صحيح البخاري
كتاب الاعتكاف— کتاب: اعتکاف کے مسائل کا بیان
بَابُ الأَخْبِيَةِ فِي الْمَسْجِدِ: باب: مسجد میں خیمہ لگانا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ إِذَا أَخْبِيَةٌ خِبَاءُ عَائِشَةَ ، وَخِبَاءُ حَفْصَةَ ، وَخِبَاءُ زَيْنَبَ ، فَقَالَ : آلْبِرَّ تَقُولُونَ بِهِنَّ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ حَتَّى اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ " .´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں یحییٰ بن سعید نے ، انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ کیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ تشریف لائے ( یعنی مسجد میں ) جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ کیا تھا ۔ تو وہاں کئی خیمے موجود تھے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی ، حفصہ رضی اللہ عنہا کا بھی اور زینب رضی اللہ عنہا کا بھی ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ انہوں نے ثواب کی نیت سے ایسا کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور اعتکاف نہیں کیا بلکہ شوال کے عشرہ میں اعتکاف کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وہاں چار خیمے دیکھے: ایک آپ کے لیے تھا اور تین ازواج مطہرات حضرت عائشہ، حضرت حفصہ اور حضرت زینب ؓ کے تھے۔
چونکہ خیموں کا اہتمام حضرت عائشہ ؓ کے ذمے تھا، اس لیے حضرت حفصہ ؓ نے ان سے باضابطہ اجازت طلب کی لیکن حضرت زینب ؓ نے اجازت لینے کی ضرورت محسوس نہ کی اور انہوں نے از خود خیمہ نصب کر لیا، غالباً رسول اللہ ﷺ کے انکار کی وجہ بھی یہی تھی۔
آپ نے تمام خیمے اکھاڑ دینے کا حکم دیا۔
بہرحال اس حدیث سے اعتکاف کے لیے مسجد میں خیمے لگانے کا جواز معلوم ہوا۔
امام بخاری ؒ کا یہی مقصود ہے۔
(فتح الباري: 350/4) (2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعتکاف کی صرف نیت کرنے سے اعتکاف واجب نہیں ہو جاتا، البتہ رسول اللہ ﷺ نے ماہ شوال میں اس کی قضا بطور استحباب کی ہے کیونکہ آپ جس عمل کو شروع کرتے اس پر دوام کرتے تھے، لیکن ازواج مطہرات کے متعلق کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ انہوں نے بھی ماہ شوال میں اعتکاف کیا ہو۔
(فتح الباري: 352/4)
(1)
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شوال کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا جبکہ مذکورہ حدیث میں شوال کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے: ان میں کوئی تعارض نہیں، آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے شوال کے آخری عشرے میں اعتکاف ختم کیا۔
(فتح الباري: 351/4)
لیکن ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے عشرے میں اعتکاف ہو تو وہ تیسرے عشرے میں کیسے ختم ہو سکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے کہ آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
(سنن أبي داود، الصوم، حدیث: 2464) (2)
معتکف کو چاہیے کہ وہ 20 رمضان کی شام کو مسجد میں پہنچ جائے اور رات مسجد میں گزارے، اگلے روز نماز فجر سے فراغت کے بعد جائے اعتکاف میں داخل ہو جائے کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، الاعتکاف، حدیث: 2025)
اور آخری عشرہ بیسویں رمضان کو مغرب کے بعد شروع ہو جاتا ہے، نیز حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو نماز فجر ادا کر کے جائے اعتکاف میں داخل ہو جاتے۔
(جامع الترمذي، الصوم، حدیث: 791)
مذکورہ حدیث بخاری میں بھی ہے: ’’جب صبح کی نماز پڑھتے تو اس جگہ تشریف لے جاتے جہاں اعتکاف کرنا ہوتا۔
‘‘
(1)
رسول اللہ ﷺ نے اعتکاف گاہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی اپنا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔
اس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ اعتکاف گاہ میں داخل ہوئے، پھر آپ نے اعتکاف کا ارادہ ترک فرمایا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کی نیت کر لینے سے وہ چیز واجب نہیں ہو جاتی۔
چونکہ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جو کام شروع کرتے اس پر دوام فرماتے، اس لیے آپ نے ماہ شوال میں دس دن اعتکاف کر کے اس کی تلافی فرمائی، بصورت دیگر صرف نیت کر لینے سے وہ اعتکاف آپ پر واجب نہیں ہوا تھا جس کی بعد میں قضا دینی ضروری ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو اپنے خیمے اکھاڑ دینے کا حکم دیا، اس کی تفصیل ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔
یعنی اس حدیث میں دلیل ہے کہ بغیر روزہ کے بھی اعتکاف درست ہے اس لیے کہ آپ نے اول عشرہ شوال میں اعتکاف کیا۔
جس میں یوم الفطربھی داخل ہے۔
جس میں روزہ رکھنا منع ہے۔
حافظ ؒفرماتے ہیں: إن المرأة لا تعتکف حتی تستأذن زوجها و إنها إذا اعتکفت بغیر إذنه کان له أن یخرجها و فیه جواز ضرب الأخبیة في السمجد و إن الأفضل للنساء أن لا یعتکفن في المسجد و فیه إن أول الوقت الذي یدخل فیه المعتکف بعد صلوة الصبح و هو قول الأوزاعي و قال الأئمة الأربعة و طائفة یدخل قبیل غروب الشمس و أولوا الحدیث علی أنه دخل من أول اللیل و لکن إنما تخلی بنفسه في المکان الذي أعدہ لنفسه بعد صلاة الصبح الخ۔
یعنی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اعتکاف نہ کرے اور بغیر اجازت اعتکاف کی صورت خاوند کو حق ہے کہ وہ عورت کا اعتکاف ختم کرادے۔
اور اعتکاف کے لیے مساجد میں خیمہ لگانا درست ہے اور عورتوں کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ مساجد میں اعتکاف نہ کریں اور معتکف کے لیے اپنی جگہ میں داخل ہونے کا وقت نماز فجر کے بعد کا وقت ہے۔
یہ اوزاعی کا قول ہے لیکن ائمہ اربعہ اور ایک جماعت علماءکا قول یہ ہے کہ سورج غروب ہونے سے قبل اپنے مقام میں داخل ہو اور حدیث مذکورہ کا مطلب انہوں نے یوں بیان کیا کہ آپ اول را ت ہی میں داخل ہو گئے تھے مگر جو جگہ آپ نے اعتکاف کے لیے مخصوص فرمائی تھی اس میں فجر کے بعد داخل ہوئے۔
(1)
امام بخاری ؓ نے اس حدیث سے عورتوں کے لیے اعتکاف کی مشروعیت کو ثابت کیا ہے، نیز انہوں نے ثابت کیا ہے کہ عورتوں کے لیے اعتکاف کا اہتمام بھی مسجد میں ہونا چاہیے کیونکہ اگر گھر میں اعتکاف جائز ہوتا تو آپ انہیں اپنے اپنے گھروں میں اعتکاف کرنے کا حکم دے دیتے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس رمضان اعتکاف کا پروگرام ہی ختم کر دیا حتی کہ شوال میں اس کی قضا دی اور دس دنوں کا اعتکاف کیا۔
(2)
عورتوں کے لیے مسجد میں اعتکاف کرنے کی مندرجہ ذیل شرائط ہیں: ٭ عورتوں کے لیے مردوں سے بایں طور الگ انتظام ہو کہ مردوں کے ساتھ اختلاط کا قطعاً کوئی امکان باقی نہ رہے کیونکہ اختلاط مرد و زن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے پسند نہیں کیا۔
٭ خاوند یا سرپرست سے اعتکاف بیٹھنے کی اجازت حاصل کی جائے بصورت دیگر اعتکاف صحیح نہیں ہو گا بلکہ بلا اجازت اعتکاف سے ثواب کے بجائے گناہ کا اندیشہ ہے۔
٭ بحالت اعتکاف مخصوص ایام کے آ جانے کا بھی اندیشہ نہ ہو۔
ہر عورت کو اپنی عادت کا علم ہوتا ہے، اسے اس بات کا بطور خاص خیال رکھنا ہو گا۔
٭ کسی قسم کے فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو۔
بصورت دیگر وہ اپنے گھر میں عبادت کرنے کا اہتمام کرے لیکن گھر میں عبادت کرنا شرعی اعتکاف نہیں۔
٭ خورد و نوش اور دیگر لوازمات زندگی کا باقاعدہ انتظام ہوتا کہ باہر جانے کی ضرورت نہ پڑے۔
مرد حضرات تو بوقت ضرورت مسجد سے باہر جا سکتے ہیں لیکن عورتوں کے لیے ایسی اجازت فتنے کا باعث ہے۔
٭ جو عورتیں اعتکاف کریں انہیں تفریح طبع کے سامان سے اجتناب کرنا ہو گا، اسی طرح اپنے ہمراہ موبائل رکھنا جس سے گھر والوں سے ہر وقت رابطہ رہے، اعتکاف کے منافی ہے۔
(3)
بعض حضرات اس حدیث سے عورتوں کے لیے سنت اعتکاف غیر مشروع ہونے کا مسئلہ کشید کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اعتکاف سے منع کر دیا تھا، حالانکہ منع کرنے کی درج ذیل وجوہات تھیں: ٭ آپ کو خدشہ لاحق ہوا کہ یہ سوکنوں کی باہمی غیرت کی وجہ سے ایسا کر رہی ہیں۔
اس طرح ریاکاری سے مقصد اعتکاف ختم ہونے کا اندیشہ تھا۔
٭ اعتکاف میں تنہائی مقصود ہوتی ہے، جب ازواج مطہرات نے وہاں خیمے گاڑ لیے تو گھر والی صورت حال ہو گئی، اس لیے آپ نے انہیں منع کر دیا۔
یہ خدشہ لاحق ہوا کہ ان کی دیکھا دیکھی باقی ازواج مطہرات بھی مسجد میں اپنے اپنے خیمے نصب کر لیں گی جس سے جگہ تنگ ہو جائے گی اور نمازیوں کو تکلیف ہو گی، اس لیے انہیں منع فرما دیا۔
(فتح الباري: 351/4)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ۱؎، پھر آپ صلی اللہ ع۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2464]
(1) اعتکاف کے لیے حجرہ بنانا اس لیے مستحب ہے کہ معتکف اس جگہ میں دیگر لوگوں سے علیحدہ ہو کر نوافل، تلاوت قرآن کریم اور اذکار وغیرہ میں مشغول رہے۔
یہ لوگوں کے ساتھ بلا ضرورت اختلاط کرے، نہ دوسرے ہی اس کو مشغول کریں۔
(2) خواتین کو بھی مساجد میں اعتکاف کرنا چاہیے۔
گھروں میں اعتکاف کرنا خیرالقرون سے ثابت نہیں۔
گھر میں مقام عبادت کو اصطلاحا مسجد نہیں کہا جا سکتا اور نہ اس پر معروف مسجد والے احکام ہی منطبق ہوتے ہیں۔
(3) اعمال میں خیر میں بنیادی طور پر اخلاص اور اللہ تعالیٰ ہی کی رضا مقصود ہونی چاہیے۔
ازواج مطہرات کے مذکورہ بالا عمل میں رشک کا پہلو غالب تھا جو اگرچہ عام افراد امت کے لیے تو محمود ہے، مگر ازواج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ان سے بالا تر ہے۔
اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا اور یہی معنی ہین اس معروف قول کے کہ (حسنات الأبرار سيئات المقربين) یعنی عام صالحین کے عام صالح اعمال بعض اوقات مقرب لوگوں کے حق میں ریب اور تقصیر شمار کیے جاتے ہیں۔
(4) شوہر اگر راضی نہ ہو تو عورت کو اپنا اعتکاف ختم کر دینا چاہیے۔
(5) فوت شدہ یا توڑے گئے اعتکاف کی قضا دینا مستحب ہے، واجب نہیں۔
جیسے کہ ازواج مطہرات کے متعلق اس قسم کا کوئی بیان نہیں ہے کہ ان سے اس اعتکاف کی قضا کروائی گئی۔
(6) غیر رمضان میں اعتکاف کے دوران میں روزہ شرط نہیں ہے۔
(7) اعتکاف کا آغاز کب سے کرنا ہے؟ احادیث میں اس کی صراحت نہیں ہے۔
اس حدیث میں صرف یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر حجرہ اعتکاف میں داخل ہوتے۔
دوسری روایات میں ہے کہ آپ رمضان کا آخری عشرہ اعتکاف فرماتے تھے۔
اس اعتبار سے اکثر علماء یہ کہتے ہین کہ معتکف 20 رمضان کو مغرب سے پہلے پہلے مسجد میں آ جائے، رات مسجد میں گزارے اور فجر کی نماز پڑھ کر حجرہ اعتکاف میں داخل ہو جائے۔
اس طرح کرنے سے اس کا رمضان کا آخری عشرہ اعتکاف کے ساتھ گزرے گا اور مذکورہ دونوں رواتیوں پر عمل ہو جائے گا۔
اس کے برعکس بعض لوگ کہتے ہیں کہ بیسیوں رمضان کو فجر کی نماز کے بعد اعتکاف کا آغاذ کیا جائے، کیونکہ حدیث میں آپ کے نمازِ فجر کے بعد حجرہ اعتکاف میں داخل ہونے کی صراحت ہے۔
لیکن اس طرح 30 رمضان ہونے کی صورت میں اعتکاف کے 11 دن بن جاتے ہیں جسے عشرہ قرار نہیں دیا جا سکتا، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل عشرہ اخیر کا اعتکاف کا منقول ہے اس لیے پہلے رائے ہی راجح اور صحیح ہے۔
واللہ اعلم.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر پڑھتے، پھر آپ اس جگہ میں داخل ہو جاتے جہاں آپ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے، چنانچہ آپ نے ایک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، تو آپ نے (خیمہ لگانے کا) حکم دیا تو آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، پھر جب ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیمے دیکھے تو فرمایا: ” کیا تم لوگ اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ “ ۱؎، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سال) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا (اور اس کے بدلے) شوال میں دس دنوں کا اعتکاف کیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 710]
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ایک سے زائد تھیں اور بتقاضائے بشریت سوکنویں میں چپقلش ہوتی ہے، اسی چپقلش کے نتیجے میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے خیمہ لگوایا کہ میں اس سعادت سے پیچھے کیوں رہوں؟ اللہ! اللہ! نیک لوگوں کی چشمک بھی نیکی کے اضافے کے لیے ہوتی ہے، مگر آپ نے اس چشمک کو برداشت نہ کیا، اس لیے آپ نے خود بھی اعتکاف کا ارادہ موقوف فرما دیا۔
➌ اگر کوئی اعتکاف کا ارادہ و نیت کر لے مگر کوئی رکا وٹ پیش آ جائے تو مناسب ہے کہ قضا دے، خواہ رمضان المبارک کے بعد ہی ہو۔
➍ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے اٹھوانے کی اصل وجہ امہات المؤمنین کی آپس کی چشمک اور منافست تھی جس کا حدیث سے اشارہ ملتا ہے۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ حکم عورتوں کے مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کی وجہ سے تھا، بالخصوص جبکہ مردوں سے اختلاط کا بھی اندیشہ ہو اگرچہ وہاں خاوند بھی معتکف ہو۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اگر عدم جواز کی بات ہوتی تو انہیں آغاز ہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم روک دیتے اور آخر میں یہ نہ فرماتے …… کیا یہ نیکی کا ارادہ رکھتی ہیں……؟
➎ احناف میں عورتوں کے گھروں میں اعتکاف بیٹھنے کا رواج ہے، لیکن یہ بلادلیل ہے۔ قرآن و حدیث کی رو سے اعتکاف صرف مسجد ہی میں ہو سکتا ہے۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا عمل بھی اسی کا مؤید ہے، اس لیے عورت مسجد ہی میں اعتکاف بیٹھے، گھر میں نہیں، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنے کا خدشہ نہ ہو۔ آج کل بعض بڑی مرکزی مسجدوں میں عورتوں کے لیے ایسا محفوظ انتظام کر دیا گیا ہے کہ وہاں مردوں سے اختلاط بھی نہیں ہوتا اور ان کی عزت و عصمت کو بھی خطرہ نہیں ہوتا، اس لیے ایسی جگہوں پر اس کی گنجائش ہے۔ واللہ أعلم۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو نماز فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا گیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے (بھی) ایک خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کا خیمہ دیکھا تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ لگایا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1771]
فوائد و مسائل:
(1)
اعتکاف کے لئے مسجد میں ایک جگہ پردہ کر کے اس میں اعتکاف کرنا مسنون ہے
(2)
اعتکاف مسجد میں ہوتا ہے۔
(3)
عورتیں بھی اعتکاف کر سکتی ہیں لیکن ان کے لئے بھی جائے اعتکا ف مسجد ہی ہے تا ہم مسجد ایسی ہو جہا ں عورتو ں کے لئے مردوں سے الگ ہر چیز کا معقول انتظام ہو تاکہ مردوں کے ساتھ کسی مرحلے میں ان کا اختلاط نہ ہو۔
(4)
عورتوں میں ایک دوسری کی ریس کرنے کی عادت ہوتی ہے خاص طور پر سوکنیں ایک دوسری سے رشک رکھتی ہیں اگر اس سے کوئی مسئلہ پیدا ہو جا ئےتو اسے حکمت سے حل کر لینا چاہیئے
(5)
اعتکا ف کا پختہ ارادہ کر کے مسجد میں جگہ بنالی گئی ہو پھر کوئی عذر پیش آ جا ئے تو اعتکا ف چھوڑا جا سکتا ہے
(6)
رمضان کے اعتکاف کی قضا کسی دوسرے مہینے میں بھی دی جا سکتی ہے۔
انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اعتکاف کرتیں۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 571]
«صَلَّي الْفَجَرْ» صبح کی نماز پڑھتے، اکیس رمضان کی نماز فجر مراد ہے۔
«ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَكَفَهُ» اسم ظرف کا صیغہ ہے، یعنی اپنے اعتکاف کی جگہ۔ نماز فجر کے بعد آپ اس جگہ میں سب سے منقطع ہو کر علیحدگی اختیار کر لیتے، یہ مطلب نہیں کہ یہ وقت اعتکاف کی ابتداء کا ہے بلکہ اعتکاف کے لیے تو آپ اکیس کی نماز مغرب ہی مسجد میں پڑھتے اور اعتکاف کی نیت سے مسجد ہی میں رات گزارتے، جب صبح کی نماز پڑھتے تو اعتکاف کی مخصوص جگہ میں تشریف لے جاتے جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے اس کی تصریح کی ہے۔ اس حدیث کی یہ تاویل اس لیے ضروری ہے کہ اس حدیث اور بعد والی احادیث میں تطبیق دی جا سکے جس میں یہ وضاحت ہے کہ آپ رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کرتے تھے۔ ٭
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بیوی اعتکاف بیٹھنے سے پہلے اپنے خاوند سے اجازت لے گی اگر اجازت مل جائے تو بیٹھے گی ورنہ نہیں بیٹھے گی۔ دکھاوے کی غرض سے اعتکاف کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ ریاکاری گناہ بن جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم غیب نہیں جانتے تھے، اس لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ خیمے کن کے ہیں؟ خواتین بھی اعتکاف مسجد میں ہی کریں گی۔ اگر کسی وجہ سے رمضان میں اعتکاف نہ ہو سکے تو سال کے کسی بھی عشرے میں اعتکاف کرنا درست ہے۔ اس حدیث سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ثابت ہوا کہ نیت کر لینے سے اعتکاف واجب نہیں ہوتا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وفيه أن الاعتكاف لا يجب بالنية“ ”اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ نیت کر لینے سے اعتکاف واجب نہیں ہوتا“۔ (فتح الباری: 349/4) نبیت کا تعلق دل سے ہے نہ کہ زبان سے۔