صحيح البخاري
كتاب المساقاة— کتاب: مساقات کے بیان میں
بَابُ مَنْ رَأَى أَنَّ صَاحِبَ الْحَوْضِ وَالْقِرْبَةِ أَحَقُّ بِمَائِهِ: باب: جن کے نزدیک حوض والا اور مشک کا مالک ہی اپنے پانی کا زیادہ حقدار ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ : رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى وَهُوَ كَاذِبٌ ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ، وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَيَقُولُ اللَّهُ الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَا لَمْ تَعْمَلْ يَدَاكَ " . قَالَ عَلِيٌّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے ابوصالح سمان نے ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین طرح کے آدمی ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات بھی نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھے گا ۔ وہ شخص جو کسی سامان کے متعلق قسم کھائے کہ اسے اس کی قیمت اس سے زیادہ دی جا رہی تھی جتنی اب دی جا رہی ہے حالانکہ وہ جھوٹا ہے ۔ وہ شخص جس نے جھوٹی قسم عصر کے بعد اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ ایک مسلمان کے مال کو ہضم کر جائے ۔ وہ شخص جو اپنی ضرورت سے بچے پانی سے کسی کو روکے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آج میں اپنا فضل اسی طرح تمہیں نہیں دوں گا جس طرح تم نے ایک ایسی چیز کے فالتو حصے کو نہیں دیا تھا جسے خود تمہارے ہاتھوں نے بنایا بھی نہ تھا ۔ علی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے عمرو سے کئی مرتبہ بیان کیا کہ انہوں نے ابوصالح سے سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک اس حدیث کی سند پہنچاتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اور وہ اس کا حق رکھتا تھا۔
بعض نے کہا یہ جو فرمایا جو تیرا بنایا ہوا نہ تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر وہ پانی اس نے اپنی محنت سے نکالا ہوتا، جیسے کنواں کھودا ہوتا یا مشک میں بھر کر لایا ہوتا تو وہ اس کا حق دا رہوتا۔
(وحیدی)
(1)
اس حدیث کے مطابق تیسرے شخص کو فالتو پانی سے منع کرنے پر عتاب ہوا، اس سے معلوم ہوا کہ اصل پانی کا وہ حق دار تھا، اگر وہ اصل پانی کو بقدر ضرورت روک لے تو وہ حق بجانب ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہے۔
بعض حضرات نے اس طرح مناسبت پیدا کی ہے کہ اللہ کی طرف سے عتاب ہوا کہ پانی تیرا پیدا کردہ نہیں تھا، اس سے معلوم ہوا کہ اگر پانی کسی نے اپنی محنت سے پیدا کیا ہو جیسا کہ کنواں کھودا جاتا ہے یا مشکیزوں میں بھرا جاتا ہے تو وہ اس کا حق دار ہو گا۔
(2)
واضح رہے کہ حدیث میں عصر کے بعد قسم اٹھانے کی قید اتفاقی ہے احترازی نہیں کیونکہ عام طور پر لوگ اسی وقت قسم اٹھاتے ہیں۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس وقت فرشتوں کے آنے جانے کا وقت ہے۔
وقت کی عظمت سے گناہوں میں بھی سنگینی آ جاتی ہے۔
(3)
حدیث کے آخر میں امام بخاری ؒ نے سند کے متعلق جو وضاحت فرمائی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ سفیان اس روایت کو اکثر مرسل بیان کرتے ہیں جبکہ گزشتہ سلسلۂ روایت میں ان سے اس کا موصول ہونا بھی ثابت ہے۔
خاص طورپریہ تین قسم کےگنہگار جن کاذکریہاں ہوا ہے اللھم لاتجعلنا منھم آمین۔
1۔
اس حدیث میں کسی کے مال پر ناجائز قبضہ کرنے کی سنگینی بیان ہوئی ہےاگرچہ وہ مقدار میں تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، ایک حدیث میں ہے۔
\"جوشخص جھوٹی قسم اٹھا کر کسی کا مال غصب کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام اور جہنم کو واجب کردیا ہے۔
\"لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نے فرمایا: \"اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ نے فرمایا: \"اگرچہ وہ مسواک ہی ہو۔
\"(صحیح مسلم التوبہ حدیث: 353(137)
۔
\"(والمعجم الکبیرللطرانی2/192)
مستدرک حاکم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \"اگرچہ وہ مسواک ہو اگرچہ وہ مسواک ہو۔
(المستدرک للحاکم 4/295)
2۔
دوسری حدیث کے مطابق زائد پانی کو روکنا بھی سخت جرم ہے۔
اس سے مراد وہ پانی ہے جو لوگوں کی کوشش اور ان کے اعتبار سے حاصل نہ ہوا ہو جیسا کہ چشموں اور سیلاب کا پانی ہوتا ہے۔
کنوؤں اور نہروں کا پانی مراد نہیں کیونکہ یہ پانی لوگوں کی کوشش سے حاصل ہوتا ہے اور اس کے روکنے میں کوئی حرج نہیں۔
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان احادیث سے قیامت کے دن دیدار الٰہی کا ثبوت فراہم کیا ہے ان کے مطابق کسی کے مال پر ناجائز قبضہ جمانے والا جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔
یہ ملاقات دیکھنے اور روبروہونے کو متضمن ہےہمارے اسلاف نے ملاقات کے لفظ سے دیدار الٰہی کے لیے دلیل لی ہے جیسا کہ پہلے ثابت ہو چکا ہے حدیث میں مذکورہ آیت کریمہ سے اس حدیث کی تفسیر بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اس سے ہم کلام ہونے اور اسے دیکھنے سے رکاوٹ کا باعث ہے اور اس کی رضا مندی اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے اور اس کے دیدار کا ذریعہ ہے اس بنا پر ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ایسے اسباب کو عمل میں لائے جو اس کی رضا اور خوشی کا باعث ہوں اور ایسے اعمال سے گریز کرے۔
جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہوں۔
\"3۔
آیت کریمہ میں جسے دیکھنے کی نفی ہےاس سے مراد نظر رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان اور فیضان کا تقاضا کرتی ہے اللہ تعالیٰ کا ایسے لوگوں سے ہم کلام نہ ہونا اور انھیں نظر رحمت سے نہ دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے جرائم پیشہ لوگوں کو سوال اور حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کا ان سے منہ پھیرلینا اس پر مستزاد ہوگا قبل ازیں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ تم میں سے ہرایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ براہ راست گفتگو کرے گا اور درمیان میں کوئی ترجمان نہیں ہو گا لیکن مذکورہ احادیث میں بیان شدہ مجرم حدیث عدی سے مستثنیٰ ہوں گے ان سے کلام نہیں کیا جائے گا۔
اور نہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھنا ہی پسند کرے گا۔w
: اقْتَطَعَ، قَطْعٌ: سے ہے، مار لینا، کاٹ لینا یعنی دبا لینا۔
فوائد ومسائل:
دوسروں کے مال پر قبضہ کرنا اور اس کے لیے جھوٹی قسم کھانا انتہائی شدید جرم ہے اور آج کل (قبضہ گروپوں)
کا انحصار اسی حرکت پر ہے، بلکہ اس کے ساتھ اورجرائم بھی جمع ہوجاتے ہیں۔
(دھونس، دھاندلی اور اسلحہ کا استعمال)