صحيح البخاري
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
بَابُ بَيْعِ الْمُدَبَّرِ: باب: مدبر کا بیچنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ ، ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ " .´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے لیث نے خبر دی ، انہیں سعید نے ، انہیں ان کے والد نے ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خود سنا ہے کہ جب کوئی باندی زنا کرائے اور وہ ثابت ہو جائے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے ، البتہ اسے لعنت ملامت نہ کی جائے ۔ پھر اگر وہ زنا کرائے تو اس پر اس مرتبہ بھی حد جاری کی جائے ، لیکن کسی قسم کی لعنت ملامت نہ کی جائے ۔ تیسری مرتبہ بھی اگر زنا کرے اور زنا ثابت ہو جائے تو اسے بیچ ڈالے خواہ بال کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ﴾ (النور: 26)
یعنی خبیث زانی عورتیں بدکار زانی مردوں کے لیے اور خبیث زانی مرد خبیث زانی عورتوں کے لیے ہیں۔
(1)
اگر لونڈی بار بار بدکاری کی مرتکب ہوتو مفت میں بھی اس سے جان چھڑائی جائے تو اچھا ہے۔
(2)
واضح رہے کہ اس حدیث میں جو حد لگانے کا ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ مالک خود ہی اسے کوڑے مارنا شروع کردے بلکہ حد جاری کرنے کا حق عدالت کو ہے۔
حد جاری ہوجانے کے بعد اسے مزید طعن و ملامت کرنے یا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مجرم نے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کردیا ہے اور وہ قانون کی رو سے کیفر کردار کو پہنچ گیا ہے۔
(3)
اس حدیث کا عنوان سے بایں طور تعلق ہے کہ اس میں لونڈی کو فروخت کرنے کا حکم عام ہے اور اس لونڈی کو بھی شامل ہے جو مدبرہ ہو۔
علامہ عینی ؒ نے اس استدلال پر اعتراض کیا ہے کہ حدیث میں جواز بیع کو دوبار یا سہ بار زنا کرنے پر موقوف رکھا گیا ہے جبکہ قائلین کے نزدیک تو مدبر کی بیع ہر حال میں درست ہے، خواہ وہ زنا کرے یا نہ کرے۔
(عمدة القاري: 526/8)
لیکن علامہ موصوف کا یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ مدبرہ لونڈی اگر دوبار یاسہ بار زنا کرائے تو اسے فروخت کرنے کا جواز اس حدیث سے معلوم ہوا اور جو لوگ مدبر کی بیع کو جائز خیال نہیں کرتے وہ زنا کرنے کی صورت میں بھی اس کے جواز کے قائل نہیں ہیں،اس لیے یہ حدیث تو ان کے موقف کے خلاف ہے اور جو مدبر کی بیع کے قائل ہیں ان کے موافق ہے، چنانچہ اس میں مطلق لونڈی کا ذکر ہے اور وہ مدبرہ کو بھی شامل ہے۔
والله أعلم.
(1)
اس حدیث سے کچھ اہل علم نے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہ لونڈی اگر زنا کرتی ہے تو اسے جلاوطن نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جلاوطن کرنے کا مقصد اسے گندے ماحول سے دور کرنا ہے اور یہ مقصد بیچنے سے حاصل ہو جاتا ہے، پھر جب اسے جلا وطن کر دیا جائے گا تو جلا وطنی اس کی خریدوفروخت میں رکاوٹ کا باعث ہے جبکہ بعض حضرات کا موقف ہے کہ لونڈی کو جلاوطن نہ کیا جائے اور غلام کوکوڑے لگانے کے بعد چھ ماہ تک ملک بدر کر دیا جائے کیونکہ لونڈی کو جلاوطن کرنا عورت کا محرم کے بغیر سفر کرنے کے مترادف ہے جبکہ غلام کے متعلق یہ مشکل پیش نہیں آسکتی۔
(2)
بہرحال امام بخاری رحمہ اللہ کا یہی موقف ہے کہ لونڈی کو سزا دی جائے لیکن اسے طعن وتشنیع کرنا اور ملک بدر کرنا درست نہیں۔
(فتح الباري: 203/122)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! میری کنیز نے زنا کیا ہے اور حمل سے وہ زنا واضح ہو گیا ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’اسے پچاس کوڑے لگاؤ۔
‘‘ (السنن الکبریٰ للنسائي، حدیث: 7215)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پچاس کوڑے مارنے کے متعلق کہا ہے، اسے ملک بدر کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا، اس سے بھی امام بخاری رحمہ اللہ کے موقف کی تائید ہوتی ہے۔
واللہ أعلم
تَبَيَّنَ زنَاهَا: دلیل سے اس کا زنا سامنے آ جائے، بقول احناف، اس کے خلاف شہادت مل جائے، کیونکہ ان کے نزدیک حد صرف امام جاری کر سکتا ہے، لیکن جن کے نزدیک (ائمہ ثلاثہ)
آقا، اپنے غلام، لونڈی پر حد نافذ کر سکتا ہے، ان کے نزدیک آقا کو یہ حرکت دیکھ کر، حد نافذ کرنا جائز ہے۔
(2)
فَلْيَجْلِدْهَا الحد: آقا اس پر حد نافذ کرے، ائمہ حجاز (مالک، شافعی، احمد)
نے اس سے استدلال کیا ہے کہ مالک اپنے مملوک پر حد لگا سکتا ہے، امام شافعی، امام احمد، اسحاق، ابو ثور اور بعض صحابہ مثلا ابن عمر، ابن مسعود، انس بن مالک رضی اللہ عنہم کے نزدیک مالک، اپنے مملوک پر تمام حدود جاری کر سکتا ہے، لیکن سفیان ثوری اور اوزاعی کے نزدیک صرف حد زنا لگا سکتا ہے اور امام مالک اور لیث کے نزدیک زنا، قذف اور شراب نوشی پر حد لگا سکتا ہے اور احناف کے نزدیک کسی قسم کی حد جاری کرنا، امام کا کام ہے، آقا کوئی حد نہیں لگا سکتا۔
(3)
وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا: جب حد لگا دی ہے تو اس کے بعد اس کو سرزنش و توبیخ یا ملامت کرنا درست نہیں ہے یا محض لعن طعن اور ڈانٹ ڈپٹ کرنا کافی نہیں ہے، اس کو سزا دینی چاہیے اور لونڈی کی حد، پچاس کوڑے ہیں، کیونکہ غلامی کی خست کی بناء پر لونڈیوں کے لیے یہ حرکت عربوں میں معیوب خیال نہیں کی جاتی تھی اور ان کو آزادوں کی طرح پورا تحفظ اور دفاع حاصل نہیں تھا، اس لیے ان کی عزت و ناموس عدم پردہ کی وجہ سے اور عام خلا ملا کی بناء پر پوری طرح محفوظ نہیں ہوتی، اس لیے ان کی سزا میں تخفیف ملحوظ رکھی گئی ہے۔
(4)
زني فليبعها: جمہور کے نزدیک بیچنا فرض نہیں ہے، استحبابی حکم ہے، کیونکہ ایک آقا کے ہاں اس حرکت کا بار بار ارتکاب اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے ہاں اس کی جنسی ضرورت پوری نہیں ہوتی اور وہ اس کی صحیح نگرانی نہیں کر سکتا، دوسرے انسان کو اس عیب سے آگاہ کر کے بیچے گا تاکہ وہ سوچ لے کہ میں اس کی خواہش پوری کر سکتا ہوں یا نہیں یا میں اس پر قابو پا سکتا ہوں یا نہیں، اس طرح پورے غوروفکر اور مکمل بصیرت کے ساتھ وہ یہ سودا کرے گا، مزید براں لونڈی کو بھی پتہ ہو گا، اگر میں نے اب پھر یہ حرکت کی تو مجھے یہاں سے بھی نکال دیا جائے گا اور بار بار آقا تبدیل کرنا کوئی غلام پسند نہیں کرتا، امام ابو ثور اور داود ظاہری کے نزدیک، آگے فروخت کرنا فرض ہے۔
(5)
وَلَوْ بِحَبْل مِنْ شَعْرٍ: اگرچہ بالوں کی رسی کے عوض بیچنا پڑے، مقصد یہ ہے کہ وہ ایسی لونڈی کو گھر سے نکال دے، کہیں اس کا اثر دوسروں پر نہ پڑے، اگرچہ اسے قیمت میں نقصان یا خسارہ ہی برداشت کرنا پڑے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اللہ کی کتاب کے (حکم کے) مطابق تین بار اسے کوڑے لگاؤ ۱؎ اگر وہ پھر بھی (یعنی چوتھی بار) زنا کرے تو اسے فروخت کر دو، چاہے قیمت میں بال کی رسی ہی ملے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1440]
وضاحت:
1؎:
یعنی زنا کی حرکت اس سے اگر تین بار سرزد ہوئی ہے تو ہر مرتبہ اسے کوڑے کی سزا ملے گی، اور چوتھی مرتبہ اسے شہر بدر کردیا جائے گا۔
2؎:
کیوں کہ باب کی حدیث کا مفہوم یہی ہے، مالک کے پاس اپنی لونڈی یاغلام کی بدکاری سے متعلق اگر معتبر شہادت موجود ہوتو مالک بذات خود حد قائم کرسکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے، ایسا وہ تین بار کرے، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4470]
1) لونڈی کا مالک ہی اس بات کا مکاف ہے کہ اسے حد لگائے اور صرف زجرو توبیخ یا عارلانے پر کفایت نہ کرے کہ حد شرعی کو موقوٖف کردے۔
2) عارنہ دلائے کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بہت زیادہ عار نہ دلائے۔
کیونکہ بعض اوقات بعض طبیعتیں اس انداز سے اور زیادہ ڈھیٹ ہوجاتی ہیں اور ان کے منفی جذبات ابھر آتے ہیں اور پھر عمدًا گناہ کرنے پر آمادہ ہوتی ہے۔
یہ ایک نفسیاتی مسائل ہے۔
3) بدفطرت غلام نوکر کو اپنے سے دور کردینا چاہئے۔