صحيح البخاري
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
بَابُ هَلْ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ بِغَيْرِ أَجْرٍ وَهَلْ يُعِينُهُ أَوْ يَنْصَحُهُ: باب: کیا کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان کسی اجرت کے بغیر بیچ سکتا ہے؟ اور کیا اس کی مدد یا اس کی خیر خواہی کر سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ ، وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا قَوْلُهُ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ؟ قَالَ : لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا .´ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری ، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے ، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ” کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے “ کا مطلب کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اگر یہ دلال نہ بنتا تو شاید غریبوں کو غلہ سستا ملتا۔
حنفیہ نے کہا کہ یہ حدیث اس وقت ہے جب غلہ کا قحط ہو۔
مالکیہ نے کہا عام ہے۔
ہمارے احمد بن حنبل ؒ سے منقول ہے کہ ممانعت اس صورت میں ہے جب پانچ باتیں ہوں۔
جنگل سے کوئی اسباب بیچنے کو آئے، اس دن کے نرخ پر بیچنا چاہے، نرخ اس کو معلوم نہ ہو۔
بستی والا قصد کرکے اس کے پاس جائے، مسلمانوں کو اس اسباب کی حاجت ہو، جب یہ پانچ باتیں پائی جائیں گی تو بیع حرام اور باطل ہوگی ورنہ صحیح ہوگی۔
(وحیدی)
سمسارا کی تشریح میں امام شوکانی ؒ فرماتے ہیں بسینین مهملتین قال في الفتح و هو في الأصل القیم بالأمر و الحافظ ثم استعمل في متولی البیع و الشراء لغیرہ۔
یعنی سمسار اصل میں کسی کام کے محافظ اور انجام دینے والے شخص کو کہا جاتا ہے اور اب یہ اس کے لیے مستعمل ہے جو خرید و فروخت کی تولیت اپنے ذمے لیتا ہے جسے آج کل دلال کہتے ہیں۔
(1)
امام بخاری ؒ کے نزدیک مذکورہ حدیث ایک خاص معنی پر محمول ہے کہ اجرت لے کر بیع کرنا ممنوع ہے۔
اس کے برعکس اگر شہری آدمی باہر سے آنے والے کسی دیہاتی کا سامان تعاون اور خیر خواہی کے طور پر فروخت کرتا ہے تو ایسا کرنے میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ دوسری احادیث میں مسلمان کی خیر خواہی اور اس کے ساتھ ہمدردی کرنے کا حکم ہے۔
(2)
جو شخص اجرت لے کر کسی کی خریدوفروخت کرتا ہے،اس کا مقصد خیرخواہی نہیں بلکہ صرف اجرت کا حصول ہے۔
(1)
آج کل ہمارے ہاں کسی کارخانے یا فرم کا مال ایجنٹ بن کر فروخت کیا جاتا ہے، بڑے بڑے کاروبار اسی طرز پر چلتے ہیں۔
طے شدہ کمیشن پر ایسا کرنا جائز ہے۔
صارفین کےلیے اس میں آسانی ہے۔
اگر کسی نے جائیداد خریدنی یا فروخت کرنی ہو تو اسے ڈیلر حضرات کے ذریعے سے فروخت کیا یا خریدا جاسکتا ہے، ان کا کمیشن فیصد کے حساب سے طے ہوتا ہے۔
ڈیلر حضرات کےلیے ضروری ہے کہ وہ جھوٹ اور فریب سے کام نہ لیں اور دیانت داری کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
(2)
اس حدیث میں دیہات سے مال لانے والوں کو آگے بڑھ کر ملنے اور ان سے معاملہ طے کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
یہ حکم امتناعی اس صورت میں ہے کہ شہری آدمی دیہات سے مال لانے والے کو بازار کے نرخ سے بے خبر رکھے۔
ایسا کرنے سے بازار والوں کے لیے بھی نقصان کا پہلو پیدا ہوتا ہے۔
اگر بازار کے ریٹ پر، دوسرے خریداروں پر اور بازار والوں پر ایسا کرنے سے کوئی غلط اثر یا دباؤ نہیں پڑتا تو اس طریقے سے کسی دوسرے کاایجنٹ بن کر مال خریدا جاسکتا ہے اور اسے فروخت بھی کیا جاسکتا ہے، دونوں طرف سے کمیشن وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(3)
چیز فروخت کرنے کے بعد ایجنٹ حضرات سبزی یا پھلوں سے اپنی پسند کی سبزی یا پھل لے لیتے ہیں، ایسا کرنا جائز نہیں کیونکہ وہ صرف طے شدہ کمیشن کے حق دار ہیں جو انھوں نے وصول کرلیا ہے۔
شہری خود پیشکش کرے کہ سامان کی فروخت کے لیے مجھے وکیل یا دلال بنا لو۔
(2)
جنگلی یا بدوی کو نرخ کا علم نہ ہو، اگر بھاؤ کا پتہ ہو تو پھر حرام نہیں ہے۔
(3)
وہ سامان فوری فروخت کے لیے لایا ہو اور اس دن کے بھاؤ پر بیچنا چاہتا ہو۔
(4)
اس سامان کی لوگوں کو ضرورت ہو، اور دیر سے بیچنے سے تنگی اور ضیق کا خطرہ ہو۔
اگر ان شروط کی موجودگی میں شہری بیچے گا تو یہ جرم اور گناہ ہے اور بیع صحیح ہے۔
اور احناف کا موقف یہ ہے اگر اس بیع سے شہریوں کو نقصان پہنچتا ہو تو پھر یہ کام ناجائز ہے۔
لیکن بیع گناہ کے باوجود احناف، شوافع اور مالکیہ کے نزدیک ہو جائے گی، اور احناف کے نزدیک دیانتا فسخ ہونا چاہیے کیونکہ بیع مکروہ کا یہی حکم ہے، امام ابن حزم کے نزدیک یہ بیع منعقد نہیں ہو گی اور امام احمد کا بھی ایک قول یہی ہے اور ایک قول دوسرے ائمہ کے مطابق ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیک شہری دلالی (اجرت)
لے کر فروخت کرے تو ناجائز ہے، اگر بلا اجرت فروخت کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ ہمدردی اور خیرخواہی ہے، امام بخاری کا بھی یہی موقف ہے۔
لیکن جمہور کے نزدیک ہر صورت میں ممنوع ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی آگے جا کر تجارتی قافلے سے ملے، اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے، (راوی طاؤس کہتے ہیں:) میں نے ابن عباس سے کہا: اس قول ” کوئی شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے “ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: یعنی شہری دلال نہ بنے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4504]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «حاضر لباد» کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے کہا: بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2177]
فائدہ: اس مسئلے کی تفصیل کے لیے حدیث: 2145 کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
سیدنا طاؤس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سامان تجارت لے کر آنے والے قافلوں کو آگے جا کر نہ ملو اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے۔ “ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا ” شہری دیہاتی کا سامان فروخت نہ کرے “ کا کیا مطلب ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ شہری دیہاتی کا دلال نہ بنے۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 674»
«أخرجه البخاري، البيوع، باب هل يبيع حاضر لباد، حديث:2158، ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الحاضرة للبادي، حديث:1521.»
تشریح: راوئ حدیث: «حضرت طاوس رحمہ اللہ» ان کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے اور نسب یوں ہے: طاوس بن کیسان حمیری۔
حمیر قبیلہ والوں کے مولا ہیں۔
فارسی النسل ہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا نام ذکوان ہے اور طاوس ان کا لقب ہے۔
ثقہ ہیں۔
نہایت فاضل فقیہ ہیں اور تیسرے طبقے سے ہیں۔
ان کا بیان ہے کہ میں نے پچاس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو پایا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ’’میرا گمان ہے کہ طاوس جنتی ہے۔
‘‘ عمروبن دینار کا قول ہے: ’’میں نے ان جیسا کوئی نہیں دیکھا۔
‘‘ ۱۰۶ ہجری میں فوت ہوئے۔