صحيح البخاري
كتاب المزارعة— کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان
بَابُ مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاسِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الزِّرَاعَةِ وَالثَّمَرَةِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کھیتی باڑی میں ایک دوسرے کی مدد کس طرح کرتے تھے۔
ثُمَّ حُدِّثَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " . فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نُكْرِي مَزَارِعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَبِشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ .´پھر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا ۔ ( یہ سن کر ) ابن عمر رضی اللہ عنہما رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم اپنے کھیتوں کو اس پیداوار کے بدل جو نالیوں پر ہو اور تھوڑی گھاس کے بدل دیا کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت رافع بن خدیج ؓ نے قانون نہیں بلکہ احسان اور ایثار کے طریقہ کو بتلایا ہے اس کے برخلاف حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جواز اور عدم جواز کی صورت بیان فرما رہے ہیں۔
جس کا مقصد یہ کہ مدینہ میں جو یہ طریقہ رائج تھا کہ نہر کے قریب کی پیداوار زمین کا مالک لے لیتا اس سے آنحضرت ﷺ نے منع فرمایا مطلق بٹائی سے منع نہیں فرمایا۔
یہ الگ بات ہے کہ کوئی شخص اپنی زمین بطور ہمدردی کاشت کے لیے اپنے کسی بھائی کو دے دے۔
آنحضرت ﷺ نے اس طرز عمل کی بڑے شاندار لفظوں میں رغبت دلائی ہے۔
بعد میں آپ ﷺ کا انتقال ہو گیا تب اسی معاملہ کو حضرت صدیق اکبر ؓ نے خلیفہ اسلام ہونے کی حیثیت میں جاری رکھا حتی کہ ان کا بھی وصال ہو گیا تو حضرت عمر ؓ نے بھی اپنی شروع خلافت میں اس معاملہ کو جاری رکھا۔
بعد میں یہودیوں کی مسلسل شرارتیں دیکھ کر ان کو خیبر سے جلاوطن کر دیا۔
پس ثابت ہوا کہ دو معاملہ کرنے والوں میں سے کسی ایک کی موت ہوجانے سے وہ معاملہ ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ ان کے وارث اسے جاری رکھیں گے ہاں اگر کسی معاملہ کو فریقین میں سے کسی ایک کی موت کے ساتھ مشروط کیا ہے تو پھر یہ امر دیگر ہے۔
روایت میں زمینوں کو کرایہ پر دینے کا بھی ذکر ہے اور یہ بھی کہ فالتو زمین پڑی ہو جیسا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں حالات تھے، تو ایسے حالات میں مالکان زمین یا تو فالتو زمینوں کی خود کاشت کریں یا پھر بجائے کرایہ پر دینے کے اپنے کسی حاجت مند بھائی کو مفت دے دیں۔
(1)
مؤجر اور مستأجر دونوں میں سے کسی ایک کی موت سے اجارے کی فسخ ہوجانے یا عدم فسخ کے متعلق فقہاء کا اختلاف ہے۔
حضرت امام مالک، امام شافعی اور امام احمد ؒ کہتے ہیں کہ دونوں میں سے کسی ایک کا مرجانا،فسخ اجارہ کے لیے دلیل نہیں ہے، تاہم علمائے کوفہ کے نزدیک ایسا اجارہ فسخ ہوجاتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے احادیث وآثار سے ثابت کیا ہے کہ ایسے حالات میں اجارہ فسخ نہیں ہوگا، جمہور کا یہی موقف ہے جسے انھوں نے اختیار کیا ہے۔
(فتح الباري: 583/4)
(2)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان کے تحت کئی ایک روایات ذکر کی ہیں: پہلی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی زرعی اراضی پر یہود کو مقرر کیا۔
دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک مقررہ کرائے پر زرعی اراضی ٹھیکے پر دی جاتی تھیں۔
تیسری روایت حضرت رافع بن خدیج کی ہے کہ زمین کو ٹھیکے پر دینا منع ہے۔
چوتھی روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہودیوں کو جلا وطن کیا تھا۔
خیبر کی زمین کو بٹائی پر دینے کے متعلق حضرت نافع سے دوراوی بیان کرتے ہیں: ایک حضرت جویریہ بن اسماء اور دوسرےحضرت عبیداللہ۔
حضرت عبید اللہ نے آخر حدیث میں یہ اضافہ ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ان یہودیوں کو ان کی شرارتوں کی وجہ سے جلا وطن کردیاتھا۔
اس روایت کو امام مسلم نے متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح مسلم، المساقاة و المزارعة، حدیث: 3967(1551)
زمین کو ٹھیکے پر دینے کے متعلق ہم اپنی گزارشات کتاب الحرث والزراعۃ میں بیان کریں گے۔
نافع کا بیان ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی کہ ہمارے چچا لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، پھر واپس آ کر خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیت کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمیں معلوم ہے کہ وہ (رافع) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں زمین والے تھے، اور اسے کرا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3939]