صحيح البخاري
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الأَسْوَاقِ: باب: بازاروں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ، وَفِيهِمْ أَسْوَاقُهُمْ وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ، ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " .´ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سوقہ نے ، ان سے نافع بن جبیر بن مطعم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ، کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا ۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ، کہ میں نے کہا ، یا رسول اللہ ! اسے شروع سے آخر تک کیوں کر دھنسایا جائے گا جب کہ وہیں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکریوں میں سے نہیں ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! شروع سے آخر تک ان سب کو دھنسا دیا جائے گا ۔ پھر ان کی نیتوں کے مطابق وہ اٹھائے جائیں گے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہی مقصد باب ہے۔
(1)
اس حدیث کے مطابق مقام بیداء میں بازاروں یا بازار میں کام کرنے والے دکانداروں کا ثبوت ملتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے صرف اسی کو ثابت کرنے کے لیے حدیث کی ذکر کی ہے۔
(2)
بازار میں اگرچہ شوروشغب ہوتا ہے لیکن اگر شرفاء اپنی ضروریات پوری کرنے کےلیے وہاں جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل شر اور فتنہ پرور لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھنا خود اپنی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔
(4)
بعض روایات میں"أشرافهم"کے الفاظ ہیں اس بنا پر بخاری کے لیے بیان کردہ الفاظ أسوافهم پر تصحیف کا اعتراض کیا گیا ہے جو مبنی بر حقیقت نہیں۔
(فتح الباري: 430/4)
(1)
عبث: جسم کو جنبش دی، ہاتھ پیر ہلائے المستبصر، معاملہ کی بصیرت رکھنے والا۔
(2)
يصدرون مصادرشتي: الگ الگ اور متفرق طور پر واپسی ہوگی، ہر ایک سے اس کی نیت وعمل کے مطابق سلوک ہوگا۔