صحيح البخاري
كتاب المساقاة— کتاب: مساقات کے بیان میں
بَابُ فَضْلِ سَقْيِ الْمَاءِ: باب: پانی پلانے کے ثواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ ، قَالَ : فَقَالَ : وَاللَّهُ أَعْلَمُ لَا أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلَا سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا ، وَلَا أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " .´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ایک عورت کو عذاب ، ایک بلی کی وجہ سے ہوا جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا تھا کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی ۔ اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ جب تو نے اس بلی کو باندھے رکھا اس وقت تک نہ تو نے اسے کھلایا نہ پلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ، قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ لَا أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلَا سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا، وَلَا أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ . . .»
". . . عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک عورت کو عذاب، ایک بلی کی وجہ سے ہوا جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا تھا کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ جب تو نے اس بلی کو باندھے رکھا اس وقت تک نہ تو نے اسے کھلایا نہ پلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی۔" [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ: 2365]
"بلی والی حدیث کی ترجمۃ الباب سے مناسبت کچھ اس طرح ہے کہ عورت کو عذاب اس لیے دیا گیا کہ اس نے بلی کو پیاسا رکھا۔ پس اس حدیث کا تقاضا یہ ہوا کہ اگر وہ اسے پیاسا نہ رکھتی تو عذاب نہ دیا جاتا، لہذا یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت موجود ہے۔"
فائدہ: جس عورت نے بلی کو باندھ کر رکھا وہ مسلمہ تھی یا کافرہ؟
ترجمۃ الباب سے اس کی کوئی وضاحت مع صراحت موجود نہیں ہے کہ وہ عورت مسلمان تھی یا کافرہ، یا عذاب اس کو اس کے کفر کی وجہ سے دیا جا رہا تھا یا بلی کے قید کرنے کے سبب . . .۔
قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ عورت کافرہ تھی اور اس کو عذاب اس کے کفر ہی کی وجہ سے دیا جا رہا تھا، اور اس عذاب میں زیادتی بلی کو بھوکا مارنے کی وجہ سے تھی، اور اس کا مومنہ نہ ہونے کی وجہ سے اس زیادتی عذاب کی بھی مستحق ہوئی تھی۔ اگر وہ مومنہ ہوتی تو اس کے صغائر تو کبائر سے اجتناب کی وجہ سے ویسے ہی معاف کر دیے جاتے۔" [المنهاج شرح صحيح مسلم، ج 14ص: 460]
ابوعیسی زکریا الانصاری نے فرمایا کہ: "بلی کے قید کے علاوہ اس کے عذاب کا دوسرا سبب بھی موجود ہے کہ وہ عورت کافرہ تھی۔" [منحة الباري، ج 5، ص: 136]
لہذا امام بزار رحمہ اللہ نے مسند بزار اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "البعث والنشور، ص: 53" میں ذکر فرمایا ہے کہ: «أن المرأة كانت كافرة فاستحقت العذاب بكفرها و ظلمها»
"یعنی وہ عورت کافرہ تھی، پس وہ عذاب کی مستحق ٹھہری اپنے کفر اور بلی پر ظلم کی وجہ سے۔"
مجمع الزوائد میں علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل فرمائی ہے کہ وہ عورت کافرہ تھی۔ [مجمع الزوائد، ج 1، ص: 191]
تنبیہ: صاحب تفہیم البخاری نے «خشاش الأرض» کا ترجمہ گھانس پھونس کیا۔ اہل لغت کے نزدیک اس کا معنی گھاس پھونس معروف نہیں ہے، بلکہ اس کا ترجمہ زمین کے کیڑے مکوڑے کرنا معروف ہے۔
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "خشاش کیڑے مکوڑے، حشرات الارض، اس کا واحد خشاش ہے۔" [إرشاد الساري، ج 5، ص: 357]
مجمع البحار میں لکھا ہے: «خشاش بفتح الخاء الشهر الثلاثة وهى هدام و قيل ضعاف الطير» [مجمع البحار، لغات الحديث، لفظ خ، ص: 48]
مقاییس اللغۃ میں لکھا ہے: «وخشاش الأرض بتثليث الخاء: الدّواب» [مقاييس اللغة، ج 1، ص: 303، مادة خشش - الصحاح 1004/3، مادة خشش]
ابن منیر نے کہا اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ بلی کا قتل کرنا درست نہیں۔
لطیفہ: تفہیم البخاری میں خشاش الأرض کا ترجمہ گھانس پھونس کرتے ہوئے بلی کے لیے لکھا ہے کہ نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین سے گھانس پھونس ہی کھا سکے۔
عام طور پر بلی گوشت خور جانور ہے نہ چرندہ کہ وہ گھانس پھونس کھاتی ہو۔
شاید فاضل مترجم کی نظر میں گھانس پھونس کھانے والی بلیاں موجود ہوں ورنہ عموماً بلیاں گوشت خور ہوتی ہیں۔
اسی لیے دوسرے مترجمین بخاری خشاش الارض کا ترجمہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کرتے ہیں۔
خشاش بفتح الخاء أشهر الثلاثة و هي هوام و قیل ضعاف الطیر (مجمع البحار لغات الحدیث، لفظ (خ)
ص: 48)
(1)
رسول اللہ ﷺ کو اس عالم رنگ و بو میں کئی ایک ایسے مشاہدے کرائے گئے جو مستقبل میں پیش آنے والے ہیں، ان میں سے ایک مذکورہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔
ان احادیث کے مطابق ایک بلی کو بھوکا اور پیاسا رکھنے کی وجہ سے عورت کو عذاب دیا گیا۔
اگر وہ اسے کھلاتی اور پلاتی تو عذاب نہ ہوتا۔
اس سے پانی پلانے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
(2)
آخری حدیث میں عورت کے جرم کی نوعیت بتائی گئی ہے کہ اس عورت کی طبیعت ہی اذیت رسانی کی تھی کیونکہ کوئی شخص اتفاقاً ایسا نہیں کرتا جیسا کہ اس عورت نے بلی کے ساتھ کیا۔
اس واقعے سے اس عورت کے مزاج کا پتہ چلتا ہے۔
اس لیے یہاں لفظ حشاش بھی صحیح نہیں، اور یہ ترجمہ بھی۔
واللہ أعلم بالصواب۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانوروں کے بارے میں حساب کتاب ہوگا۔
اگر وہ عورت مومن تھی تو اپنے جرم کی سزا بھگت کر جہنم سے نکل آئے گی اور اگر وہ کافر تھی تو ہمیشہ کے لیے عذاب برداشت کرے گی۔
2۔
بعض مترجمین نے خشاش کے معنی گھاس پھونس کیا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ بلی گھاس پھونس نہیں کھاتی بلکہ اس کے معنی زمین کے کیڑے مکوڑے ہیں۔
واللہ أعلم۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ایک عورت کو بلی کے قید کرنے میں عذاب دیا گیا جس نے بلی کو اتنی دیر تک باندھے رکھا کہ وہ مر گئی۔ اس عورت کو جہنم میں ڈال دیا گیا کہ نہ تو اس عورت نے بلی کو کچھ کھلایا اور نہ پلایا بلکہ باندھ رکھا اور نہ اسے آزاد چھوڑا کہ وہ زمین کے جانور کھا لیتی۔ " (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 992»
«أخرجه البخاري، المساقاة، باب فضل سقي الماء، حديث:2365، ومسلم، السلام، باب تحريم قتل الهرة، حديث:2242.»
تشریح: 1. سیاق دلالت کرتا ہے کہ اس عورت کو عذاب بلی کو کھانے پینے سے روکے رکھنے اور اسے بھوکا پیاسا مارنے کی وجہ سے دیا گیا۔
2. اس حدیث میں کوئی دلیل نہیں کہ بلی کو قتل کرنا حرام ہے اور نہ اس کے جواز کی دلیل ہے بلکہ اس مسئلے میں سکوت ہے۔
بہترین قول یہ ہے کہ جب بلی دشمنی پر اتر آئے تو اسے قتل کرنا جائز ہے۔
3. مصنف رحمہ اللہ اس حدیث کو اور اس سے پہلی حدیث کو اس باب میں اس لیے لائے ہیں تاکہ ذمہ دار اور پرورش کرنے والے کو ان کی ذمہ داری کی عظمت اور گراں باری پر متنبہ کریں اور اس پر خبردار کریں کہ جس کی کفالت کی ذمہ داری اس پر ہے‘ اس کی ضروریات زندگی کا خیال اور لحاظ اور اس سے ملاطفت اور حسن سلوک اس کے واجبات اور اس کے آداب میں سے ہے۔
اسے اہمیت نہ دینا‘ معمولی سمجھنا اور اسے ضائع کرنا اللہ کے ہاں کبیرہ گناہ ہے جس کا اس کے ہاں مؤاخذہ ہو گا اور اس وجہ سے اسے عذاب دیا جائے گا۔