صحيح البخاري
كتاب فضل ليلة القدر— کتاب: لیلۃ القدر کا بیان
بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ: باب: شب قدر کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْنَاهُ وَإِنَّمَا حَفِظَ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ، تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم نے اس روایت کو یاد کیا تھا اور یہ روایت انہوں نے زہری سے ( سن کر ) یاد کی تھی ۔ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب ( حصول اجر و ثواب کی نیت ) کے ساتھ رکھے ، اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔ اور جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے اس کے بھی اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ، سفیان کے ساتھ سلیمان بن کثیر نے بھی اس حدیث کو زہری سے روایت کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
شب قدر میں قیام سے مراد عبادت کرنا ہے، جس میں تراویح پڑھنا بھی شامل ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے شب قدر کی قدرومنزلت کو ثابت کیا ہے کہ اس رات عبادت کرنے والا انسان اللہ کے ہاں قدرومنزلت والا ہو جاتا ہے اور اس کے جملہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
(3)
قبل ازیں امام بخاری نے اس رات کا قیام کرنے کو ’’ایمان کا حصہ‘‘ قرار دیا تھا۔
(صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 35)
سلیمان بن کثیر کی متابعت کو امام ذہلی نے اپنی تالیف "زہریات" میں متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 324/4)
1۔
کفرو نفاق کی اقسام ذکر کرنے کے بعد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اصل کی طرف رجوع فرماتے ہیں یعنی ایمان اور اس کے متعلقات کو پھر شروع کیا تاکہ مرجیہ کرامیہ اور خوارج وغیرہ کے عقائد و خیالات کا بطلان پورے طور پر ثابت ہو جائے اس سے پہلے ایسے اعمال کا ذکر تھا جن سے نفاق کا اندازہ ہوتا ہے اب ایسی علامتوں کو بیان کیا جاتا ہے جن سے ایمان اور اخلاص کا پتہ چلتا ہے نیز لیلۃ القدر کا معاملہ بڑی محنت وکاوش کا ہے۔
یہ کام وہی کر سکتا ہے جس کے دل میں اخلاص اور جسے دین سے بے پناہ تعلق اور لگاؤ ہو۔
اس باب سے بھی ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جو اعمال کو ایمان سے بالکل بے تعلق بتاتے ہیں، حالانکہ ایمان کی حفاظت کے لیے اعمال کی قدم قدم پر ضرورت پڑتی ہے۔
حتی کہ شب قدر کے قیام کی تاکید کی جا رہی ہے۔
2۔
اس حدیث میں ایمان واحتساب کے الفاظ بطور خاص ذکر کیے گئے ہیں۔
لفظ ایمان میں تنبیہ ہے کہ اس رات کا قیام ایمانی تقاضے کے تحت ہونا چاہیے کوئی دوسرا مقصد پیش نظر نہ ہو۔
اس قسم کے ایمانی تقاضوں سے ایمان میں ترقی ہوگی اور جس ایمان میں اس قسم کے تقاضے شامل نہیں ہوں گے، وہ ایمان کمزور ہوگا۔
اسی طرح لفظ احتساب جس کے معنی نیت کا استحضار ہیں یہ اصل نیت سے زائد شئے ہے۔
عمل کے وقت استحضار نیت اجر میں ترقی کا باعث ہے۔
مثلا: ایک شخص بیدار ہے اور عمل خیر میں مشغول ہے تو یقیناً یہ بڑی سعادت ہے لیکن اگر شب بیداری کے ساتھ نیت کا استحضار بھی ہو جائے تو درجات ثواب میں بہت زیادتی ہوجاتی ہے۔
3۔
لیلۃ القدرکی وجہ تسمیہ کے متعلق مندرجہ ذیل اقوال ہیں۔
(1)
قدر کے معنی عزت و شرف کے ہیں یعنی عزت کی رات یہ عزت رات سے بھی متعلق ہوسکتی ہے یعنی جو رات دیگر تمام راتوں میں خاص امتیاز اور وزن رکھتی ہے۔
اور عابدین سے بھی یہ عزت متعلق ہو سکتی ہے یعنی وہ رات جس میں عبادت کرنے والوں کی بڑی قدر و منزلت ہے نیز یہ عزت عبادت سے بھی متعلق ہو سکتی ہے یعنی اس رات میں کی گئی عبادت دوسری راتوں کے مقابلے میں بڑی قدرومنزلت کی حامل ہے۔
(2)
قدر کا لفظ تقدیر سے ہے تو اس سے مراد وہ رات ہے جس میں فرشتوں کو اس سال سے متعلق تقدیرات کا علم دیا جاتا ہے۔
اس میں سال بھر کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں اس لیے اسے لیلة الحکم بھی کہتے ہیں۔
(3)
قدر کے معنی تنگی کے بھی ہیں یعنی اس رات اتنی کثرت سے فرشتے زمین پر اترتے ہیں کہ زمین ان کی وجہ سے تنگ ہو جاتی ہے اس رات کی تعیین میں خاصا اختلاف ہے تاہم احادیث و آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔
اس کو مبہم رکھنے میں یہ حکمت ہے کہ لوگ طاق راتوں میں اس کی فضیلت حاصل کرنے کے شوق میں اللہ کی خوب عبادت کریں۔
1۔
صوم رمضان فرض ہے اور قیام رمضان نفل اس کے باوجود امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے تطوع قیام رمضان کے باب کو مقدم کیا ہے اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔
(1)
رمضان کے اعمال میں پہلا عمل قیام رمضان ہے جو چاند دیکھتے ہی شروع ہوجاتا ہے روزہ بعد میں رکھا جاتا ہے (2)
قیام رمضان صیام رمضان کی تمہید ہے اور تمہید ہمیشہ اصل سے پہلے ذکر کی جاتی ہے۔
(3)
اس میں اشارہ ہے کہ فرائض کی ادائیگی سنت کے راستے سے ہونی چاہیے یہی قبولیت کا راستہ ہے۔
قیام رمضان فعلی عبادت ہے اور ہمیشہ فعلی عبادات کو مقدم کیا جاتا ہے جبکہ صیام رمضان میں کچھ چیزوں کو چھوڑنا ہوتا ہے اس لیے روزہ فعلی عبادت نہیں ہے۔
2۔
امام صاحب نے تطوع قیام رمضان کے ساتھ عنوان قائم کرتے وقت احتساب کی قید ذکر نہیں کی کیونکہ یہ عمل ہی استحضار نیت کے لیے کافی ہے لیکن صوم رمضان میں ایسی کوئی صورت نہ تھی جو تذکیر کاکام دیتی اس لیے آپ نے عنوان ہی میں احتساب کا اضافہ کردیا اگرچہ حدیث میں دونوں کے لیے احتساب کی شرط مذکورہے۔
3۔
ایمان اور احتساب لازم و ملزوم نہیں کہ ایک کا ذکر دوسرے کے لیے کافی ہو کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ عمل تو ایمان کا ہے مگر فاعل کی نیت میں اخلاص نہیں ہوتا۔
اسی طرح ایک عمل بڑے اخلاص سے ادا کیا جاتا ہے مگر یہ ایمان کے پیش نظر نہیں بلکہ عامل کااپنا طبعی رجحان ہوتا ہے۔
4۔
احتساب کے معنی اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھنا ہیں۔
عبادت کی قبولیت کے لیے احتساب کا ہونا ضروری ہے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان میں احتساب کا اضافہ فرما کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ایسی اشیاء ایمان میں اس وقت شمار ہوں گی جب مع الاحتساب ہوں اس کے بغیر ان کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
5۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اعمال صالحہ ایمان میں داخل ہیں۔
ان سے ایمان کی نشوونما ہوتی ہے اور ان میں کمی بیشی سے ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
«. . . أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 37]
ترجمہ باب کا مقصد قیام رمضان کو بھی ایمان کا ایک جزو ثابت کرنا اور مرجیہ کی تردید کرنا ہے جو اعمال صالحہ کو ایمان سے جدا قرار دیتے ہیں۔ قیام رمضان سے تراویح کی نماز مراد ہے۔ جس میں آٹھ رکعات تراویح اور تین وتر ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں تراویح کی آٹھ رکعات کو باجماعت ادا کرنے کا طریقہ رائج فرمایا تھا۔ [مؤطا امام مالك]
آج کل جو لوگ آٹھ رکعت تراویح کو ناجائز اور بدعت قرار دے رہے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ اللہ ان کو نیک سمجھ بخشے۔ آمین
1۔
گناہوں کی معافی میں حقوق العباد شامل نہیں ہیں کیونکہ اس بات پر امت کا اتفاق ہے کہ حقوق العباد حقداروں کی رضا مندی ہی سے ساقط ہو سکتے ہیں۔
قیامت کے دن حق داروں کی برائیاں لے کر اور اپنی نیکیاں دے کر ان کی تلافی ممکن ہے الایہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے ثواب دے کر راضی کردے۔
2۔
غفران ذنوب اس طرح کے اعمال کا خاصہ ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی مانع موجود نہ ہو۔
اگر کوئی مانع پایا گیا تو یہ اعمال اپنا خاصہ نہیں دکھا سکیں گے۔
جب بہت سے اعمال خیر اس خاصے میں شریک ہوں تو مغفرت کسی ایک عمل سے حاصل ہو جائے گی۔
باقی اعمال کا کیا فائدہ ہوگا؟ مغفرت ذنوب کے لیے بقائے ذنوب ضروری ہے جب ذنوب ختم ہو گئے تو مغفرت کیسی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مغفرت کے کئی ایک درجات ہیں: جب ذنوب نہیں ہوں گے۔
تو یہ مغفرت ترقی درجات اور قرب منزلت کا باعث بن جائے گی۔
نیز اس کا یہ فائدہ بھی ہے کہ ایسے اعمال کی طرف خاص رغبت پیدا ہوگی اور ان کے اضداد سے بچنے کا اہتمام ہوگا۔
(شرح الکرماني: 158/1)
3۔
قیام رمضان سے مراد نماز تراویح ہے۔
وتر سمیت اس کی مقدار گیارہ رکعات ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تراویح کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: آپ رمضان یا غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زائد نہیں پڑھا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، صلاة التراویح، حدیث: 2013)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنے عہد خلافت میں تراویح کی آٹھ رکعات کو باجماعت ادا کرنے کا اہتمام فرمایا تھا۔
(الموطا للإمام مالك 120/1۔
حدیث، 256 طبع دارالمعرفة)
۔
4۔
شب قدر کے باب میں حدیث کے الفاظ مضارع کے صیغے سے تھے اور قیام رمضان و صوم رمضان میں بصیغہ ماضی ہیں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ شب قدر کا پانا یقینی نہیں ہے بنا بریں صیغہ مضارع استعمال ہوا ہے اور قیام رمضان و صیام رمضان یقینی ہیں، اس لیے ان کے مناسب، ماضی کا صیغہ ہے۔
(1)
اس حدیث سے قیام رمضان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ ایسا کرنے سے انسان کے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے نسائی کے حوالے سے لکھا ہے: بعض روایات میں گزشتہ گناہوں کے ساتھ آئندہ گناہوں کی معافی کا بھی ذکر ہے، (سنن الکبرٰی للبیھقي: 88/2، حدیث: 2512)
پھر اس پر اشکال وارد کیا ہے کہ معافی کے لیے گناہوں کا وجود ضروری ہے۔
جب گناہ نہیں ہیں تو معافی کس چیز کی ہے؟ پھر اپنی طرف سے جواب دیا ہے: اللہ تعالیٰ انہیں گناہوں سے محفوظ رکھے گا جیسا کہ اہل بدر کے متعلق فرمایا: ’’آج کے بعد تم جو عمل بھی کرو گے میری طرف سے معافی کا اعلان ہے۔
‘‘ اس کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آئندہ جو گناہ ہوں گے وہ اللہ کے ہاں معاف شدہ ہیں۔
(فتح الباري: 319/4) (3)
حدیث کے آخر میں ابن شہاب کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں نماز تراویح کی جماعت کا باقاعدہ اہتمام نہیں تھا، حضرت عمر ؓ نے اسے جاری فرمایا جس کی تفصیل آئندہ بیان ہو گی۔
(4)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مسجد میں تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے ایک کونے میں اکٹھے نماز پڑھ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ جواب دیا گیا کہ انہیں حضرت ابی بن کعب ؓ باجماعت نماز تراویح پڑھا رہے ہیں تو آپ نے ان کی تصویب فرمائی اور اس اقدام کو مستحسن قرار دیا لیکن یہ روایت مسلم بن خالد کی وجہ سے قابل حجت نہیں۔
صحیح موقف یہی ہے کہ باقاعدہ نماز تراویح کے لیے جماعت کا اہتمام حضرت عمر ؓ نے اپنے دور خلافت میں کیا۔
(فتح الباري: 319/4)
اس حدیث میں من صام الخ کے ذیل میں استاذ الکل حضرت شاہ ولی اللہ محدث مرحوم فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کے روزے رکھنے میں قوت ملکی کے غالب ہونے اور قوت بہیمی کے مغلوب ہونے کے لیے یہ مقدار کافی ہے کہ اس کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں۔
(1)
امام بخاری ؒ نے عنوان میں تین الفاظ ذکر فرمائے ہیں: ایمان، احتساب اور نیت، اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں اللہ سے اچھا بدلہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ دنیا میں ایمان و یقین کے ساتھ نیک عمل کیا جائے، نیز نیت بھی حصول ثواب کی ہو۔
اگر ایمان و یقین کے ساتھ کھانے پینے سے پرہیز کیا لیکن مقصد حصول ثواب نہ تھا بلکہ کسی ڈاکٹر وغیرہ کے کہنے پر پرہیز کیا تو اس کے لیے قیامت کے دن اچھے بدلے کی امید نہیں کی جا سکتی۔
دراصل اعمال میں نیت کا کردار ہوتا ہے، اگر نیت میں اخلاص ہوا تو اللہ کے ہاں اجروثواب کی امید کی جا سکتی ہے۔
کافر دوزخ میں ہمیشہ اس لیے رہے گا کہ اس کی نیت یہ تھی کہ اگر وہ زندہ رہا تو کفر کرتا رہے گا، اس نیت بد کی وجہ سے اسے ہمیشہ جہنم میں رکھا جائے گا۔
(2)
احتساب کے متعلق علامہ خطابی نے لکھا ہے کہ اس سے مراد حصول ثواب کی نیت ہے، یعنی وہ رمضان کا روزہ اس ارادے سے رکھے کہ اسے ثواب حاصل ہو گا۔
اسے بوجھ خیال نہ کرے اور نہ ان کے دنوں کی لمبائی کا خیال ہی ذہن میں لائے بلکہ خوش دلی سے اس فریضے کو ادا کرے۔
(فتح الباري: 149/4) (3)
واضح رہے کہ اس حدیث میں "ما" ہے جس سے مراد گناہ ہیں وہ جو بھی ہوں، خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ۔
حدیث میں وارد الفاظ کا بھی یہی تقاضا ہے۔
واللہ أعلم
عَزِیْمَةٌ: تاکیدی اور لازمی حکم کو کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ابتدائی دور تک تراویح کی ترغیب وشوق دلایا جاتا تھا۔
تمام نمازیوں کے لیے ایک امام کے پیچھے جماعت کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا۔
2۔
اِیْمَانٌ وَّاِحْتِسَاب: یہ دونوں دینی اصطلاحیں ہیں جن سے ہمارے اعمال کا تعلق اور ربط ہمارے خالق ومالک کے ساتھ قائم ہوتا ہے اور یہی ایمان واحتساب ہی ہمارے اعمال کے لیے قلب وروح ہیں، جن سے ہمارے اعمال میں وزن او ر جان پیدا ہوتی ہے اور کسی قدروقیمت کے حامل ٹھہرتے ہیں اگر یہ نہ ہوں تو پھر بڑے بڑے اعمال بھی بے وزن اور کھوکھلے ہیں اور قیامت کے دن کسی قدرومنزلت کے حامل نہیں ہوں گے۔
محض کھوٹے سکے ہوں گے اور ایمان واحتساب کے ساتھ بندے کاعمل اللہ کے ہاں اتنا عزیز اور قیمتی ٹھہرتا ہے کہ اس کے سبب اس کے سالہا سال کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔
ایمان کا یہ معنی ہے کہ اس کے عمل کی بنیاد اور اس کا محرک وداعی اللہ ورسول کو ماننا اور ان کے وعدہ وعید پر یقین رکھنا ہے یعنی عمل ایمان کا تقاضا اور مطالبہ سمجھ کر کرنا ہے اس کے پس منظر میں اور کوئی خواہش اور جذبہ نہیں ہے اور احتساب کا مقصد یہ ہے کہ عمل کا سبب اور باعث اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے اجر وثواب کی طمع اور امید ہے کوئی دوسرا جذبہ اور مقصد اس کا محرک نہیں ہے اور عمل کے وقت اس نیت کا استحضار ہے یعنی عمل کرتے وقت اجروثواب کی یہ نیت کی جائے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے قیام (تہجد پڑھنے) کی ترغیب دلاتے، بغیر اس کے کہ انہیں تاکیدی حکم دیں اور فرماتے: ” جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے “، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور معاملہ اسی پر قائم رہا، پھر ابوبکر رضی الله عنہ کے عہد خلافت میں اور عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ اسی پر رہا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 808]
1؎:
یعنی نبی اکرم ﷺ کے عہد میں اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عہد فاروقی کے ابتدائی سالوں میں بغیر عزیمت و تاکید کے اکیلے اکیلے ہی تراویح پڑھنے کا معاملہ رہا، پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں باضابطہ گیارہ رکعت تراویح با جماعت کا نظم قائم کر دیا۔
اس ضمن میں مؤطا امام میں صحیح حدیث موجود ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے بھی سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 683]
1؎:
اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر تاکیدی حکم دئیے رمضان کے قیام کی ترغیب دلاتے، پھر فرماتے: ” جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے “، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ اسی طرح رہا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع تک یہی معاملہ رہا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح عقیل، یونس اور ابواویس نے «من قام رمضان» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل کی روایت میں «من صام رمضان وقامه» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1371]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے (رات کا) قیام کرے گا، تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1604]
➋ ’’ثواب کی نیت سے “ یعنی نیت ثواب حاصل کرنے کی ہو، ریاکاری، حصول تعریف یادنیوی مقصد (مثلاً صحت وغیرہ) پیش نظر نہ ہو۔ گویا ایمان روزے کی بنیاد ہو اور ثواب مقصد۔
➌ ’’پہلے سب گناہ“ اس میں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت و شفقت کا اظہار ہے۔ وہ معاف کرنے پر آئے تو صرف راستے سے ٹہنی ہٹانے والے اور کتے کو پانی پلانے والی بدکار عورت کو بھی معاف فرما دے۔ واللہ غفور رحیم۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے نماز تہجد پڑھی تو اس کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا، اس کے بھی گزرے ہوئے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5030]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے رمضان کے مہینے میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے تراویح پڑھی تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5029]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص رمضان کے مہینے میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے تراویح پڑھے تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5028]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اور (اس کی راتوں میں) قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1326]
فوائد ومسائل: (1)
ہر عمل کے لئے خلوص نیت بہت ضروری ہے۔
روزے اور قیام کا ثواب بھی تب ہی مل سکتا ہے۔
جب یہ عمل محض اللہ کی رضا کے حصول کےلئے ہو۔
ریاکاری کے طور پرنہ ہو۔
(2)
گزشتہ گناہوں کی معافی سے عام طور پر صغیرہ گناہوں کی معافی مراد لی گئی ہے۔
لیکن بعض اوقات کسی بڑی نیکی کی وجہ سے کبیرہ گناہ معاف ہوسکتا ہے۔
روزہ اور قیام جس قدر خلوص نیت کا حامل اور سنت کے مطابق ہوگا۔
اتنا ہی زیادہ گناہوں کی معافی کا باعث ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1641]
فائدہ: اس سے مراد وہ صغیرہ گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔
کبیرہ گناہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔
اور حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوتےجب تک انھیں ادا نہ کردیا جائے۔
الا یہ کہ صاحب حق معاف کردے۔
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رمضان (کے مہینے) میں ایمان کی حالت اور ثواب کی نیت سے قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 157]
[وأخرجه البخاري 2009، ومسلم 759/173، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ یہاں قیام سے مراد قیام رمضان (تراویح، تہجد) ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام رمضان کے بارے میں فرمایا: «إنه مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ»
”بے شک جو امام کے ساتھ نماز ختم ہونے تک قیام کرتا ہے تو اسے ساری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے۔“ [سنن الترمذي:806 و إسناد صحيح و صححه ابن خزيمه:2206 وابن حبان، الموارد:919 وابن الجارود: 403 وقال الترمذي هذا حديث حسن صحيح]
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائیں۔ [موطأ امام مالك رواية يحييٰ 115/1 ح 249 وسنده صحيح، وقال النيموي فى آثار سن 775 ”وإسناد صحيح“ واحتج به الطحاوي فى معاني الآثار 293/1]
➌ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «كنا نقوم فى زمان عمر بن الخطاب بإحدىٰ عشرة ركعة ..»
”ہم عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) کے زمانے میں گیارہ رکعات کا قیام کرتے تھے۔“ [سنن سعيد بن منصور حواله الحاوي للفتاوي 349/1 وسنده صحيح]
● اس کے مقابلے میں خالد بن مخلد معرفة السنن والآثار [305/2 ح 1365] والی روایت شاذ (ضعیف) ہے۔
➍ طحطاوی حنفی لکھتے ہیں: «لأن النبى عليه الصلوة والسلام لم يصلها عشرين بل ثماني»
”کیونکہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس (رکعات) نہیں پڑھیں بلکہ آٹھ پڑھی ہیں۔“ [حاشية الطحطاوي على الدرالمختار 295/1]
➎ ابوبکر بن العربی المالکی (متوفی 543ھ) نے کہا: ”اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں (یہی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور قیام ہے اور اس کے علاوہ جو اعداد ہیں، ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔“ [عارضة الاحوذي شرح سنن الترمذي 19/4]
➏ قیام کا اجر و ثواب ایمان اور اخلاص کے ساتھ مشروط ہے۔ نیز دیکھئے میری کتاب ”تعداد رکعات قیام رمضان کا حقیقی جائزه۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کرتا ہے اس کے پہلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ “ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 568]
«بَابُ الْاعَتِكَافُ» اعتکاف کے لغوی معنی روکنے، بند کرنے، ٹھہرنے اور لازم رہنے کے ہیں۔ اور شرعی مفہوم یہ کہ مسجد میں ایک خاص کیفیت سے اپنے آپ کو روکنا۔ اور قیام رمضان سے مراد رات کو نماز یا قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ عبادت میں مصروف رہنا ہے۔ اور اس کا غالب استعمال نماز تراویح پر ہوتا ہے۔
«اِيْمَاناً» مفعول لہ ہونے کی بنا پر منصوب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب کے وعدے پر یقین رکھتے ہوئے۔ اور یہ بھی مفہوم ہو سکتا ہے کہ اپنے ایمان کی وجہ سے قیام کرتا ہے، یعنی اس کا ایمان ہی اسے قیام رمضان پر آمادہ کرتا ہے جس میں اخلاص نیت کی طرف اشارہ اور ریا و نمائش سے اجتناب مقصود ہے۔
«اِحْتِسَابًا» یعنی اللہ تعالیٰ سے ثواب اور اس کی رضا کی نیت سے قیام کرتا ہے۔
فوائد و مسائل: ➊ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کی راتوں کا قیام کس قدر عظیم اجر و ثواب کا باعث ہے۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں عموماً آٹھ رکعت اور تین وتر پڑھتے اور قیام بہت لمبا کرتے تھے بلکہ جن تین راتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تراویح پڑھائی ان میں بھی آپ نے گیارہ رکعات ہی پڑھیں۔ [قيام الليل للمروزي، كتاب قيام رمضان، ص: 155۔ طبع المكتبة الاثرية، سانگله هل]
اس لیے سنت نبوی تو بہر نوع گیارہ رکعت ہی ہے۔ علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ وغیرہ نے بھی اس سے زائد رکعتوں کو سنت نہیں بلکہ نفل قرار دیا ہے۔ [فتح القدير: 334] ٭
اس حدیث میں رمضان المبارک کے روزوں اور لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی ہے، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان اور نیت صالح اعمال کی قبولیت کی شرائط میں سے ہیں۔
اس حدیث سے رمضان کے روزوں کی فرضیت و فضیلت ثابت ہوتی ہے، نیز دیکھیں: 950۔