نقصان ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اسے عذاب سے دوچار کیا جائے گا، الغرض قرض لیتے وقت ہی ادا کرنے کی نیت اور فکر ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2387 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2411 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جس شخص نے قرض اس نیت سے لیا کہ اسے واپس نہیں لوٹانا ہے اس کی شناعت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو لوگوں کا مال لے اور اس کو ہڑپ کرنا چاہتا ہو تو اس کو اللہ تباہ کر دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2411]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو لوگوں کا مال لے اور اس کو ہڑپ کرنا چاہتا ہو تو اس کو اللہ تباہ کر دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2411]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ضائع کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اسے واپس نہیں کرنا چاہتا، مالک کے لحاظ سے یہ مال تباہ ہو گیا کیونکہ اسے واپس نہیں ملے گا۔
(2)
حرام طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال میں برکت نہیں ہوتی۔
(3)
ایسے جرم کی سزا دنیا میں بھی مل سکتی ہے کہ اس شخص پرایسے حالات آ جائیں کہ وہ مفلس ہو جائے اورآخرت میں بھی سزا مل سکتی ہےکہ اس کے اعمال ضائع ہوجائیں یا قرض خواہ کو دے دیے جائیں اوروہ خود جہنم میں چلا جائے۔
یہ بہت بڑی تباہی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ضائع کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اسے واپس نہیں کرنا چاہتا، مالک کے لحاظ سے یہ مال تباہ ہو گیا کیونکہ اسے واپس نہیں ملے گا۔
(2)
حرام طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال میں برکت نہیں ہوتی۔
(3)
ایسے جرم کی سزا دنیا میں بھی مل سکتی ہے کہ اس شخص پرایسے حالات آ جائیں کہ وہ مفلس ہو جائے اورآخرت میں بھی سزا مل سکتی ہےکہ اس کے اعمال ضائع ہوجائیں یا قرض خواہ کو دے دیے جائیں اوروہ خود جہنم میں چلا جائے۔
یہ بہت بڑی تباہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2411 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 721 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´پیشگی ادائیگی، قرض اور رھن کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو شخص لوگوں کا مال (بطور قرض) لے اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کا (قرض) ادا فرما دے گا اور جو شخص ان (کے) اموال ضائع کرنے کی نیت سے لے تو اللہ تعالیٰ اسے ضائع کر دے گا۔ “ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 721»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو شخص لوگوں کا مال (بطور قرض) لے اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کا (قرض) ادا فرما دے گا اور جو شخص ان (کے) اموال ضائع کرنے کی نیت سے لے تو اللہ تعالیٰ اسے ضائع کر دے گا۔ “ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 721»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الاستقراض، باب من أخذ أموال الناس يريد أداءها، حديث:2387.»
تشریح: جو شخص مجبوری کی صورت میں قرض لے اور ادائیگی کی نیت رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے اسباب و وسائل اور ادا کرنے کی توفیق دے دیتا ہے اور جس کی نیت مال ہڑپ کرنے کی ہو تو اسے ادائیگی کے اسباب و وسائل میسر نہیں ہوتے اور اگر میسر ہو بھی جائیں تو دل کی تنگی کی وجہ سے ادا کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔
«أخرجه البخاري، الاستقراض، باب من أخذ أموال الناس يريد أداءها، حديث:2387.»
تشریح: جو شخص مجبوری کی صورت میں قرض لے اور ادائیگی کی نیت رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے اسباب و وسائل اور ادا کرنے کی توفیق دے دیتا ہے اور جس کی نیت مال ہڑپ کرنے کی ہو تو اسے ادائیگی کے اسباب و وسائل میسر نہیں ہوتے اور اگر میسر ہو بھی جائیں تو دل کی تنگی کی وجہ سے ادا کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 721 سے ماخوذ ہے۔