صحيح البخاري
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْوَسَاوِسَ وَنَحْوَهَا مِنَ الْمُشَبَّهَاتِ: باب: دل میں وسوسہ آنے سے شبہ نہ کرنا چاہئیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : " شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الرَّجُلُ يَجِدُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا ، أَيَقْطَعُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : لَا ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ : عَنِ الزُّهْرِيِّ : لَا وُضُوءَ إِلَّا فِيمَا وَجَدْتَ الرِّيحَ ، أَوْ سَمِعْتَ الصَّوْتَ .´ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر آیا جسے نماز میں کچھ شبہ ہوا نکلنے کا ہو جاتا ہے ۔ آیا اسے نماز توڑ دینی چاہئے ؟ فرمایا کہ نہیں ۔ جب تک وہ آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس کر لے ( اس وقت تک نماز نہ توڑے ) ابن ابی حفصہ نے زہری سے بیان کیا ( ایسے شخص پر ) وضو واجب نہیں جب تک حدث کی بدبو نہ محسوس کرے یا آواز نہ سن لے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(فتح الباري)
یعنی امام غزالی ؒ نے ورع کو چار قسموں پر تقسیم کیا ہے ایک ورع صدیقین کا ہے وہ یہ کہ ان تمام کاموں کو چھوڑ دینا جن کا بطور نیت عبادت سے کوئی تعلق نہ ہو۔
متقین کا ورع یہ کہ ایسی چیزوں کو بھی چھوڑ دینا جن کی حلت میں کوئی شبہ نہیں مگر خطرہ ہے کہ ان کو عمل میں لانے سے کہیں حرام تک نوبت نہ پہنچ جائے، اور صالحین کا ورع یہ کہ ایسی چیزوں سے دور رہنا جن میں حرمت کے احتمال کے لیے کوئی بھی موقع نکل سکتا ہے۔
اگر ایسا نہ ہو تو وہ وسواسیوں کا ورع ہے اور ان کے علاوہ ایک ورع الشہود ہے جس کے ارتکاب سے انسان شہادت میں ناقابل اعتبا رہو جائے عام ہے کہ وہ حرام ہو یا نہ ہو۔
یہاں مصنف رحمۃ اللہ علیہ کی غرض وسوسہ والوں کے ورع کا بیان ہے جیسا کہ کسی شکار کا گوشت محض اس لیے نہ کھائے کہ شاید وہ شکار کسی اور آدمی نے بھی کیا ہو اور اس سے وہ جانور بھاگ گیا ہو۔
یا جیسا کہ ایسے آدمی کے ہاتھ سے خرید و فروخت چھوڑ دے جو مجہول ہو اور جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ اس کا مال حرام کا ہے یا حلا ل کا۔
اور کوئی ظاہری دلیل بھی نہ ہو کہ اس کی حلت ہی پر یقین کیا جاسکے۔
اور جیسا کہ کوئی شخص ایسے آدمی کی روایت ترک کردے جس کے ضعف پر سب کا اتفاق ہو اور جس کے ساتھ حجت نہ پکڑی جاسکتی ہو، ایسے جملہ مشکوک حالات میں پرہیزگاری کا نام ورع ہے۔
مگر حد سے زیادہ گزر کر کسی مسلمان بھائی کے متعلق بلا تحقیق کوئی غلط گمان قائم کر لینا یہ بھی ورع کے سخت خلاف ہے۔
امام غزالی ؒ نے کسی جگہ لکھا ہے کہ کچھ لوگ نماز کے لیے اپنا لوٹا مصلی اس خیال سے ساتھ رکھتے ہیں کہ ان کے خیال میں دنیا کے سارے مسلمان کے لوٹے اور مصلے استعمال کے لائق نہیں ہیں۔
اور ان سب میں شبہ داخل ہے۔
صرف انہی کا لوٹا اور مصلی ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
امام غزالی ؒ نے ایسے پرہیزگاروں کو ”خود گندے“ قرار دیا ہے۔
اللهم احفظنا من جمیع الشبهات و الآفات۔
آمین
(1)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان کے تحت وسوے کی حقیقت بیان کی ہے کہ یقین وایمان سے ثابت شدہ چیز کو محض وسوسے سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔
وسوسہ یہ ہے کہ بلاوجہ ہر چیز کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھنا،مثلاً: ایک شخص سے مال خریدا،خواہ مخواہ اس کے حرام ہونے کا گمان کرنا۔
اس قسم کی وسوسہ اندازی یا وسوسہ پیروی جائز نہیں۔
(2)
مذکورہ حدیث سے یہی بات ثابت کی گئی ہے کہ ایک شخص دوران نماز میں وضو ٹوٹ جانے کا وسوسہ پاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: طہارت کا یقین محض شک سے ختم نہیں ہوتا بلکہ حدث کا یقین ہوتو وضو باطل ہوتا ہے۔
چونکہ ہوا کا خارج ہونا کثیر الوقوع ہے، اس لیے حدیث میں اس کا ذکر ہے۔
اگر دلیل سے کسی چیز کی نجاست یا حرمت معلوم ہوجائے تو اس سے باز رہنا چاہیے،صرف وسوسوں کی بنا پر کسی چیز کو نجس خیال کرنا صحیح نہیں۔
«. . . وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ الَّذِي يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: لَا يَنْفَتِلْ أَوْ لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا . . .»
”. . . وہ عباد بن تمیم سے روایت کرتے ہیں، وہ اپنے چچا (عبداللہ بن زید) سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ایک شخص ہے جسے یہ خیال ہوتا ہے کہ نماز میں کوئی چیز (یعنی ہوا نکلتی) معلوم ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (نماز سے) نہ پھرے یا نہ مڑے، جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ لاَ يَتَوَضَّأُ مِنَ الشَّكِّ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ:: 137]
اگر نماز پڑھتے ہوئے ہوا خارج ہونے کا شک ہو تو محض شک سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ جب تک ہوا خارج ہونے کی آواز یا اس کی بدبو معلوم نہ کر لے۔ باب کا یہی مقصد ہے۔ یہ حکم عام ہے خواہ نماز کے اندر ہو یا نماز کے باہر۔ امام نووی رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث سے ایک بڑا قاعدہ کلیہ نکلتا ہے کہ کوئی یقینی کام شک کی وجہ سے زائل نہ ہو گا۔ مثلاً ہر فرش یا ہر جگہ یا ہر کپڑا جو پاک صاف اور ستھرا ہو اب اگر کوئی اس کی پاکی میں شک کرے تو وہ شک غلط ہو گا۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ایک اصل کوثابت کرتے ہیں کہ جب کوئی عمل یقین و اعتماد سے شروع کیا گیا ہو تو جب تک اس کی جانب مخالف میں بھی یقین کی کیفیت پیدا نہ ہو جائے، اس وقت تک وہ عمل قائم رکھا جائے گا، صرف تردد اور شک سے اس عمل میں نقصان نہیں آنا چاہیے۔
اس سلسلے میں انھوں نے ایک خاص واقعے کا حوالہ دیا ہے کہ ایک شخص کو دوران نماز میں وضو ٹوٹنے کا اندیشہ ہوجاتا ہے تو ایسے شخص کو اس وقت تک نماز پڑھتے رہنا چاہیے جب تک اسے نقض وضو کے متعلق اس درجے کا یقین نہ ہو جس درجے کا یقین وضو کے متعلق تھا کیونکہ صرف وسوسے اور شبہے کی وجہ سے نماز ختم کرنا درست نہیں۔
ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ہے کہ جب شیطان دل میں اس طرح کا وسوسہ ڈالے تودل ہی دل میں شیطان کے اس وسوسے کی تکذیب کردے۔
صحیح ابن خزیمہ میں ہے کہ اگر ناک سے اس کی بدبو محسوس کرے یا کان سے اس کی آواز سنے تو نماز کوختم کردے۔
(عمدة القاري: 358/2)
2۔
علامہ خطابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بے وضو ہونے کا حکم صرف اس بات پر موقوف نہیں کہ وہ اس کی آواز سنے یا بدبو پائے کیونکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہوا کے خروج کا یقین ہوتا ہے لیکن نہ اس کی آواز سنی جاتی ہے اور نہ اس کی بو ہی کا احساس ہوتا ہے، مثلاً: ایک آدمی بہرا ہے یا مرض زکام کی وجہ سے اس کی قوت شامہ مفلوج ہوچکی ہے جس کی بنا پر وہ آواز یا بو کا احساس نہیں کر پاتا، ایسی صورت میں اسے وضو کرنا ہوگا کیونکہ اسے بے وضو ہونے کایقین ہوچکا ہے۔
(عمدة القاري: 359/2)
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: (باب من لم ير الوساوس ونحوها من الشبهات)
’’وساوس کو شبہات کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔
‘‘ (صحیح البخاري، البیوع، باب: 5)
لہٰذا اس حدیث سے یہ قاعدہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی یقینی معاملہ صرف شک کی وجہ سے مشکوک نہیں ہوتا اور نہ معاملات کو وساوس کی وجہ سے شبہات ہی میں تبدیل کرنا درست ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی چیزکو بلاوجہ شک وشبہ کی نظر سے دیکھنا جائز نہیں۔
واللہ أعلم۔
«. . . حَدَّثَنَا بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " . . . .»
”. . . ابن عیینہ نے، وہ زہری سے، وہ عباد بن تمیم سے، وہ اپنے چچا سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (نمازی نماز سے) اس وقت تک نہ پھرے جب تک (ریح کی) آواز نہ سن لے یا اس کی بو نہ پا لے۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْوُضُوءَ إِلاَّ مِنَ الْمَخْرَجَيْنِ، مِنَ الْقُبُلِ وَالدُّبُرِ:: 177]
خلاصہ حدیث یہ ہے کہ جت تک وضو ٹوٹنے کا یقین نہ ہو، اس وقت تک محض کسی شبہ کی بنا پر نماز نہ توڑے۔
1۔
یہ حدیث حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تھی کہ حالت نماز میں اسے خروج ریح کا خیال گزرتا ہے تو آپ نے فرمایا: ’’وہ نماز نہ توڑے جب تک آواز نہ سنے، یا بو محسوس نہ کرے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 137)
مقصد یہ ہے کہ جب اسے حدث کا یقین ہو جائے تو نماز چھوڑ دے۔
آواز کا سننا یا بدبو کا پانا بنیادی شرط نہیں، کیونکہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی سونگھنے اور سننے کی قوت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
وہ نہ آواز سن سکتے ہیں اور نہ بدبومحسوس کر تے ہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شبہ یقین کو زائل نہیں کرسکتا اور اس قسم کے شکوک وشبہات کی کوئی حیثیت نہیں۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود یہ ہے کہ بول وبراز کے راستے سے جو چیز خارج ہو، وہ ناقض وضو ہے، چنانچہ اس حدیث سے وضاحت کے ساتھ اس کا ثبوت ملتا ہے۔
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: (لَا يَتَوَضَّأُ مِنَ الشَّكِّ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ)
’’شک کی بنیاد پروضو نہ کرے تاآنکہ اسے یقین ہوجائے۔
‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ شبہ کی بنیاد پر نمازتوڑنا درست نہیں، جب تک یقین نہ ہو کہ کوئی ناقض وضو حالت پیش آئی ہے۔
عمر رسیدگی میں ایسی باتیں پیش آتی رہتی ہیں، لیکن نماز کے متعلق اوہام وخیالات کو بنیاد بنا کر نماز ختم کرنا مناسب نہیں۔
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی گئی کہ آدمی (بسا اوقات) نماز میں محسوس کرتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تک بو نہ پا لے، یا آواز نہ سن لے نماز نہ چھوڑے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 160]
➋ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہوا نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تبھی تو نماز سے نکلنے کا کہا گیا ہے۔
➌ اگر کسی چیز کا علم نہ ہو تو اس کے متعلق پوچھنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو جس قسم کا مسئلہ درپیش ہوتا، وہ فوراًً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے۔
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس شخص کا معاملہ لے جایا گیا جس نے نماز میں (حدث کا) شبہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں، شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ وہ گوز کی آواز نہ سن لے، یا بو نہ محسوس کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 513]
ہوا خارج ہونے سے پہلے وضو ٹوٹ جاتا ہے خواہ آواز آئے یا نہ آئے۔
(2)
محض شک سے وضو نہیں ٹوٹتا کیونکہ پیشاب پاخانہ وغیرہ سے وضو ٹوٹنا صحیح دلائل سے ثابت ہے۔
یہاں صرف یہ مسئلہ بتایا گیا ہے کہ وضو ٹوٹنے کا یقین یا ظن غالب ہونا چاہیے محض وہم اور شک کی بنیاد پر وضو کے لیے نہیں جانا چاہیے۔
فائدہ:
وہم وگمان سے کسی اثبات کی نفی نہیں ہوتی، قواعد فقہیہ میں سے ایک قاعدہ ہے ” «اليـقيـن لا يزول الا بـمـثـلـه» “ یقین اپنی مثل (یقین) کے ساتھ ہی زائل ہوگا۔ یاد رہے کہ وضو کے ٹوٹنے کے لیے یقینی دلیل چاہیے، اور وہم و گمان اور خیال یقینی دلیل نہیں ہے۔