حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، "كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ ، وَكَانَ يَكُونُ لَهُمْ أَرْوَاحٌ ، فَقِيلَ لَهُمْ : لَوِ اغْتَسَلْتُمْ " ، رَوَاهُ هَمَّامٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ .
مولانا داود راز

´مجھ سے محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا ، ان سے عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کام اپنے ہی ہاتھوں سے کیا کرتے تھے اور ( زیادہ محنت و مشقت کی وجہ سے ) ان کے جسم سے ( پسینے کی ) بو آ جاتی تھی ۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ اگر تم غسل کر لیا کرو تو بہتر ہو گا ۔ اس کی روایت ہمام نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2071
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2071. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین خود محنت مزدوری کرتے تھے، جس کی بنا پر ان کے جسم سے پسینے وغیرہ کی بو آتی تھی۔ ایسے حالات میں ان سے کہا گیا: اگر تم غسل کرلیتے تو بہتر ہوتا۔ اسے ہمام نے ہشام سے، انھوں نے اپنے باپ(عروہ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2071]
حدیث حاشیہ:
(1)
مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم گزر اوقات کے لیے خود مشقت کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے تجارت، زراعت اور محنت و مزدوری کرتے تھے۔
چونکہ اس وقت غربت کا دور تھا،اس لیے وہ اون کے موٹے کپڑے پہنتے، جب انھی کپڑوں میں جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد آتے تو پسینہ آنے کی وجہ سے ان کے جسم سے ناگوار قسم کی بو آتی،اس لیے انھیں تلقین کی گئی کہ اگر غسل کرلیا جائے تو بہتر ہے تاکہ اس ناگوار بو سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم خود محنت ومشقت کرتے تھے،دوسروں پر بوجھ بننا انھیں گوارا نہ تھا۔w
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2071 سے ماخوذ ہے۔