صحيح البخاري
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
بَابُ بَيْعِ التَّصَاوِيرِ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا رُوحٌ وَمَا يُكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ: باب: غیر جاندار چیزوں کی تصویر بیچنا اور اس میں کون سی تصویر حرام ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، إِنِّي إِنْسَانٌ ، إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي ، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا ، فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ " ، فَقَالَ : وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : سَمِعَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، مِنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ هَذَا الْوَاحِدَ .´ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، انہیں عوف بن ابی حمید نے خبر دی ، انہیں سعید بن ابی حسن نے ، کہا کہ` میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا ، اور کہا کہ اے ابوعباس ! میں ان لوگوں میں سے ہوں ، جن کی روزی اپنے ہاتھ کی صنعت پر موقوف ہے اور میں یہ مورتیں بناتا ہوں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر فرمایا کہ میں تمہیں صرف وہی بات بتلاؤں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی مورت بنائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک عذاب کرتا رہے گا جب تک وہ شخص اپنی مورت میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکتا ( یہ سن کر ) اس شخص کا سانس چڑھ گیا اور چہرہ زرد پڑ گیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ افسوس ! اگر تم مورتیں بنانی ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی جس میں جان نہیں ہے مورتیں بنا سکتے ہو ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس سے صرف یہی ایک حدیث سنی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے مورتوں کی کراہت اور حرمت نکالی۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذی روح کی تصویر بنانا حرام ہے، خواہ وہ ہاتھ سے ہو یا کیمرے سے، وہ مجسم ہویا کاغذ پر پرنٹ ہو، کسی حالت میں ذی روح کی تصویر بنانا درست نہیں۔
اس بنا پر تصویر کشی اور فوٹو گرافی کو بطور کاروبار اختیار کرنا بھی شرعاً ناجائز ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس جو آدمی آیا اس کا ذریعہ معاش ہی تصویر کشی تھا، اس پر اسے وعید سنائی گئی۔
ہاں، حضرت ابن عباس کی نصیحت سے امام بخاری ؒ نے یہ استنباط کیا ہے کہ غیر ذی روح کی تصاویر بنانا اور ان کی خریدوفروخت جائز ہے۔
مذکورہ عنوان میں اس کے جائز ہونے کو بیان کیا گیاہے۔
(2)
امام بخاری نے آخر میں جس حدیث کا حوالہ دیا ہے اسے خود ہی آگے متصل سند سے بیان کیا ہے۔
اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’جس نے دنیا میں تصویر کشی کی قیامت کے دن اسے تیار کردہ تصویر میں روح پھونکنے کے متعلق کہا جائے گا لیکن وہ کسی صورت بھی اس میں روح نہیں ڈال سکے گا۔
‘‘ (صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5963)
ایک رویت میں ہے: ’’جس نے تصویر بنائی اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔
‘‘ (صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 7042)
تصویر کشی کے متعلق ہم اپنا موقف کتاب اللباس میں بیان کریں گے۔
بإذن الله.
(1)
تصویر بنانے والے کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی جائے گی، اسے تعلیق بالمحال کہتے ہیں۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ تصویر بنانے والے کے لیے عذاب ختم نہیں ہو گا کیونکہ اسے تصویر میں روح پھونکنے کی تکلیف دی جائے گی اور عذاب کی حد روح پھونکنے تک ہے جبکہ وہ اس پر قادر نہ ہو گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مصور ہمیشہ کے لیے عذاب میں مبتلا رہے گا۔
شاید یہ سزا اس مصور کے لیے ہو جو تصویر بنانے سے دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہو، جیسے وہ ایسی مورتی بنائے جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہو، ایسا کرنا کھلا کفر ہے۔
(2)
اس حدیث کا سبب بیان یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے ایک بڑھئی آیا، اس نے کہا: میں تصاویر اور مورتیاں بناتا ہوں ان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
(فتح الباری: 10/484)
واللہ اعلم w
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ مصور اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا، اور جس نے کسی قوم کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ۱؎، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1751]
وضاحت:
1؎:
یعنی وہ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے، پھر بھی اس نے کان لگاکر سنا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی تصویر بنائے گا، اس کی وجہ سے اسے (اللہ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا، اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے ۱؎ اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5024]
1۔
تصویر سے مراد کسی جاندار کی تصویر بنانا ہے۔
یا ایسی تصویریں بھی اس میں شمار ہوسکتی ہیں۔
جن کی لوگ عبادت کرتے ہیں۔
خواہ کسی درخت کی ہو یا پہاڑ وغیرہ کی۔
2۔
یہ تصویریں ہاتھ سے بنائی جایئں۔
یا کیمرے وغیرہ سے سب اسی ضمن میں آتی ہیں۔
کیمرے کی تصاویر کو جائز بتانے والی تاویلات بے معنی ہیں۔
صاحب ایمان کو نبی کریمﷺ کے ظاہر فرامین پر بے چون وچرا ایمان رکھنا اورعمل کرنا چاہیے۔
(اللہ عزوجل تصویر کے فتنے سے محفوظ فرمائے۔
آمین)
3۔
اپنی طرف سے بنا بنا کر جھوٹے خواب سنانا۔
اوروں کے نقل کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
اور جب اس ذریعے سے مقصود لوگوں کے دین وایمان کے ساتھ کھیلنا ہو تو اس کی قباحت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
جیسا کہ نام نہاد جاہل صوفیوں اور پیروں کا وتیرہ ہے۔
4۔
دوسروں کی پوشیدہ اور خاص باتیں سننے کی کوشش کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کوئی تصویر بنائی، تو اسے عذاب ہو گا یہاں تک کہ وہ اس میں روح ڈال دے، اور وہ اس میں روح نہیں ڈال سکے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5361]
اس حدیث میں تصویر بنانے کی مذمت بیان کی گئی ہے کسی کی خفیہ بات یا میٹنگ سننے کے لیے کان لگانا حرام ہے، جیسا کہ حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے، نیز اس حدیث سے جھوٹا خواب بیان کرنے کی حرمت ثابت ہوتی ہے بعض لوگ لوگوں میں اپنا مقام بنانے کی خاطر جھوٹے خواب بنا کر لوگوں کو بیان کرتے ہیں، یہ لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہیں۔