صحيح البخاري
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الأَسْوَاقِ: باب: بازاروں کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةِ النَّهَارِ ، لَا يُكَلِّمُنِي وَلَا أُكَلِّمُهُ حَتَّى أَتَى سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، فَجَلَسَ بِفِنَاءِ بَيْتِ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : أَثَمَّ لُكَعُ ، أَثَمَّ لُكَعُ ، فَحَبَسَتْهُ شَيْئًا ، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا تُلْبِسُهُ سِخَابًا أَوْ تُغَسِّلُهُ ، فَجَاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى عَانَقَهُ وَقَبَّلَهُ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ أَحْبِبْهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : أَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَأَى نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ .´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن یزید نے ان سے نافع بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ایک حصہ میں تشریف لے چلے ۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی قینقاع کے بازار میں آئے پھر ( واپس ہوئے اور ) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے آنگن میں بیٹھ گئے اور فرمایا ، وہ بچہ کہاں ہے ، وہ بچہ کہاں ہے ؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا ( کسی مشغولیت کی وجہ سے فوراً ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکیں ۔ میں نے خیال کیا ، ممکن ہے حسن رضی اللہ عنہ کو کرتا وغیرہ پہنا رہی ہوں یا نہلا رہی ہوں ۔ تھوڑی ہی دیر بعد حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سینے سے لگا لیا اور بوسہ لیا ، پھر فرمایا اے اللہ ؟ ! اسے محبوب رکھ اور اس شخص کو بھی محبوب رکھ جو اس سے محبت رکھے ۔ سفیان نے کہا کہ عبیداللہ نے مجھے خبر دی ، انہوں نے نافع بن جبیر کو دیکھا کہ انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک ہی رکعت پڑھی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
صحیح مسلم کی روایت میں وضاحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بازار بنو قینقاع سے واپس آئے،پھر حضرت فاطمہ ؓ کے گھر میں داخل ہوئے۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6257(2421)
یہ وضاحت اس لیے کی گئی ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ کا گھر بنو قینقاع کے بازار میں نہیں تھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بخاری کی اس روایت میں راوی سے کچھ الفاظ رہ گئے ہیں۔
(فتح الباري: 432/4)
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بازار بنو قینقاع تشریف لے گئے، اس لیے بازاروں میں آنا جانا اور معاملات کرنا کوئی مذموم امر نہیں۔
ضروریات زندگی کے لیے بہر حال ہر کسی کو بازار جا نا پڑتا ہے۔
امام بخاری ؒ کا مقصد بھی اس امر کا بیان کرنا ہے کیونکہ بیوع کا تعلق زیادہ تر بازاروں ہی سے ہے۔
(3)
وتر سے متعلق نافع ؒ کے عمل کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عبیداللہ کی نافع سے ملاقات ثابت ہے،اس لیے مذکورہ حدیث میں ان کا ''عن''سے بیان کرنا صحت حدیث پر اثر انداز نہیں ہوگا۔
(عمدة القاري: 404/8)
یا اللہ! میرے دل میں بھی تیرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے آل واولاد سے محبت پیدا کر۔
ومن مذھبي حب النبي وآله والناس فیما یعشقون مذاھب حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے گلے میں ہار تھا اسی سے باب کا مضمون نکلتا ہے نابالغ بچوں کے لیے ایسے ہار وغیرہ پہنا دینا جائز ہے۔
(1)
واقعی آلِ رسول سے محبت کرنا ایمان کی علامت ہے۔
’’اے اللہ! ہمارے دل میں اللہ اور آل رسول کی محبت پیدا فرما۔
‘‘ اس حدیث میں ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے گلے میں خوشبودار ہار تھا، اس لیے بچوں کے گلے میں اس طرح کے خوشبودار ہار ڈالے جا سکتے ہیں، خواہ وہ پھولوں کے ہوں یا خوشبودار موتیوں کے ہوں۔
(2)
عرب کے لوگ لونگ کے ہار بھی بچوں کو پہنانے کا رواج تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن چڑھے بنو قینقاع کے بازار گئے وہاں سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے، آپ نے فرمایا: ’’بچہ کدھر ہے؟‘‘ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نہلایا اور خوشبودار ہار پہنایا تو وہ دوڑ کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغل گیر ہو گئے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2122)
(1)
في طائفة من النهار: دن کے کسی حصہ میں، (2)
صائفة: تو دن کی گرمی میں، (3)
لا يكلمني ولا اكلمه: آپ ذکر و فکر میں مشغولیت کی بنا پر چپ چاپ چل رہے اور حضرت ابو ہریرہ، آپ کے ادب و احترام میں آپ کی مشغولیت میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے وہ بھی آپ سے کلام نہیں کر رہے تھے۔
(4)
خباء: خیمہ کو کہتے ہیں، لیکن یہاں مراد گھر ہے اور بخاری شریف میں گھر کے سامنے کا آنگن، فناء کا لفظ ہے۔
(5)
لكع: کمینے کو کہتے ہیں، لیکن پیار و محبت کے لیے چھوٹے بچے کو بھی کہہ دیتے ہیں۔
(6)
سخاب: خوشبو سے تیار کردہ ہار اور بقول بعض مونگوں کا ہار۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ” اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، اور اس سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرے “ ۱؎۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 142]
اس میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے کہ ان سے محبت اللہ کی محبت کے حصول کا ذریعہ ہے۔
(2)
اپنے بچوں سے محبت کا اظہار کرنا، معاشرہ میں بلند مقام رکھنے والوں کی شان کے منافی نہیں بلکہ اخلاق حسنہ میں شامل ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بچوں کے گلے میں ہار ڈالنا درست ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نواسوں سے بہت زیادہ محبت تھی۔