صحيح البخاري
كتاب المساقاة— کتاب: مساقات کے بیان میں
بَابُ كِتَابَةِ الْقَطَائِعِ: باب: قطعات اراضی بطور جاگیر دے کر ان کو سند لکھ دینا۔
وَقَالَ اللَّيْثُ : عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ فَعَلْتَ فَاكْتُبْ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " .´اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا کر بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینے چاہے تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اگر آپ کو ایسا کرنا ہی ہے تو ہمارے بھائی قریش ( مہاجرین ) کو بھی اسی طرح کی قطعات کی سند لکھ دیجئیے ۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی زمین ہی نہ تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ” میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر مقدم کیا جائے گا ۔ تو اس وقت تم مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
ہندوستان میں شاہان اسلام نے ایسی کتنی سندیں تانبے کے پتروں پر کندہ کرکے بہت سے مندروں کے پچاریوں کو دی ہیں۔
جن میں ان کے لیے زمینوں کا ذکر ہے پھر بھی تعصب کا برا ہوا کہ آج ان کی شاندار تاریخ کو مسخ کرکے مسلمانوں کے خلاف فضا تیار کی جارہی ہے۔
اللهم انصر الإسلام و المسلمین آمین
(1)
اس حدیث میں دو چیزوں کا اضافہ ہے: ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ جاگیر کے متعلق حکم نامہ تحریر کرنا چاہتے تھے تاکہ ریکارڈ رہے اور آئندہ کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہو، دوسرا یہ کہ اس وقت انصار کی خواہش پوری کرنے کا امکان نہیں تھا۔
حالات ایسے تھے، شاید بحرین کی زمین اس قدر زیادہ نہ تھی کہ مہاجرین اور انصار دونوں کے لیے پوری ہوتی۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حکومت اگر کسی کو بطور انعام جاگیر دینا چاہے تو اس کی سند لکھ دینا ضروری ہے تاکہ وہ آئندہ ان کے کام آئے اور کوئی دوسرا ان کا حق مار نہ سکے۔
شاہانِ اسلام کی عطا کردہ سندیں آج بھی عجائب گھروں کی زینت ہیں۔
حالات کے مطابق ایسا کرنا ضروری ہے۔