صحيح البخاري
كتاب الحوالات— کتاب: حوالہ کے مسائل کا بیان
بَابُ إِذَا أَحَالَ عَلَى مَلِيٍّ فَلَيْسَ لَهُ رَدٌّ: باب: جب قرض کسی مالدار کے حوالہ کر دیا جائے تو اس کا رد کرنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 2288
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَمَنْ أُتْبِعَ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتَّبِعْ " .مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ابن ذکوان نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مالدار کی طرف سے ( قرض ادا کرنے میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔ اور اگر کسی کا قرض کسی مالدار کے حوالہ کیا جائے تو وہ اسے قبول کرے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحوالات / حدیث: 2288
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2287 | صحيح البخاري: 2400 | صحيح مسلم: 1564 | سنن ترمذي: 1308 | سنن ابي داود: 3345 | سنن نسائي: 4692 | سنن نسائي: 4695 | سنن ابن ماجه: 2403 | معجم صغير للطبراني: 927 | صحيفه همام بن منبه: 63 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 526 | بلوغ المرام: 738 | مسند الحميدي: 1062
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
2288. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’مال دار کا (قرض کو ادا کرنے میں) تاخیر کرنا ظلم ہے، پھر اگر تم میں سے کسی کو مال دار پر حوالہ دیا جائے تو چاہیے کہ قبول کرے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2288]
حدیث حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ کسی مالدار نے کسی کاقرض اگر اپنے سر لے لیا تو اس ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہوگا۔
چاہئیے کہ اسے فوراً ادا کردے، نیز جس کا قرض حوالہ کیا گیا ہے اسے بھی چاہئیے کہ اس کو قبول کرکے اس مالدار سے اپنا قرض وصول کرلے اور ایسے حوالہ سے انکار نہ کرے۔
ورنہ اس میں وہ خود نقصان اٹھائے گا۔
چاہئیے کہ اسے فوراً ادا کردے، نیز جس کا قرض حوالہ کیا گیا ہے اسے بھی چاہئیے کہ اس کو قبول کرکے اس مالدار سے اپنا قرض وصول کرلے اور ایسے حوالہ سے انکار نہ کرے۔
ورنہ اس میں وہ خود نقصان اٹھائے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2288 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2288. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’مال دار کا (قرض کو ادا کرنے میں) تاخیر کرنا ظلم ہے، پھر اگر تم میں سے کسی کو مال دار پر حوالہ دیا جائے تو چاہیے کہ قبول کرے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2288]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک امیر آدمی نے اگر کسی سے قرض لیا ہوتو اسے چاہیے کہ وعدے کے مطابق واپس کردے۔
وہ ٹال مٹول سے کام لے کر اپنے قرض خواہ کو ہر روز نئی تاریخیں نہ دیتا رہے۔
اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ ایک جرم ہوگا۔
اس ظلم کی تلافی کےلیے عدالتی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔
(2)
جملہ شارحین کے نزدیک غني اور ملي کے معنی مال دار ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کا قرض کسی مال دار کے حوالے کیا جائے تو یہ تجویز قبول کر لینی چاہیے لیکن یہ حکم واجب نہیں، اس کی حیثیت ایک مشورے کی ہے۔
(1)
ایک امیر آدمی نے اگر کسی سے قرض لیا ہوتو اسے چاہیے کہ وعدے کے مطابق واپس کردے۔
وہ ٹال مٹول سے کام لے کر اپنے قرض خواہ کو ہر روز نئی تاریخیں نہ دیتا رہے۔
اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ ایک جرم ہوگا۔
اس ظلم کی تلافی کےلیے عدالتی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔
(2)
جملہ شارحین کے نزدیک غني اور ملي کے معنی مال دار ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کا قرض کسی مال دار کے حوالے کیا جائے تو یہ تجویز قبول کر لینی چاہیے لیکن یہ حکم واجب نہیں، اس کی حیثیت ایک مشورے کی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2288 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2400 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2400. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مالدار کا ٹال مٹول کرنا صریح ظلم ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2400]
حدیث حاشیہ:
اگر کسی نے قرض لیا، لیکن جب اسے ادا کرنے کے قابل ہوا تو ٹال مٹول کرنے لگا، یہ زیادتی ہے، شریعت کی نظر میں یہ ایک سنگین جرم ہے اور عدالت جرم کی نوعیت کے مطابق اسے سزا دے سکتی ہے۔
یہ ایسی حرکت نہیں جسے نظر انداز کر دیا جائے۔
اگر کسی نے قرض لیا، لیکن جب اسے ادا کرنے کے قابل ہوا تو ٹال مٹول کرنے لگا، یہ زیادتی ہے، شریعت کی نظر میں یہ ایک سنگین جرم ہے اور عدالت جرم کی نوعیت کے مطابق اسے سزا دے سکتی ہے۔
یہ ایسی حرکت نہیں جسے نظر انداز کر دیا جائے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2400 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2287 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2287. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مالدار کا(اپنا قرض ادا کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہےاور جب تم میں سے کسی کو مال دار کے حوالے کیا جائے تو وہ حوالہ قبول کرلے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2287]
حدیث حاشیہ: اس سے یہی نکلتا ہے کہ حوالہ کے لیے محیل اور محتال کی رضا مندی کافی ہے۔
محتال علیہ کی رضا مندی ضروری نہیں۔
جمہوری کا یہی قول ہے اور حنفیہ نے اس کی رضا مندی بھی شرط رکھی ہے۔
محتال علیہ کی رضا مندی ضروری نہیں۔
جمہوری کا یہی قول ہے اور حنفیہ نے اس کی رضا مندی بھی شرط رکھی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2287 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2287 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2287. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مالدار کا(اپنا قرض ادا کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہےاور جب تم میں سے کسی کو مال دار کے حوالے کیا جائے تو وہ حوالہ قبول کرلے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2287]
حدیث حاشیہ:
(1)
مال دار کا ٹال مٹول کرنا اس وقت ظلم ہوگا جب قرض ادا کرنے کی مدت ختم ہوجائے،نیز اگر کوئی آدمی کسی دوسرے کا حوالہ قبول نہیں کرتا تو اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی تو نہیں کی جاسکتی،البتہ اس نے ایک اخلاقی فرض ادا کرنے میں کوتاہی ضرور کی ہے۔
اسے یہ فرض ادا کرنا چاہیے تھا،خواہ کچھ مالی نقصان ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑتا۔
(2)
جب کسی شخص نے حوالہ قبول کرلیا ہے تو اس کی ادائیگی ضروری ہوگی،اگر وہ مرجائے تو بھی حوالے کی ادائیگی اس کے ترکے سے کی جائے گی بشرطیکہ وہ بالکل مفلس ہوکر نہ مرا ہو۔
(3)
اگر محتال علیہ مفلس مرجائے یا قاضی اسے مفلس قرار دےدے یا وہ حوالہ کردے اور اس کا گواہ وغیرہ نہ ہوتو صاحب دَین اپنا قرض محیل،یعنی پہلے مقروض سے وصول کرے گا۔
والله أعلم.
(1)
مال دار کا ٹال مٹول کرنا اس وقت ظلم ہوگا جب قرض ادا کرنے کی مدت ختم ہوجائے،نیز اگر کوئی آدمی کسی دوسرے کا حوالہ قبول نہیں کرتا تو اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی تو نہیں کی جاسکتی،البتہ اس نے ایک اخلاقی فرض ادا کرنے میں کوتاہی ضرور کی ہے۔
اسے یہ فرض ادا کرنا چاہیے تھا،خواہ کچھ مالی نقصان ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑتا۔
(2)
جب کسی شخص نے حوالہ قبول کرلیا ہے تو اس کی ادائیگی ضروری ہوگی،اگر وہ مرجائے تو بھی حوالے کی ادائیگی اس کے ترکے سے کی جائے گی بشرطیکہ وہ بالکل مفلس ہوکر نہ مرا ہو۔
(3)
اگر محتال علیہ مفلس مرجائے یا قاضی اسے مفلس قرار دےدے یا وہ حوالہ کردے اور اس کا گواہ وغیرہ نہ ہوتو صاحب دَین اپنا قرض محیل،یعنی پہلے مقروض سے وصول کرے گا۔
والله أعلم.
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2287 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1564 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’غنی کا ٹال مٹول کرنا حق تلفی ہے، اور جب تم میں سے کسی کو مالدار کے پیچھے لگایا جائے (قرض کا انتقال مالدار کی طرف کیا جائے)، تو وہ اس کا پیچھا کرے، (اس انتقال اور حوالہ کو قبول کر لے)‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4002]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ایک انسان نے کسی کا قرضہ دینا ہے، اور وہ اپنا قرضہ دوسرے کی طرف منتقل کر دیتا ہے، جس کو حوالہ کا نام دیا جاتا ہے، کیونکہ اس نے دوسرے انسان سے اپنا قرضہ لینا ہے یا دوسراانسان اپنی طرف سے اس کا قرض ادا کرنے کے لیے تیارہے۔
اس طرح حوالہ یا انتقال قرضہ کے چار ارکان ہیں۔
(1)
محيل: جس کے ذمہ در حقیقت قرضہ ہے، جس کو اصيل بھی کہتے ہیں،۔
(2)
دائن قرض خواہ، جس نے قرضہ وصول کرناہے، اس کو محال یا محتال کہتے ہیں۔
(3)
محتال عليه يا محال عليه: جس کو قرض کی ادائیگی کا ذمہ دار ٹھہرایاجا رہا ہے یا جس کی طرف قرضہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
(4)
محال به، محتال به: یا قرض جوادا کرتا ہے، ایک انسان قرضہ ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود، قرضہ ادا نہیں کرتا، یہ ظلم اور زیادتی ہے، لیکن قرضہ کا صاحب حیثیت کی طرف انتقال یا حوالہ یہ ظلم اور زیادتی نہیں ہے، شرط صرف یہ ہے کہ وہ ملی یعنی ادائیگی کی قدرت اور استطاعت رکھتا ہو، جمہور (احناف، شوافع، موالک)
کے نزدیک اس حوالہ اور انتقام کو قبول کرنا فرض نہیں ہے، بہتر اور افضل ہے، اس لیے حوالہ کے لیے قرض خواہ کا قبول کرنا شرط ہے، لیکن امام احمد اور اہل ظاہر کے نزدیک اس حدیث کی روسے، قرض خواہ پر حوالہ قبول کرنا لازم ہے، اس طرح حوالہ کی درستگی کے لیے محتال عليه کا قرض کی ادائیگی کہ حوالہ کو قبول کرنا، کہ میں یہ قرضہ اپنے ذمہ لیتا ہوں، احناف کے نزدیک شرط ہے، لیکن باقی ائمہ کے نزدیک شرط نہیں ہے، لیکن ظاہر ہے، اگروہ ادائیگی کو تسلیم ہی نہیں کر رہا تو محال اس سے وصول کیسے کر سکتا ہے، الا یہ کہ عدالت اس کو پابند کرے، اس طرح حوالہ کی تکمیل کے بعد محيل (مقروض)
قرض کی ادائیگی سے بری الذمہ یا سبکدوش ہوجائے گا، اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اب قرض خواہ کسی صورت میں بھی مقروض سے مطالبہ نہیں کر سکتا، لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک اپنے حق یا قرضہ کے ضیاع کی صورت میں مثلا محتال عليه ادائیگی سے انکار کردے یا دیوالیہ ہوجائے تو قرض خواہ، مقروض اصلی سے مطالبہ کر سکتا ہے، ظاہر ہے یہ اس صورت میں تو ممکن ہے، جب مديون (مقروض)
نے محتال عليه سے رقم نہ لینی ہو، اس نے محض تبرعا نیکی کرتے ہوئے، قرضہ کی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کی ہو اور اب وہ انکار کر رہا ہے یا ادائیگی کے قابل نہیں رہا، اور اصلی مقروض، رقم ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے، لیکن اگر اس نے قرضہ وصول کرنا تھا، اور اسے منتقل کردیا ہے یا اس میں ادائیگی کی سکت ہی نہیں ہے، تو پھر رجوع یا واپسی کا سوال کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔
اس طرح حوالہ یا انتقال قرضہ کے چار ارکان ہیں۔
(1)
محيل: جس کے ذمہ در حقیقت قرضہ ہے، جس کو اصيل بھی کہتے ہیں،۔
(2)
دائن قرض خواہ، جس نے قرضہ وصول کرناہے، اس کو محال یا محتال کہتے ہیں۔
(3)
محتال عليه يا محال عليه: جس کو قرض کی ادائیگی کا ذمہ دار ٹھہرایاجا رہا ہے یا جس کی طرف قرضہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
(4)
محال به، محتال به: یا قرض جوادا کرتا ہے، ایک انسان قرضہ ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود، قرضہ ادا نہیں کرتا، یہ ظلم اور زیادتی ہے، لیکن قرضہ کا صاحب حیثیت کی طرف انتقال یا حوالہ یہ ظلم اور زیادتی نہیں ہے، شرط صرف یہ ہے کہ وہ ملی یعنی ادائیگی کی قدرت اور استطاعت رکھتا ہو، جمہور (احناف، شوافع، موالک)
کے نزدیک اس حوالہ اور انتقام کو قبول کرنا فرض نہیں ہے، بہتر اور افضل ہے، اس لیے حوالہ کے لیے قرض خواہ کا قبول کرنا شرط ہے، لیکن امام احمد اور اہل ظاہر کے نزدیک اس حدیث کی روسے، قرض خواہ پر حوالہ قبول کرنا لازم ہے، اس طرح حوالہ کی درستگی کے لیے محتال عليه کا قرض کی ادائیگی کہ حوالہ کو قبول کرنا، کہ میں یہ قرضہ اپنے ذمہ لیتا ہوں، احناف کے نزدیک شرط ہے، لیکن باقی ائمہ کے نزدیک شرط نہیں ہے، لیکن ظاہر ہے، اگروہ ادائیگی کو تسلیم ہی نہیں کر رہا تو محال اس سے وصول کیسے کر سکتا ہے، الا یہ کہ عدالت اس کو پابند کرے، اس طرح حوالہ کی تکمیل کے بعد محيل (مقروض)
قرض کی ادائیگی سے بری الذمہ یا سبکدوش ہوجائے گا، اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اب قرض خواہ کسی صورت میں بھی مقروض سے مطالبہ نہیں کر سکتا، لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک اپنے حق یا قرضہ کے ضیاع کی صورت میں مثلا محتال عليه ادائیگی سے انکار کردے یا دیوالیہ ہوجائے تو قرض خواہ، مقروض اصلی سے مطالبہ کر سکتا ہے، ظاہر ہے یہ اس صورت میں تو ممکن ہے، جب مديون (مقروض)
نے محتال عليه سے رقم نہ لینی ہو، اس نے محض تبرعا نیکی کرتے ہوئے، قرضہ کی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کی ہو اور اب وہ انکار کر رہا ہے یا ادائیگی کے قابل نہیں رہا، اور اصلی مقروض، رقم ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے، لیکن اگر اس نے قرضہ وصول کرنا تھا، اور اسے منتقل کردیا ہے یا اس میں ادائیگی کی سکت ہی نہیں ہے، تو پھر رجوع یا واپسی کا سوال کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1564 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1308 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ” مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۱؎ اور جب تم میں سے کوئی کسی مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی اسے قبول کرے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1308]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ” مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۱؎ اور جب تم میں سے کوئی کسی مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی اسے قبول کرے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1308]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
قرض کی ادائیگی کے باوجود قرض ادا نہ کرنا ٹال مٹول ہے، بلاوجہ قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا کبیرہ گناہ ہے۔
2؎:
اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کردینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زیدعمروکا مقروض ہے پھرزید عمروکا مقابلہ بکرسے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکرکے سر ہے اوربکر اسے تسلیم بھی کرلے توعمروکو یہ حوالگی قبول کرنی چاہئے، اس میں گویا حسن معاملہ کی ترغیب ہے۔
وضاحت:
1؎:
قرض کی ادائیگی کے باوجود قرض ادا نہ کرنا ٹال مٹول ہے، بلاوجہ قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا کبیرہ گناہ ہے۔
2؎:
اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کردینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زیدعمروکا مقروض ہے پھرزید عمروکا مقابلہ بکرسے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکرکے سر ہے اوربکر اسے تسلیم بھی کرلے توعمروکو یہ حوالگی قبول کرنی چاہئے، اس میں گویا حسن معاملہ کی ترغیب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1308 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3345 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا کیسا ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (چاہے وہ قرض ہو یا کسی کا کوئی حق) اور اگر تم میں سے کوئی مالدار شخص کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3345]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (چاہے وہ قرض ہو یا کسی کا کوئی حق) اور اگر تم میں سے کوئی مالدار شخص کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3345]
فوائد ومسائل:
لیکن اگر کوئی نادار ہو اور قرضے کی ادائیگی میں فی الواقع اس سے تاخیر ہورہی ہو تو وہ ظلم نہیں ہوگا نیز تعاون باہمی میں حوالہ قبول کرلینا افضل بات ہے۔
لیکن اگر کوئی نادار ہو اور قرضے کی ادائیگی میں فی الواقع اس سے تاخیر ہورہی ہو تو وہ ظلم نہیں ہوگا نیز تعاون باہمی میں حوالہ قبول کرلینا افضل بات ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3345 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4692 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم میں سے کوئی شخص مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎، اور مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4692]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم میں سے کوئی شخص مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎، اور مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4692]
اردو حاشہ: (1) مقصد یہ ہے کہ اگر مال دار شخص ادائیگی قرض میں تاخیر کرے تو یہ ناجائز اور حرام ہے۔ اگر مقروض شخص، مال دار نہیں تو اس کا قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا ظلم نہیں ہوگا، لہٰذا ایسے مقروض کو بے عزت کرنا یا اسے سزا دینا درست نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ نرمی اور مہلت دینے والا سلوک کرنا مطلوب ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اگر مقروض شخص ہے تو مال دار لیکن اس کا مال اس کی دسترس میں نہیں تو اس صورت میں اس کا لیت ولعل ظلم نہیں سمجھا جائے گا اور نہ اس کے ساتھ مال دار مقروض والا معاملہ ہی کیا جائے گا۔
(2) کبھی مقروض اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ خود ادائیگی کرے، لہٰذا اگر وہ قرض خواہ سے گزارش کرے کہ آپ اپنا قرض فلاں شخص سے وصول کرلیں۔ وہ میری طرف سے ادائیگی کرے گا۔ اور وہ شخص بھی اقرار کرے کہ میں ادائیگی کر دوں گا تو اخلاق کریمانہ کا تقاضا ہے کہ اس غریب آدمی کی جان چھوڑ دی جائے۔ اور دوسرے شخص سے، جو مالدار بھی ہے اور ادائیگی کا اقرار بھی کرتا ہے، قرض وصول کرلیا جائے۔ اس عمل کو عربی زبان میں حوالہ کہتے ہے، جمہور اہل علم کی رائے یہی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 35/ 300، 301)
(3) ”ظلم یہ ہے“ یعنی غریب آدمی میں ادائیگی کی طاقت نہ ہو اور وہ ٹال مٹول کرے تو یہ ممکن ہے مگر ایک مالدار شخص قرض کی واپسی میں بلا وجہ تاخیر کرے اور آج کل کرتا رہے تو یہ ظلم ہے جس کی سزا اسے دی جا سکتی ہے، تاہم استطاعت نہ رکھنے والا شخص تاخیر کرے یا منت سماجت کرے تو اس پر زیادتی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ مجبور ہے اور شریعت ہر معقول عذر اور حقیقی مجبوری کا لحاظ کرتی ہے اور بہرحال مجبور شخص کے ساتھ تعاون اور اس کی حمایت کرتی ہے۔
(2) کبھی مقروض اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ خود ادائیگی کرے، لہٰذا اگر وہ قرض خواہ سے گزارش کرے کہ آپ اپنا قرض فلاں شخص سے وصول کرلیں۔ وہ میری طرف سے ادائیگی کرے گا۔ اور وہ شخص بھی اقرار کرے کہ میں ادائیگی کر دوں گا تو اخلاق کریمانہ کا تقاضا ہے کہ اس غریب آدمی کی جان چھوڑ دی جائے۔ اور دوسرے شخص سے، جو مالدار بھی ہے اور ادائیگی کا اقرار بھی کرتا ہے، قرض وصول کرلیا جائے۔ اس عمل کو عربی زبان میں حوالہ کہتے ہے، جمہور اہل علم کی رائے یہی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 35/ 300، 301)
(3) ”ظلم یہ ہے“ یعنی غریب آدمی میں ادائیگی کی طاقت نہ ہو اور وہ ٹال مٹول کرے تو یہ ممکن ہے مگر ایک مالدار شخص قرض کی واپسی میں بلا وجہ تاخیر کرے اور آج کل کرتا رہے تو یہ ظلم ہے جس کی سزا اسے دی جا سکتی ہے، تاہم استطاعت نہ رکھنے والا شخص تاخیر کرے یا منت سماجت کرے تو اس پر زیادتی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ مجبور ہے اور شریعت ہر معقول عذر اور حقیقی مجبوری کا لحاظ کرتی ہے اور بہرحال مجبور شخص کے ساتھ تعاون اور اس کی حمایت کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4692 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4695 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´قرض کسی اور کے حوالہ کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اگر تم میں سے کوئی مالدار آدمی کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4695]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اگر تم میں سے کوئی مالدار آدمی کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4695]
اردو حاشہ: حوالہ کی تفصیل حدیث نمبر 4692 میں بیان ہو چکی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرض ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے جمہور اہل علم محدثین کرام وفقہائے عظام اصل مقروض کو حوالہ کے بعد بری الذمہ سمجھتے ہیں، خواہ دوسرا شخص بھی ادائیگی نہ کر سکے کیونکہ قرض دوسرے کی طرف منتقل ہوگیا، دلائل کے اعتبار سے یہی بات راجح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4695 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2403 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حوالہ (یعنی قرض کو دوسرے کے ذمہ کر دینے) کا بیان ؎۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مالدار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے، تو اس کی حوالگی قبول کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2403]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مالدار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے، تو اس کی حوالگی قبول کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2403]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
’’دولت والے‘‘ سےمراد وہ مقروض ہے جس کے پاس قرض ادا کرنے کےلیے رقم یا کوئی اورچیز موجود ہے اگرچہ عرف عام کے مطابق وہ غریب ہی شمار ہوتا ہو۔
(2)
جب قرض ادا کرنےکی استطاعت ہوتوقرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا گناہ ہے، سوائے اس کے پہلے سےقرض کی ادائیگی کےلیے ایک خاص مدت کا تعین ہوا ہواوریہ مہلت ابھی باقی ہو، اس صورت میں بھی مقررہ وقت سے پہلے ادا کرنا افضل ہے۔
ٹال مٹول کا مطلب ادائیگی کی طاقت ہونے کے باوجود مزید مہلت طلب کرنا ہے اوریہ ظلم ہے۔
(3)
حوالہ کا مطلب یہ ہے کہ مقروض قرض خواہ سےکہے: ’’فلاں آدمی کے پاس جاؤ وہ تمھیں رقم ادا کردے گا۔‘‘
جس کے پاس جانے کوکہا گیا ہے اگر وہ صاحب استطاعت ہےاورامید ہے کہ ادا کر دے گا توقرض خواہ کو اس سے رابطہ کرنا چاہیے، اگر وہ ادائیگی سےانکارکرے تو دوبارہ اصل مقروض سےمطالبہ کرسکتا ہے۔
(4)
جس کے پاس جانے کا کہا گیا ہے، اگر اس کی ظاہری حالت ایسی نہیں کہ وہ قرض ادا کرنے کے قابل معلوم ہوتا ہو تو قرض خواہ مقروض کی بات ماننے سےانکار کرسکتا ہے، اوراس سےمطالبہ کر سکتا ہےکہ تم خود اس سے یا کسی اور سے وصول کرکے مجھے رقم دو۔
فوائد و مسائل:
(1)
’’دولت والے‘‘ سےمراد وہ مقروض ہے جس کے پاس قرض ادا کرنے کےلیے رقم یا کوئی اورچیز موجود ہے اگرچہ عرف عام کے مطابق وہ غریب ہی شمار ہوتا ہو۔
(2)
جب قرض ادا کرنےکی استطاعت ہوتوقرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا گناہ ہے، سوائے اس کے پہلے سےقرض کی ادائیگی کےلیے ایک خاص مدت کا تعین ہوا ہواوریہ مہلت ابھی باقی ہو، اس صورت میں بھی مقررہ وقت سے پہلے ادا کرنا افضل ہے۔
ٹال مٹول کا مطلب ادائیگی کی طاقت ہونے کے باوجود مزید مہلت طلب کرنا ہے اوریہ ظلم ہے۔
(3)
حوالہ کا مطلب یہ ہے کہ مقروض قرض خواہ سےکہے: ’’فلاں آدمی کے پاس جاؤ وہ تمھیں رقم ادا کردے گا۔‘‘
جس کے پاس جانے کوکہا گیا ہے اگر وہ صاحب استطاعت ہےاورامید ہے کہ ادا کر دے گا توقرض خواہ کو اس سے رابطہ کرنا چاہیے، اگر وہ ادائیگی سےانکارکرے تو دوبارہ اصل مقروض سےمطالبہ کرسکتا ہے۔
(4)
جس کے پاس جانے کا کہا گیا ہے، اگر اس کی ظاہری حالت ایسی نہیں کہ وہ قرض ادا کرنے کے قابل معلوم ہوتا ہو تو قرض خواہ مقروض کی بات ماننے سےانکار کرسکتا ہے، اوراس سےمطالبہ کر سکتا ہےکہ تم خود اس سے یا کسی اور سے وصول کرکے مجھے رقم دو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2403 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 526 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´مالدار آدمی کا قرض اتارنے میں ٹال مٹول کرنا`
«. . . 354- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”مطل الغني ظلم، وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار آدمی کو قرض اتارنے میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور اگر کوئی (قرض دار آدمی) تمہیں کسی مالدار کے حوالے کر دے (کہ وہ تمہارا قرض ادا کر ے گا) تو اسے قبول کر لینا چاہیے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 526]
«. . . 354- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”مطل الغني ظلم، وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار آدمی کو قرض اتارنے میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور اگر کوئی (قرض دار آدمی) تمہیں کسی مالدار کے حوالے کر دے (کہ وہ تمہارا قرض ادا کر ے گا) تو اسے قبول کر لینا چاہیے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 526]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 2287، ومسلم 33/1564، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ اگر مقروض قرض خواہ سے کہے کہ آپ کو فلاں شخص یا ادارہ میرا قرض ادا کرے گا تو اس پیش کش کو قبول کر لینا چاہئے بشرطیکہ وہ شخص یا ادارہ قابل اعتماد ہو اور مذکورہ رقم ادا کرنے کی ہامی بھر لے۔
➋ موسیٰ بن میسرہ رحمہ اللہ نے ایک آدمی کو سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے پوچھتے ہوئے سنا: میں ایسا آدمی ہوں کہ قرض کے ساتھ خرید کر (آگے) بیچتا ہوں تو سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تک تو اسے اپنے گھر میں نہ لے جائے تو آگے نہ بیچ۔[الموطأ 2/674 ح1417، وسنده صحيح]
● معلوم ہوا کہ کسی شخص سے ادھار سودا خرید کر آگے دوسرے آدمی پر بیچنا صحیح نہیں ہے اور اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ کمپنیوں وغیرہ سے شیئرز کا کاروبار بھی غلط ہے۔
➌ مال ودولت ہونے کے باوجود قرض ادا نہ کرنے والا شخص ظالم ہے لہٰذا وہ فاسق ہے اور اس کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے۔
➍ شرعی عذر کے بغیر قرض ادا کرنے میں سستی کرنے والے شخص کے خلاف تادیبی کاروائی کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اصحابِ اقتدار کی حمایت حاصل ہو۔ اگر کوئی قرضدار سخت مجبور ہو اور اس کے پاس ادائیگی کے لئے کچھ بھی نہ ہو تو پھر اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرنی چاہئے بلکہ اسے مہلت دینے میں ثواب ہے اور اسے صدقہ کردینا بہترین امور میں سے ہے۔ دیکھئے: سورۃ البقرہ: 280
➎ قرض ادا کرنے میں سستی اور ٹال مٹول کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے۔ دیکھئے: سورۂ آل عمران: 75، جبکہ اہلِ ایمان وعدے کی پاسداری کرتے اور قرض وقت پر ادا کردیتے ہیں۔ دیکھئے: [فتح الباري 4/466 تحت ح2287]
➏ دلوں میں جدائی اور نفرت ڈالنے والے امور کا خاتمہ دینِ اسلام میں محبوب ومطلوب ہے۔
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کا مال (بطور قرض واپس) ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا کرے گا (یعنی قرض اتارنے کے وسائل مہیا کرے گا) اور جو کوئی ادا نہ کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تباہ کردے گا۔ [صحيح بخاري: 2387]
➑ قرض اور نیت دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان قرض لیتا ہے اور اللہ اس کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا ہی میں اُتار دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه: 2408، سنن النسائي: 4690، حسن حديث هے۔]
اور جو اس کے برعکس نیت رکھتا ہے تو اس کے بارے میں فرمایا: جو کوئی قرض لیتا ہے اور اس کا پختہ ارادہ ہوتا ہے کہ اسے واپس نہیں کرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے چور بن کر پیش ہو گا۔ [سنن ابن ماجه: 2410، حسن]
[وأخرجه البخاري 2287، ومسلم 33/1564، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ اگر مقروض قرض خواہ سے کہے کہ آپ کو فلاں شخص یا ادارہ میرا قرض ادا کرے گا تو اس پیش کش کو قبول کر لینا چاہئے بشرطیکہ وہ شخص یا ادارہ قابل اعتماد ہو اور مذکورہ رقم ادا کرنے کی ہامی بھر لے۔
➋ موسیٰ بن میسرہ رحمہ اللہ نے ایک آدمی کو سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے پوچھتے ہوئے سنا: میں ایسا آدمی ہوں کہ قرض کے ساتھ خرید کر (آگے) بیچتا ہوں تو سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تک تو اسے اپنے گھر میں نہ لے جائے تو آگے نہ بیچ۔[الموطأ 2/674 ح1417، وسنده صحيح]
● معلوم ہوا کہ کسی شخص سے ادھار سودا خرید کر آگے دوسرے آدمی پر بیچنا صحیح نہیں ہے اور اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ کمپنیوں وغیرہ سے شیئرز کا کاروبار بھی غلط ہے۔
➌ مال ودولت ہونے کے باوجود قرض ادا نہ کرنے والا شخص ظالم ہے لہٰذا وہ فاسق ہے اور اس کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے۔
➍ شرعی عذر کے بغیر قرض ادا کرنے میں سستی کرنے والے شخص کے خلاف تادیبی کاروائی کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اصحابِ اقتدار کی حمایت حاصل ہو۔ اگر کوئی قرضدار سخت مجبور ہو اور اس کے پاس ادائیگی کے لئے کچھ بھی نہ ہو تو پھر اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرنی چاہئے بلکہ اسے مہلت دینے میں ثواب ہے اور اسے صدقہ کردینا بہترین امور میں سے ہے۔ دیکھئے: سورۃ البقرہ: 280
➎ قرض ادا کرنے میں سستی اور ٹال مٹول کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے۔ دیکھئے: سورۂ آل عمران: 75، جبکہ اہلِ ایمان وعدے کی پاسداری کرتے اور قرض وقت پر ادا کردیتے ہیں۔ دیکھئے: [فتح الباري 4/466 تحت ح2287]
➏ دلوں میں جدائی اور نفرت ڈالنے والے امور کا خاتمہ دینِ اسلام میں محبوب ومطلوب ہے۔
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کا مال (بطور قرض واپس) ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا کرے گا (یعنی قرض اتارنے کے وسائل مہیا کرے گا) اور جو کوئی ادا نہ کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تباہ کردے گا۔ [صحيح بخاري: 2387]
➑ قرض اور نیت دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان قرض لیتا ہے اور اللہ اس کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا ہی میں اُتار دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه: 2408، سنن النسائي: 4690، حسن حديث هے۔]
اور جو اس کے برعکس نیت رکھتا ہے تو اس کے بارے میں فرمایا: جو کوئی قرض لیتا ہے اور اس کا پختہ ارادہ ہوتا ہے کہ اسے واپس نہیں کرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے چور بن کر پیش ہو گا۔ [سنن ابن ماجه: 2410، حسن]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 354 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 738 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´ضمانت اور کفالت کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی مالدار کا حوالہ دیا جائے تو اسے قبول کر لینا چاہیئے۔ “ (بخاری و مسلم) اور احمد کی ایک روایت میں «فليحتل» (حوالہ قبول کر لے) ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 738»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی مالدار کا حوالہ دیا جائے تو اسے قبول کر لینا چاہیئے۔ “ (بخاری و مسلم) اور احمد کی ایک روایت میں «فليحتل» (حوالہ قبول کر لے) ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 738»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الحوالات، باب الحوالة وهل يرجع في الحوالة، حديث:2287، ومسلم، المساقاة، باب تحريم مطل الغني، حديث:1564، وأحمد:2 /463.»
تشریح: 1. اس حدیث میں حوالے کا بیان ہے جس کے دو معنی بیان کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ مقروض اپنے قرض میں شخصی ضمانت دے‘ یعنی ایک شخص دوسرے سے کہے کہ فلاں صاحب کو قرض دے دو‘ ادائیگی کا ذمہ میں لیتا ہوں۔
اور دوسرا یہ کہ مقروض قرض خواہ کو اپنے مقروض کے سپرد کر دے‘ مثلاً: زید نے خالد سے ہزار روپیہ لینا ہے اور خالد نے حمید سے ہزار روپیہ لینا ہے تو خالد زید سے کہے کہ تم میرا قرض حمید سے وصول کر لو۔
شریعت نے اس صورت کو بھی جائز رکھا ہے‘ بشرطیکہ حمید اس بات کا اقرار کر لے کہ میں نے واقعی خالد کا قرض دینا ہے اور وہ ہزار روپیہ میں تجھے ادا کر دوں گا۔
2. اس حدیث کے الفاظ فَلْیَتَّبِـعْ اور فَلْیَحْتَلْ دونوں کا ماحصل ایک ہی ہے کہ اسے اس پیشکش کو قبول کر لینا چاہیے۔
3. یہ حکم اہل ظاہر کے نزدیک وجوب کے لیے ہے مگر جمہور نے اسے استحباب پر محمول کیا ہے۔
4.عرب ممالک کے بنکوں میں ڈرافٹ کو ’’حوالہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
اور ڈرافٹ بنا کر دینے والا بنک‘ رقم جمع کرانے والے کو ایک رسید جاری کرتا ہے کہ اس رسید کے ذریعے سے فلاں بنک سے یہ رقم وصول کر لی جائے۔
یہ حوالے کا جدید مرو جہ نظام ہے جو کہ شریعت کی اجازت کے عین مطابق ہے۔
إن شاء اللّٰہ۔
«أخرجه البخاري، الحوالات، باب الحوالة وهل يرجع في الحوالة، حديث:2287، ومسلم، المساقاة، باب تحريم مطل الغني، حديث:1564، وأحمد:2 /463.»
تشریح: 1. اس حدیث میں حوالے کا بیان ہے جس کے دو معنی بیان کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ مقروض اپنے قرض میں شخصی ضمانت دے‘ یعنی ایک شخص دوسرے سے کہے کہ فلاں صاحب کو قرض دے دو‘ ادائیگی کا ذمہ میں لیتا ہوں۔
اور دوسرا یہ کہ مقروض قرض خواہ کو اپنے مقروض کے سپرد کر دے‘ مثلاً: زید نے خالد سے ہزار روپیہ لینا ہے اور خالد نے حمید سے ہزار روپیہ لینا ہے تو خالد زید سے کہے کہ تم میرا قرض حمید سے وصول کر لو۔
شریعت نے اس صورت کو بھی جائز رکھا ہے‘ بشرطیکہ حمید اس بات کا اقرار کر لے کہ میں نے واقعی خالد کا قرض دینا ہے اور وہ ہزار روپیہ میں تجھے ادا کر دوں گا۔
2. اس حدیث کے الفاظ فَلْیَتَّبِـعْ اور فَلْیَحْتَلْ دونوں کا ماحصل ایک ہی ہے کہ اسے اس پیشکش کو قبول کر لینا چاہیے۔
3. یہ حکم اہل ظاہر کے نزدیک وجوب کے لیے ہے مگر جمہور نے اسے استحباب پر محمول کیا ہے۔
4.عرب ممالک کے بنکوں میں ڈرافٹ کو ’’حوالہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
اور ڈرافٹ بنا کر دینے والا بنک‘ رقم جمع کرانے والے کو ایک رسید جاری کرتا ہے کہ اس رسید کے ذریعے سے فلاں بنک سے یہ رقم وصول کر لی جائے۔
یہ حوالے کا جدید مرو جہ نظام ہے جو کہ شریعت کی اجازت کے عین مطابق ہے۔
إن شاء اللّٰہ۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 738 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1062 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1062- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ظلم یہ ہے کہ خوشحال شخص قرض کی واپسی میں ٹال مٹول کرے اور جب کسی شخص کو قرض کی وصولی کے لیے کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے (اس مالدار شخص سے) تقاضا کرنا چاہیے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1062]
فائدہ:
اس حدیث میں قرض کو بر وقت ادا کرنے کی اہمیت بیان ہوئی ہے، صاحب مال کو قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول نہیں کرنی چاہیے، بلکہ وقت پر قرض ادا کر دینا چاہیے۔
یہاں پر بطور تنبیہ عرض ہے کہ بعض لوگ مقروض کو ناجائز تنگ کرتے ہیں، اور ان کو ذلیل کر نے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قرض والے کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر مقروض واقعی مجبور ہے تو قرض معاف کر دے اور معاف کرنا اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔ (البقرہ: 280)
اس حدیث میں قرض کو بر وقت ادا کرنے کی اہمیت بیان ہوئی ہے، صاحب مال کو قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول نہیں کرنی چاہیے، بلکہ وقت پر قرض ادا کر دینا چاہیے۔
یہاں پر بطور تنبیہ عرض ہے کہ بعض لوگ مقروض کو ناجائز تنگ کرتے ہیں، اور ان کو ذلیل کر نے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قرض والے کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر مقروض واقعی مجبور ہے تو قرض معاف کر دے اور معاف کرنا اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔ (البقرہ: 280)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1061 سے ماخوذ ہے۔