صحيح البخاري
كتاب المزارعة— کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان
بَابُ مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاسِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الزِّرَاعَةِ وَالثَّمَرَةِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کھیتی باڑی میں ایک دوسرے کی مدد کس طرح کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2340
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانُوا يَزْرَعُونَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ " .مولانا داود راز
´ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی ، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` صحابہ تہائی ، چوتھائی یا نصف پر بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس زمین ہو تو اسے خود بوئے ورنہ دوسروں کو بخش دے ۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتا تو اسے یوں ہی خالی چھوڑ دے ۔