حدیث نمبر: 2254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، فَسَأَلْتُهُمَا عَنِ السَّلَفِ ؟ فَقَالَا : كُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّأْمِ ، فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالزَّبِيبِ ، إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى ، قَالَ : قُلْتُ : أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ زَرْعٌ ؟ قَالَا : مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی ، انہیں سلیمان شیبانی نے ، انہیں محمد بن ابی مجالد نے ، کہا کہ` مجھے ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد نے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھیجا ۔ میں نے ان دونوں حضرات سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غنیمت کا مال پاتے ، پھر شام کے انباط ( ایک کاشتکار قوم ) ہمارے یہاں آتے تو ہم ان سے گیہوں ، جَو اور منقی کی بیع سلم ایک مدت مقرر کر کے کر لیا کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں نے پوچھا کہ ان کے پاس اس وقت یہ چیزیں موجود بھی ہوتی تھیں یا نہیں ؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم اس کے متعلق ان سے کچھ پوچھتے ہی نہیں تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب السلم / حدیث: 2254
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2254. حضرت محمد بن ابومجالد سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ مجھے ابو بردہ اور عبداللہ بن شداد ؓنے حضرت عبدالرحمان بن ابزی اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ کے پاس بھیجا، چنانچہ میں نے ان سے بیع سلم کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غنیمت کا مال ملتا تھا اور ہمارے پاس ملک شام کے کاشتکاروں میں سے کچھ لوگ آتے تو ہم ان سے گندم جو اور منقی کے متعلق معین مدت کی ادائیگی تک بیع سلم کرتے تھے۔ میں نے کہا: ان کی کھیتی ہوتی تھی یا نہیں؟انھوں نے کہا: اس کے متعلق ہم ان سے دریافت نہیں کیاکرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2254]
حدیث حاشیہ:
(1)
سلف اور سلم دونوں الفاظ کے ایک ہی معنی ہیں، یعنی کسی چیز کے متعلق پیشگی سودا کرلیا، قیمت پہلے ادا کردی، پھر معین مدت کے بعد معلوم وزن یا ناپ یا تعداد کے اعتبار سے وہ چیز لے لی۔
(2)
جن لوگوں سے غلہ وغیرہ خریدا جاتا ان سے یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ وہ کھیتی باڑی کرتے ہیں یا نہیں۔
اس سے کوئی غرض نہیں۔
وہ جہاں سے چاہیں مال مہیا کرکے وقت مقررہ پر حوالے کردیں، ہاں اگر متعین طریقے پر یوں معاملہ کیا جائے کہ فلاں کھیت کی گندم اتنے من مطلوب ہے جو وہاں موجود نہیں تو ایسا معاملہ شرعاً درست نہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2254 سے ماخوذ ہے۔