صحيح البخاري
كتاب السلم— کتاب: بیع سلم کے بیان میں
بَابُ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ: باب: درخت پر جو کھجور لگی ہوئی ہو اس میں بیع سلم کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : نُهِيَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَصْلُحَ ، وَعَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ نَسَاءً بِنَاجِزٍ ، وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ ، أَوْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ " .´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو نے ، ان سے ابوالبختری نے بیان کیا کہ` میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور میں جب کہ وہ درخت پر لگی ہوئی ہو بیع سلم کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا کہ جب تک وہ کسی قابل نہ ہو جائے اس کی بیع سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ۔ اسی طرح چاندی کو ادھار ، نقد کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ۔ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کی درخت پر بیع سلم کے متعلق پوچھا تو آپ نے بھی یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کھجور کی بیع سے منع فرمایا تھا جب تک وہ کھائی نہ جا سکے یا ( یہ فرمایا کہ ) جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے کہ اسے کوئی کھا سکے اور جب تک وہ تولنے کے قابل نہ ہو جائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
پھلوں کی قابل انتفاع ہونے سے قبل خریدو فروخت کرنا پہلے تو بطور صلاح ومشورہ تھا جیسا کہ قبل ازیں حدیث میں بیان ہوا ہے، اس کے بعد قطعی طور پر اس سے منع کردیا گیا جیسا کہ مذکورہ حدیث میں ہے۔
اس کا قرینہ ایک یہ ہے: ممانعت بطور مشورہ والی روایت کے راوی، حضرت زید بن ثابت ؓ خود اپنے پھل پختہ ہونے سے پہلے فروخت نہیں کرتے تھے۔
ایسا کرنا فروخت کرنے والے کے لیے اس لیے ناجائز ہے کہ وہ اپنے بھائی کا مال باطل طریقے سے نہ کھائے۔
اور خریدار کو اس لیے منع کیا گیا کہ اپنے مال کو ضائع کرنے اور فروخت کرنے والے کے لیے باطل طریقے سے مال کھانے کا ذریعہ نہ بنے۔
(2)
واضح رہے کہ ممانعت صرف پھلوں سے متعلق ہے اگر درخت فروخت کرنے مقصود ہوں تو پھلوں کے پکنے کا انتظار ضروری نہیں کیونکہ درختوں کی خریدوفروخت میں یہ پابندی نہیں ہے۔
والله أعلم.
ابن اعرابی کے نزدیک زها النخل يزهو کا معنی ہو گا اس کا پھل ظاہر ہو گیا، اور ازهي يزهي کا معنی ہو گا اس میں سرخی یا زردی پیدا ہو گئی اور جوہری کے نزدیک، زها اور ازهي دونوں کا معنی سرخی یا زردی کا ظاہر ہونا ہے۔
مقصد پکنے کی صلاحیت کا ظاہر ہونا ہے۔
عن السنبل حتي يبيض، بالی کا دانہ سخت ہو جائے اور پکنے کی صلاحیت کے ظاہر ہونے کی بنا پر آفت سے نکل جائے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کھجور کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہو جائے، اور بالی کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ سفید پڑ جائے (یعنی پک جائے) اور آفت سے محفوظ ہو جائے۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو روکا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4555]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تک پختگی ظاہر نہ ہو جائے پھلوں کی بیع نہ کرو “، آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو (اس سے) منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4523]
(2) یہاں پھل پکنے سے مراد اس کی وہ کیفیت ہے جس کے بعد اس پر آفت کا احتمال نہیں رہتا، نہ یہ کہ وہ بالکل کھانے والی حالت میں ہو، مثلاً: آم جب جسامت میں پورا ہو جاتا ہے تو اسے توڑ کر کچھ مسالا لگایا جاتا ہے جس سے وہ پک جاتا ہے اور کھانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ تو ایسی کیفیت میں آموں کی خرید و فروخت درست ہے اگرچہ وہ کھانے کے قابل تو مسالا لگانے سے ہوں گے۔ یہی مطلب ہے ان کی صلاحیت ظاہر ہونے کا۔ گویا پھل آفت سے محفوظ ہو تو پکنے سے پہلے بھی فروخت ہو سکتا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، آپ نے اس سے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2214]
فوائد و مسائل:
(1)
درختوں پر لگا ہوا پھل خریدنا اور بیچنا درست ہے۔
(2)
جب درختوں پر پھول آتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پھل بہت زیادہ لگے گا لیکن ان میں سے بہت سے پھول جھڑ جاتے ہیں، اس کے بعد بسا اوقات بارش سے بھی خراب ہو جاتے ہیں۔
جو پھل ان سب آفتوں سے بچ جاتے ہیں، خریدنے والے کو اصل میں وہی ملتے ہیں، اس لیے باغ کا پھل اس وقت بیچنا چاہیے جب یہ مراحل گزر جائیں اور واضح اندازہ ہو سکے کہ اس قدر پھل حاصل ہونے کی توقع ہے۔
اسی بات کو حدیث میں ’’پھل کی صلاحیت ظاہرنے‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(3)
جو پھل کچے بھی استعمال ہوتے ہیں انہیں بھی اس وقت بیچنا اور خریدنا چاہیے جب وہ قابل استعمال ہو جائیں یا اس کے قریب ہو جائیں۔
(4)
اگر پھل اس وقت بیچا گیا جب عام طور پر وہ خطرات کی زد سے باہر ہو جاتا ہے لیکن خلاف توقع بارش، آندھی یا زلزلے وغیرہ سے نقصان ہوگیا تو بیچنے والے کو چاہیے کہ خریدار کو قیمت میں مناسب حد تک رعایت دے۔
«. . . 235- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها، نهى البائع والمشتري. . . .»
”. . . اور اسی سند کی ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکاندار اور گاہک دونوں کو پھلوں کے پکنے سے پہلے بیچنے اور خریدنے سے منع کیا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 497]
تفقہ:
➊ دیکھئے حدیث سابق: 151
➋ شریعت اسلامیہ میں ہر انسان کے حقوق کا خاص خیال رکھا گیا ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے ضرر سے محفوظ رہیں۔
➌ ایک چیز جو بعد میں نقصان دیتی ہے، سد ذرائع کے طور پر اس کے واقع ہونے سے پہلے منع کیا جا سکتا ہے۔