صحيح البخاري
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ أَوْ أَرْضًا مَزْرُوعَةً أَوْ بِإِجَارَةٍ: باب: جس نے پیوند لگائی ہوئی کھجوریں یا کھیتی کھڑی ہوئی زمین بیچی یا ٹھیکہ پر دی تو میوہ اور اناج بائع کا ہو گا۔
حدیث نمبر: 2203
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُخْبِرُ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَيُّمَا نَخْلٍ بِيعَتْ قَدْ أُبِّرَتْ لَمْ يُذْكَرِ الثَّمَرُ ، فَالثَّمَرُ لِلَّذِي أَبَّرَهَا ، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ وَالْحَرْثُ سَمَّى لَهُ نَافِعٌ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَ " .مولانا داود راز
´ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے کہا ، انہیں ہشام نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا ، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع سے خبر دیتے تھے کہ` جو بھی کھجور کا درخت پیوند لگانے کے بعد بیجا جائے اور بیچتے وقت پھلوں کا کوئی ذکر نہ ہوا ہو تو پھل اسی کے ہوں گے جس نے پیوند لگایا ہے ۔ غلام اور کھیت کا بھی یہی حال ہے ۔ نافع نے ان تینوں چیزوں کا نام لیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
2203. حضرت ابن عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت نافع نے کہا کہ جب کھجور کا کوئی پیوند درخت فروخت کیا جائے اور اس کے پھل کاذکر نہ آئے تو پھل اسی کا ہے جس نے اسے پیوند کیا تھا۔ غلام اورکھیت کا بھی یہی حکم ہے حضرت نافع نے اپنے شاگرد ابن جریج سے ان تینوں کا ذکر کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2203]
حدیث حاشیہ: یعنی اگر ایک غلام بیچا جائے اور اس کے پاس مال ہو تو وہ مال بائع ہی کا ہوگا۔
اسی طرح لونڈی اگر بکے تو اس کا بچہ جو پیدا ہو چکا ہو وہ بائع ہی کا ہوگا۔
پیٹ کا بچہ مشتری کا ہوگا لیکن اگر خریدار پہلے ہی ان پھلوں یا لونڈی غلام سے متعلق چیزوں کے لینے کی شرط پر سودا کرے اور وہ مالک اس پر راضی بھی ہو جائے تو پھر وہ پھل یا لونڈی غلاموں کی وہ جملہ اشیاء اسی خریدار کی ہوں گی۔
شریعت کا منشاء یہ ہے کہ لین دین کے معاملات میں فریقین کا باہمی طور پر جملہ تفصیلات طے کرلینا اور دونوں طرف سے ان کا منظور کر لینا ضروری ہے تاکہ آگے چل کر کوئی جھگڑا فساد پیدا نہ ہو۔
اسی طرح لونڈی اگر بکے تو اس کا بچہ جو پیدا ہو چکا ہو وہ بائع ہی کا ہوگا۔
پیٹ کا بچہ مشتری کا ہوگا لیکن اگر خریدار پہلے ہی ان پھلوں یا لونڈی غلام سے متعلق چیزوں کے لینے کی شرط پر سودا کرے اور وہ مالک اس پر راضی بھی ہو جائے تو پھر وہ پھل یا لونڈی غلاموں کی وہ جملہ اشیاء اسی خریدار کی ہوں گی۔
شریعت کا منشاء یہ ہے کہ لین دین کے معاملات میں فریقین کا باہمی طور پر جملہ تفصیلات طے کرلینا اور دونوں طرف سے ان کا منظور کر لینا ضروری ہے تاکہ آگے چل کر کوئی جھگڑا فساد پیدا نہ ہو۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2203 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2203. حضرت ابن عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت نافع نے کہا کہ جب کھجور کا کوئی پیوند درخت فروخت کیا جائے اور اس کے پھل کاذکر نہ آئے تو پھل اسی کا ہے جس نے اسے پیوند کیا تھا۔ غلام اورکھیت کا بھی یہی حکم ہے حضرت نافع نے اپنے شاگرد ابن جریج سے ان تینوں کا ذکر کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2203]
حدیث حاشیہ:
(1)
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جس نے پیوند شدہ کھجور کا درخت فروخت کیا تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہوگا مگر یہ کہ خریدار اس کی شرط لگالے۔
اور جو کوئی غلام فروخت کرے تو اس کامال فروخت کرنے والے کا ہے مگر یہ کہ خریدار اس کی شرط لگالے۔
‘‘ (صحیح مسلم، البیوع، حدیث: 3905(1543) (2)
یہ تمام معاملات رواج اور عرف پر مبنی ہیں۔
اگر معاشرے میں رائج کوئی چیز شریعت کے خلاف نہیں تو شریعت نے اسے گوارا کیا ہے، اسے ناجائز قرار نہیں دیا۔
(1)
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جس نے پیوند شدہ کھجور کا درخت فروخت کیا تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہوگا مگر یہ کہ خریدار اس کی شرط لگالے۔
اور جو کوئی غلام فروخت کرے تو اس کامال فروخت کرنے والے کا ہے مگر یہ کہ خریدار اس کی شرط لگالے۔
‘‘ (صحیح مسلم، البیوع، حدیث: 3905(1543) (2)
یہ تمام معاملات رواج اور عرف پر مبنی ہیں۔
اگر معاشرے میں رائج کوئی چیز شریعت کے خلاف نہیں تو شریعت نے اسے گوارا کیا ہے، اسے ناجائز قرار نہیں دیا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2203 سے ماخوذ ہے۔