صحيح البخاري
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الأَسْوَاقِ: باب: بازاروں کا بیان۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا دَعَوْتُ هَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حمید طویل نے بیان کیا ، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بازار میں تھے ۔ کہ ایک شخص نے پکارا یا ابا القاسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا ۔ ( کیونکہ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہی تھی ) اس پر اس شخص نے کہا کہ میں نے تو اس کو بلایا تھا ۔ ( یعنی ایک دوسرے شخص کو جو ابوالقاسم ہی کنیت رکھتا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت تم اپنے لیے نہ رکھو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ثابت ہوا کہ بوقت ضرورت بازار جانا برا نہیں ہے، مگر وہاں امانت و دیانت کو قدم قدم پر ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
بعض نے کہا کہ اس زمانہ میں بقیع میں بھی بازار لگا کرتا تھا۔
کنیت کے بارے میں یہ حکم آپ کی حیات مبارکہ تک تھا۔
جیسا کہ امام مالک ؒ کا قول ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے حضرت انس ؓ سے مروی حدیث کو دو طریق سے بیان کیا ہے جس سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ پہلی روایت میں سوق سے مراد سوق بقیع ہے۔
اس کی تائید مسند احمد کی ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
راوی بیان کرتا ہے رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس بقیع میں تشریف لائے اور فرمایا: ’’اے تاجروں کے گروہ!خریدوفروخت کرتے وقت جھوٹی قسم اور دھوکے وغیرہ میں انسان مبتلا ہوجاتا ہے،لہٰذا تم اس قسم کی لغزش کو صدقے وغیرہ سے دھو دیا کرو‘‘ (مسند أحمد: 6/4)
ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں وہاں بازار لگتا ہو۔
(2)
اس حدیث سے رسول اللہ ﷺ کا بازار جانا ثابت ہوتا ہے،اس لیے بوقت ضرورت بازار جانا برا نہیں مگر وہاں قدم قدم پر امانت ودیانت کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
کافر لوگ رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ رسول کھانا کھاتا اور بازار جاتا ہے،گویا ان کے نزدیک بازار جانا منصب نبوت کے خلاف تھا۔
اس سے ثابت ہوا کہ آپ کا بازار جانا شان ِرسالت اور منصب امامت کے خلاف نہیں۔
قرآن کریم نے بھی اس اعتراض کا جواب دیا ہے۔
(الفرقان20: 25)
امام مالک، جمہور سلف اور جمہور فقہاء اور علماء کا یہ موقف ہے کہ اس ممانعت کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہے، جب کہ اس کنیت رکھنے سے التباس کا خطرہ تھا اور اب التباس کا خدشہ باقی نہیں رہا ہے، اس لیے اب جو چاہے یہ کنیت رکھ سکتا ہے، خواہ اس کا نام محمد یا احمد ہو یا نہ ہو۔
(2)
امام شافعی اور اہل ظاہر کا نظریہ یہ ہے، یہ ابو القاسم کنیت رکھنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے، خواہ اس کا نام محمد یا احمد ہو یا نہ ہو۔
(3)
امام ابن جریر کے نزدیک یہ نص تنزیہہ یا ادب و احترام کے لیے ہے۔
(4)
یہ کنیت رکھنا اس شخص کے لیے ممنوع ہے، جس کا نام محمد یا احمد ہو اور جس کا یہ نام نہ ہو اس کے لیے ابو القاسم کنیت رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بعض متقدمین کا یہی موقف ہے۔
(5)
ابو القاسم کنیت رکھنا، ہر ایک کے لیے ممنوع ہے، اس طرح قاسم نام رکھنا جائز نہیں ہے، تاکہ اس کے باپ کو ابو القاسم نہ کہا جا سکے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص آپ کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ جمع کر کے محمد ابوالقاسم نام رکھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2841]
وضاحت:
1؎:
اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض کا کہنا ہے کہ آپﷺ کی زندگی میں یہ چیز ممنوع تھی، آپﷺ کے بعد آپﷺ کا نام اورآپﷺ کی کنیت رکھنا درست ہے، بعض کا کہنا ہے کہ دونوں ایک ساتھ رکھنا منع ہے، جب کہ بعض کہتے ہیں کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے، پہلا قول راجح ہے۔
(دیکھئے اگلی دونوں حدیثیں)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقبرہ بقیع میں تھے کہ ایک شخص نے دوسرے کو آواز دی: اے ابوالقاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب متوجہ ہوئے، تو اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مخاطب نہیں کیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3737]
فوائد و مسائل:
(1)
بقیع مدینہ منورہ کے قریب ایک میدان تھا جس کے ایک حصے میں قبرستان تھا جبکہ باقی میدان میں خرید و فروخت ہوتی تھی۔
آج کل اس میدان میں اہل مدینہ کا قبرستان ہے جسے عرف عام میں ’’جنت البقیع‘‘کہا جاتا ہے۔
اس واقعہ کی ایک روایت میں یہ لفظ ہیں: ’’نبی ﷺ بازار میں تھے کہ ایک آدمی بولا: اے ابوالقاسم!۔
۔
۔
۔
۔‘‘ (صحيح البخاري، المناقب، باب كنية النبى ﷺ، حديث: 3537)
(2)
کنیت سے مراد وہ نام ہے جو اولاد کی نسبت سے ’’ابو‘‘ یا ’’ام‘‘ کے ساتھ رکھا جائے، مثلاً: ابو بکر ؓ اور ام عبداللہ (عائشہ صدیقہ ؓ)
(3)
اس مسئلے میں مختلف اقوال ہیں: امام ابن ماجہ ؒ نے باب کا جو عنوان تحریر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رائے یہ ہے کہ جس شخص کا نام محمد ہو، وہ ابوالقاسم کنیت نہ رکھے۔
دوسرا آدمی یہ کنیت رکھ سکتا ہے۔
بعض علماء کی رائے ہے کہ یہ ممانعت صرف نبی ﷺ کی زندگی میں تھی جیسا کہ زیر مطالعہ حدیث سے بھی بطاہر یہی معلوم ہوتا ہے۔