حدیث نمبر: 2302
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عنه ، " أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ ، فَجَاءَهُمْ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ : أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ، فَقَالَ : إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ ، فَقَالَ : لَا تَفْعَلْ ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا " ، وَقَالَ : فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں عبدالمجید بن سہل بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا تحصیل دار بنایا ۔ وہ عمدہ قسم کی کھجور لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی قسم کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کی ایک صاع کھجور ( اس سے گھٹیا قسم کی ) دو صاع کھجور کے بدل میں اور دو صاع ، تین صاع کے بدلے میں خریدتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ ایسا نہ کر ، البتہ گھٹیا کھجوروں کو پیسوں کے بدلے بیچ کر ان سے اچھی قسم کی کھجور خرید سکتے ہو ۔ اور تولے جانے کی چیزوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم فرمایا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوكالة / حدیث: 2302
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2302. حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنایا تو وہ وہاں سے عمدہ کھجوریں لے کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ نے دریافت فرمایا: ’’کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟‘‘ اس نے کہا (نہیں بلکہ) ہم ان کھجوروں کا صاع، دو صاع کے عوض اوردو صاع تین صاع کے عوض لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ایسا مت کرو، بلکہ اچھی اور ردی کھجوریں دراہم کے عوض فروخت کرو، پھر دراہم کے عوض عمدہ کھجوریں خریدو۔‘‘ نیز آپ نےوزن (سے فروخت ہونے والی اشیاء) کے متعلق بھی اسی طرح فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2302]
حدیث حاشیہ: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالمجید بن سہل بن عبدالرحمن بن عوف نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ابوسعید خدری اور ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا تحصیل دار بنایا۔
وہ عمدہ قسم کی کھجور لائے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی قسم کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کی ایک صاع کھجور (اس سے گھٹیا قسم کی)
دو صاع کھجور کے بدل میں اور دو صاع، تین صاع کے بدلے میں خریدتے ہیں۔
آپ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ ایسا نہ کر، البتہ گھٹیا کھجوروں کو پیسوں کے بدلے بیچ کر ان سے اچھی قسم کی کھجور خرید سکتے ہو۔
اور تولے جانے کی چیزوں میں بھی آپ نے یہی حکم فرمایا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2302 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2302. حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنایا تو وہ وہاں سے عمدہ کھجوریں لے کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ نے دریافت فرمایا: ’’کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟‘‘ اس نے کہا (نہیں بلکہ) ہم ان کھجوروں کا صاع، دو صاع کے عوض اوردو صاع تین صاع کے عوض لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ایسا مت کرو، بلکہ اچھی اور ردی کھجوریں دراہم کے عوض فروخت کرو، پھر دراہم کے عوض عمدہ کھجوریں خریدو۔‘‘ نیز آپ نےوزن (سے فروخت ہونے والی اشیاء) کے متعلق بھی اسی طرح فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2302]
حدیث حاشیہ:
(1)
سونے چاندی اور کرنسی کے تبادلے کو صَرف کہا جاتا ہے۔
اس بیع میں وہم ہو سکتا ہے کہ شاید اس میں وکالت جائز نہ ہو کیونکہ اس بیع میں عوضین (سونے یا چاندی)
کے قبض سے پہلے تفارق (ایک دوسرے سے الگ ہونا)
جائز نہیں، وکالت میں مؤکل اصل ہے جو عقد کے وقت موجود نہیں ہوتا تو قبض کے بغیر تفارق لازم آتا ہے، اس وہم کو امام بخاری ؒ نے دور کیا ہے کہ وکیل ہی براہِ راست عقد کرنے والا ہے، لہٰذا سب حقوق اسی کی طرف راجع ہوں گے، وکیل کا قبضہ اصیل کا قبضہ شمار ہوگا۔
بہر حال بیع صرف وکالتًا جائز ہے اور مؤکل کی جگہ وکیل کا قبضہ بھی معتبر ہے۔
(2)
اس حدیث میں ہے کہ ماپ سے خرید و فروخت والی اشیاء کو ایک صاع، دو صاع کے عوض مت لو بلکہ انھیں دراہم سے فروخت کرو، پھر دراہم سے دوسری عمدہ کھجور خرید لو، اسی طرح وزن سے خرید و فروخت والی اشیاء کا بھی یہی حکم ہے۔
(3)
اس حدیث سے عنوان کی مناسبت اس طرح ہے کہ جب وکیل کو دو صاع کے عوض ایک صاع لینے سے منع کیا گیا تو معلوم ہوا کہ درہم کی بیع درہم سے اور دینار کی بیع دینار سے بھی اسی طرح ہے۔
اس میں توکیل کے معنی بھی واضح ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے عامل کو اس طرح کرنے میں وکیل مقرر کیا تھا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2302 سے ماخوذ ہے۔