حدیث نمبر: 2118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ، وَفِيهِمْ أَسْوَاقُهُمْ وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ، ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سوقہ نے ، ان سے نافع بن جبیر بن مطعم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ، کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا ۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ، کہ میں نے کہا ، یا رسول اللہ ! اسے شروع سے آخر تک کیوں کر دھنسایا جائے گا جب کہ وہیں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکریوں میں سے نہیں ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! شروع سے آخر تک ان سب کو دھنسا دیا جائے گا ۔ پھر ان کی نیتوں کے مطابق وہ اٹھائے جائیں گے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2118
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2884

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2118. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء پر پہنچے گا تو اول سے آخر تک تمام لشکر کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔‘‘ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! تمام کوکیسے زمین میں دھنسا دیا جائےگا؟ جبکہ ان میں دوکانداربھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی جن کا لشکر سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آپ نے فرمایا: ’’اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر انھیں اپنی اپنی نیتوں کے مطابق (قبروں سے) اٹھایا جائے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2118]
حدیث حاشیہ: سو اس سے کعبہ میں بازاروں کا وجود ثابت ہوا۔
یہی مقصد باب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2118 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2118. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء پر پہنچے گا تو اول سے آخر تک تمام لشکر کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔‘‘ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! تمام کوکیسے زمین میں دھنسا دیا جائےگا؟ جبکہ ان میں دوکانداربھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی جن کا لشکر سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آپ نے فرمایا: ’’اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر انھیں اپنی اپنی نیتوں کے مطابق (قبروں سے) اٹھایا جائے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2118]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کے مطابق مقام بیداء میں بازاروں یا بازار میں کام کرنے والے دکانداروں کا ثبوت ملتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے صرف اسی کو ثابت کرنے کے لیے حدیث کی ذکر کی ہے۔
(2)
بازار میں اگرچہ شوروشغب ہوتا ہے لیکن اگر شرفاء اپنی ضروریات پوری کرنے کےلیے وہاں جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل شر اور فتنہ پرور لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھنا خود اپنی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔
(4)
بعض روایات میں"أشرافهم"کے الفاظ ہیں اس بنا پر بخاری کے لیے بیان کردہ الفاظ أسوافهم پر تصحیف کا اعتراض کیا گیا ہے جو مبنی بر حقیقت نہیں۔
(فتح الباري: 430/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2118 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2884 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند میں اپنے جسم کو حرکت دی یا ہاتھ پیر ہلائے، چنانچہ ہم نے پوچھا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اپنی نیند میں ایسا کام کیا، جو آپ پہلے نہیں کرتے تھے۔سو آپ نے فرمایا:"حیرت انگیز بات ہے، میری امت کے کچھ لوگ، ایک قریشی آدمی کی خاطر جو بیت اللہ کی پناہ لے چکا ہو گا، بیت اللہ کا رخ کریں گے، حتی کہ جب وہ زمین کے ایک چٹیل میدان میں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7244]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
عبث: جسم کو جنبش دی، ہاتھ پیر ہلائے المستبصر، معاملہ کی بصیرت رکھنے والا۔
(2)
يصدرون مصادرشتي: الگ الگ اور متفرق طور پر واپسی ہوگی، ہر ایک سے اس کی نیت وعمل کے مطابق سلوک ہوگا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2884 سے ماخوذ ہے۔