صحيح البخاري
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
بَابُ إِذَا كَانَ الْبَائِعُ بِالْخِيَارِ، هَلْ يَجُوزُ الْبَيْعُ: باب: اگر بائع اپنے لیے اختیار کی شرط کر لے تو بھی بیع جائز ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " ، قَالَ هَمَّامٌ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي : يَخْتَارُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا ، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا ، فَعَسَى أَنْ يَرْبَحَا رِبْحًا وَيُمْحَقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا . قَالَ : وَحَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حبان نے بیان کیا ، کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابوخلیل نے ، ان سے عبداللہ بن حارث نے اور ان سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بیچنے اور خریدنے والے کو جب تک وہ جدا نہ ہوں ( بیع توڑ دینے کا ) اختیار ہے ۔ ہمام راوی نے کہا کہ میں نے اپنی کتاب میں لفظ «يختار» تین مرتبہ لکھا ہوا پایا ۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور بات صاف صاف واضح کر دی تو انہیں ان کی بیع میں برکت ملتی ہے اور اگر انہوں نے جھوٹی باتیں بنائیں اور ( کسی عیب کو ) چھپایا تو تھوڑا سا نفع شاید وہ کما لیں ، لیکن ان کی بیع میں برکت نہیں ہو گی ۔ ( حبان نے ) کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے سنا کہ یہی حدیث وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعض نسخوں میں یختار کے بدل یخیار ہے۔
)
(1)
بيعان سے خریدوفروخت کرنے والے دونوں مراد ہیں۔
عقد مجلس میں سودا پختہ یا فسخ کرنے کا دونوں کو اختیار ہے۔
جس طرح خریدنے والا دوران مجلس میں بیع واپس کرنے اور قیمت لینے کا مجاز ہے اسی طرح بائع بھی قیمت واپس کرنےاور اپنی فروخت کردہ چیز لینے کا اختیار رکھتا ہے۔
مشتری کو اختیار دینا اور بائع کو اس سے محروم رکھنا قرین انصاف نہیں۔
بائع کو اختیار دینے سے بیع کا انعقاد متاثر نہیں ہوگا۔
(2)
روایت میں حضرت حمام کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ انھوں نے یہ حدیثاپنی یادداشت سے بیان کرنے کے بعد اپنی کتاب دیکھی تو وہاں اس طرح پایا: ’’وہ تین بار اختیار کرے‘‘ یعنی خریدنے والا تین دفعہ اپنی پسند کا اعلان کرے۔
یہ الفاظ غیر محفوط ہیں اور حضرت قتادہ سے بیان کرنے والے دوسرے راویوں کے بھی خلاف ہیں،لہٰذا یہ الفاظ کسی صورت میں قبول نہیں ہوں گے۔
(فتح الباري: 422/4)
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ خریدار کو جب تک وہ دکان سے جدا نہ ہو مال واپس کرنے کا اختیار ہے ہاں دکان سے چلے جانے کے بعد یہ اختیار ختم ہے مگر یہ کہ ہر دونے باہمی طور پر ایک مدت کے لیے اس اختیار کو طے کر لیا ہو تو یہ امر دیگر ہے۔
(1)
فروخت کرنے والا اور خریدار اگر دونوں سچ بولیں،فروخت کردہ چیز اور قیمت میں کسی قسم کا ابہام یا پوشیدگی نہ رکھیں تو ان کی بیع نفع مند اور ثمر آور ہوگی بصورت دیگر اس کی برکت ختم کردی جائے گی،یعنی حصول برکت کے لیے شرط یہ ہے کہ سچائی اور ہر معاملے کی وضاحت ہو اور برکت ختم اس وقت ہوگی جب جھوٹ اور ابہام پایا جائے گا۔
اگر فروخت کرنے والے یا خریدار میں سے کسی ایک نے صداقت اور اظہار کا معاملہ کیا لیکن دوسرے نے جھوٹ اور کتمان سے کام لیا تو کیا برکت حاصل ہوگی یانہیں؟حدیث کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتاہے کہ صداقت اور وضاحت کرنے والے کو اللہ سے اجرو ثواب ملے گا اور جھوٹ بولنے والا قیامت کے دن عتاب وسزا کا حقدار ہوگا۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہوں کی نحوست دنیا وآخرت کی برکات کو ختم کردیتی ہے۔
(فتح الباری: 4/394) (3)
بیع پختہ ہونے کہ بعد اسے ختم کرنے کے لیے تین اختیارات ہیں: خیار مجلس،خیار شرط اور خیار عیب،ان تینوں کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
(1)
تمام محدثین کا موقف ہے کہ صرف عقد،یعنی ایجاب وقبول سے بیع لازم نہیں ہوجاتی جب تک بائع اور مشتری مجلس عقد سے جدانہ ہوں کیونکہ مجلس میں رہتے ہوئے انھیں بیع پختہ یا فسخ کرنے کا اختیار رہتا ہے۔
اختتام مجلس کے بعد چونکہ یہ اختیار ختم ہوجاتا ہے،اس لیے ان کے لیے بیع لازم ہوجاتی ہے۔
اس کے بعد خیار شرط اور خیار عیب کی بنا پر بیع فسخ ہوسکے کی بصورت دیگر فسخ نہیں ہوگی۔
حضرت سعید بن مسیّب، امام زہری، ابن ابی ذئب، حسن بصری، امام اوزاعی، ابن جریج،امام شافعی،امام مالک، امام احمد بن حنبل اور اکثر فقہاء رحمۃ اللہ علیہ یہی کہتے ہیں۔
امام ابن حزم نے لکھا ہے: ابراہیم نخعی کے علاوہ تابعین میں سے کوئی اس موقف کا مخالف نہیں ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے صرف امام نخعی کا قول اختیار کرکے جمہور محدثین کی مخالفت کی ہے۔
اس سلسلے میں قاضی شریح کی ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ جب آدمی خریدوفروخت کے متعلق بات کرتا ہے تو بیع پختہ ہوجاتی ہے۔
لیکن یہ روایت صحیح نہیں کیونکہ اس میں حجاج بن ارطاۃ نامی راوی ضعیف ہے۔
(2)
واضح رہے کہ مجلس کی برخاستگی سے مراد جسمانی جدائی ہے۔
اگر اہل رائے کے طرح محض باتوں کی جدائی مراد ہوتو مذکورہ حدیث اپنے حقیقی فائدے سے خالی رہ جاتی ہے بلکہ سرے سے حدیث کے کوئی معنی ہی باقی نہیں رہتے۔
الغرض صحیح مسلک کے مطابق ہر دوطرح سے جسمانی جدائی مراد ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل سے ثابت ہے۔
(فتح الباری: 4/416)
w
اس حدیث میں ہے کہ بیچنے والے اور خریدنے والے کو بیع پختہ یا فسخ کرنے کا اختیار باقی رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، اس\" علیحدگی\"سے کیا مراد ہے؟امام شافعی کا موقف ہے کہ اس سے مراد تفرق ابدان ہے،یعنی بائع اور مشتری اگر مجلس سے ادھر اُدھر چلے جائیں تو بیع نافذ ہوجاتی ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس سے تفرق اقوال مراد ہے، یعنی بیچنے والا کہہ دے کہ میں نے فروخت کیا اور خریدنے والا کہہ دے کہ میں نے اسے خریدا تو اس سے بیع پختہ ہوجاتی ہے،اس کے بعد کسی کو بیع فسخ کرنے کا اختیار نہیں،یعنی ایجاب وقبول کے بعد اختیار ختم ہوجاتا ہے اگرچہ مجلس ہی میں کیوں نہ ہو۔
لیکن قبل ازیں حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد تفرق ابدان ہے کیونکہ حضرت نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی چیز خریدتے جو انھیں پسند ہوتی تو اپنے ساتھی سے جلدی الگ ہوجاتے۔
(حدیث: 2107)
اس بنا پر ہمارا رجحان بھی یہی ہے کہ مجلس کے قائم رہنے تک بائع اور مشتری کو اپنی بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے۔
جب مجلس ختم ہوجائے تو یہ اختیار بھی ختم ہوجاتا ہے،البتہ خیار شرط یا خیار عیب باقی رہتا ہے۔
w
جھوٹ اور کتمان اشیائے فروخت کی برکت کو ختم کردیتے ہیں، یعنی اگر بیچنے والا سودے کی تعریف میں جھوٹ بولے اور اس کے عیب چھپائے،اسی طرح خریدار بھی قیمت کی ادائیگی میں جعل سازی یا فریب کاری کرے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی برکت اٹھ جاتی ہے۔
خریدار کی طرف سے جعل سازی یہ ہے کہ جعلی چیک،فروخت کرنے والے کو دےدے یا چیک تو اصل ہو لیکن اس کے بنک میں پیسے نہ ہوں،اسی طرح جعلی کرنسی اور کھوٹے نوٹ دینے کا بھی یہی حکم ہے۔
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بائع (بیچنے والا) اور مشتری (خریدار) جب تک جدا نہ ہوں ۱؎ دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، اگر وہ دونوں سچ کہیں اور سامان خوبی اور خرابی واضح کر دیں تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر ان دونوں نے عیب کو چھپایا اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان کی بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1246]
وضاحت:
1؎:
جدانہ ہوں سے مراد مجلس سے ادھراُدھرچلے جانا ہے، خود راوی حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی تفسیرمروی ہے، بعض نے بات چیت ختم کردینا مراد لیا ہے جوظاہرکے خلاف ہے۔
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، پھر اگر دونوں سچ کہیں اور خوبی و خرابی دونوں بیان کر دیں تو دونوں کے اس خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر ان دونوں نے عیوب کو چھپایا، اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان دونوں کی بیع سے برکت ختم کر دی جائے گی۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے روایت کیا ہے، لیکن ہمام کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بائع و مشتری کو اختیار ہے جب تک کہ دو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3459]
فائدہ۔
خلاصہ ان روایات کا یہ ہے۔
کہ خریدار اور مالک ایک دوسرے سے جب تک جدا نہ ہوجایئں۔
مالک اور خریدار کو دونوں کو سودا فسخ کرنے کا اختیار رہتا ہے۔
جدائی سے مراد صرف گفتگو کا اختتام نہیں ہے۔
بلکہ جسمانی طور پر جدائی ہے۔
تاہم اختیار کی مہلت طے ہوجائے۔
تو اور بات ہے۔
پھر اس مہلت تک اختیار باقی رہتا ہے۔
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خریدنے اور بیچنے والے جب تک جدا نہ ہو جائیں دونوں کو اختیار رہتا ہے ۱؎، اگر وہ عیب بیان کر دیں اور سچ بولیں تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی بیع کی برکت ختم ہو جاتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4469]
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو جدا ہونے تک (مال کے بیچنے اور نہ بیچنے کے بارے میں) اختیار حاصل ہے، اگر سچ بولیں گے اور (عیب و ہنر کو) صاف صاف بیان کر دیں گے تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی، اور اگر جھوٹ بولیں گے اور عیب کو چھپائیں گے تو ان کی خرید و فروخت کی برکت جاتی رہے گی “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4462]
(2) حدیث مبارکہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ برکت تب ہو گی جب تجارت سچ پر مبنی ہو گی، اس لیے ضروری ہے کہ حصول برکت کے لیے تاجر لوگ سچ بول کر ہی اپنی تجارت کو فروغ دیں۔ تجارت میں جھوٹ بولنے اور سودے کا عیب چھپانے سے نہ صرف برکت حاصل نہیں ہوتی بلکہ الٹا نقصان ہوتا ہے۔ اور اس کے علاوہ ضمیر کی خلش الگ بے چین کرتی رہتی ہے۔ أعاذنا اللہ منه۔
(3) اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دنیوی فوائد کا حقیقی اور بھرپور حصول بھی عمل صالح سے ہوتا ہے جبکہ گناہوں کی نحوست اور دنیا و آخرت، دونوں کی خیر و برکت تباہ و برباد ہو جاتی ہے، اس لیے اس زریں قانون فطرت کو ہمیشہ مدنظر رکھ کر اپنے تمام معاملات ترتیب دینے چاہئیں۔
(4) ”اختیار رہتا ہے“ اسے خیار مجلس کہا جاتا ہے، یعنی جب تک فریقین سودے والی جگہ میں بیٹھے ہیں، وہ چاہیں تو ان میں سے کوئی بھی سودا واپس کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ فریق ثانی کے لیے اسے ماننا لازم ہو گا، البتہ اگر مجلس بدل جائے تو پھر دونوں کی رضامندی ہی سے سودا واپس ہو سکتا ہے۔ احناف و موالک خیار مجلس کے قائل نہیں کہ خیار مجلس کی کوئی حد نہیں، نیز یہ اختیار اصول کے خلاف ہے کیونکہ طے شدہ سودے کو ایک فریق ختم نہیں کر سکتا۔ اس حدیث کی وہ تاویل کرتے ہیں کہ یہاں ”جدا ہونے“ سے مراد سودے کی بات چیت کا طے ہونا ہے، حالانکہ یہ بات بیان کرنے کی تو ضرورت ہی نہیں۔ یہ تو بدیہی بات ہے، نیز اس حدیث کو روایت کرنے والے صحابہ نے اسے ظاہری معنیٰ پر ہی محمول کیا ہے۔ بعض دیگر احادیث میں صراحت ہے کہ واپسی کے ڈر سے کوئی جگہ نہ بدلے۔ گویا یہ معنیٰ قطعی ہے کہ جب تک مجلس نہ بدلے، اختیار قائم رہتا ہے۔ باقی رہی اصول کی بات تو اصول بھی احادیث ہی سے ثابت ہوتے ہیں، نیز حدیث بھی تو اصول شرع میں سے ایک بنیادی اصل ہے، لہٰذا اصول کا نام لے کر کسی صحیح اور صریح حدیث کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
(5) ”وضاحت سے بیان کریں“ یعنی اپنی اپنی چیز کے عیوب و نقائص وغیرہ۔
(6) ”برکت اٹھ جائے گی“ یعنی مال حرام ہو جائے گا اور کثیر ہونے کے باوجود ضروریات پوری نہیں کرے گا اور ضائع ہوتا رہے گا۔ پریشانی الگ ہو گی۔