حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّي ، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا .´ہم کو عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی ، ان کو مالک نے ہشام بن عروہ کی روایت سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے نقل کی ، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی آپ نے فرمایا کہ` ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گزرتی ہے ۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس ( فرشتے ) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے ۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ . . .»
”. . . ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گذرتی ہے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ: 2]
انبیاء علیہم السلام خصوصاً حضرت سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کے مختلف طریقے رہے ہیں۔ انبیاءکے خواب بھی وحی ہوتے ہیں اور ان کے قلوب مجلّیٰ پر جو واردات یا الہامات ہوتے ہیں وہ بھی وحی ہیں۔ کبھی اللہ کا فرستادہ فرشتہ اصل صورت میں ان سے ہم کلام ہوتا ہے اور کبھی بصورت بشر حاضر ہو کر ان کو اللہ کا فرمان سناتا ہے۔ کبھی باری تعالیٰ و تقدس خود براہ راست اپنے رسول سے خطاب فرماتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں وقتاً فوقتاً وحی کی یہ جملہ اقسام پائی گئیں۔ حدیث بالا میں جو گھنٹی کی آواز کی مشابہت کا ذکر آیا ہے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے وحی مراد لے کر آنے والے فرشتے کے پیروں کی آواز مراد بتلائی ہے، بعض حضرات نے اس آواز سے صوت باری کو مراد لیا ہے اور قرآنی آیت «وماكان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا اومن ورآي حجابٍ» الخ [الشوریٰ: 51] کے تحت اسے وراء حجاب والی صورت سے تعبیر کیا ہے، آج کل ٹیلی فون کی ایجاد میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ فون کرنے والا پہلے گھنٹی پر انگلی رکھتا ہے اور وہ آواز جہاں فون کرتا ہے گھنٹی کی شکل میں آواز دیتی ہے۔ یہ تو اللہ پاک کی طرف سے ایک غیبی روحانی فون ہی ہے جو عالم بالا سے اس کے مقبول بندگان انبیاء و رسل کے قلوب مبارکہ پر نزول کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول اس کثرت سے ہوا کہ اسے باران رحمت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ قرآن مجید وہ وحی ہے جسے وحی متلو کہا جاتا ہے، یعنی وہ وحی جو تاقیام دنیا مسلمانوں کی تلاوت میں رہے گی اور وحی غیر متلو آپ کی احادیث قدسیہ ہیں جن کو قرآن مجید میں ”الحکمۃ“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ہر دو قسم کی وحی کی حفاظت اللہ پاک نے اپنے ذمہ لی ہوئی ہے اور اس چودہ سو سال کے عرصہ میں جس طرح قرآن کریم کی خدمت و حفاظت کے لیے حفاظ، قراء، علماء، فضلاء، مفسرین پیدا ہوتے رہے، اسی طرح احادیث نبویہ کی حفاظت کے لیے اللہ پاک نے گروہ محدثین امام بخاری رحمہ اللہ و مسلم رحمہ اللہ وغیرہم جیسوں کو پیدا کیا۔ جنھوں نے علم نبوی کی وہ خدمت کی کہ قیامت تک امت ان کے احسان سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتی۔ حدیث نبوی کہ اگر دین ثریا پر ہو گا تو آل فارس سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو وہاں سے بھی اسے حاصل کر لیں گے، بلاشک و شبہ اس سے بھی یہی محدثین کرام امام بخاری ومسلم وغیرہم مراد ہیں۔ جنہوں نے احادیث نبوی کی طلب میں ہزارہا میل پیدل سفر کیا اور بڑی بڑی تکالیف برداشت کر کے ان کو مدون فرمایا۔
صد افسوس کہ آج اس چودہویں صدی میں کچھ لوگ کھلم کھلا احادیث نبوی کا انکار کرتے اور محدثین کرام پر پھبتیاں اڑاتے ہیں اور کچھ ایسے بھی پیدا ہو چلے ہیں جو بظاہر ان کے احترام کا دم بھرتے ہیں اور در پردہ ان کو غیر ثقہ، محض روایت کنندہ، درایت سے عاری، ناقص الفہم ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہتے ہیں۔ مگر اللہ پاک نے اپنے مقبول بندوں کی خدماتِ جلیلہ کو جو دوام بخشا اور ان کو قبول عام عطا فرمایا وہ ایسی غلط کاوشوں سے زائل نہیں ہو سکتا۔
الغرض وحی کی چارصورتیں ہیں: ➊ اللہ پاک براہ راست اپنے رسول نبی سے خطاب فرمائے۔
➋ کوئی فرشتہ اللہ کا پیغام لے کر آئے۔
➌ یہ کہ قلب پر القاءہو۔
➍ چوتھے یہ کہ سچے خواب دکھائی دیں۔
اصطلاحی طور پر وحی کا لفظ صرف پیغمبروں کے لیے بولا جاتا ہے اور الہام عام ہے جو دوسرے نیک بندوں کو بھی ہوتا رہتا ہے۔ قرآن مجید میں جانوروں کے لیے بھی لفظ الہام کا استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ «واوحي ربك الي النحل» [النحل: 68] میں مذکور ہے۔ وحی کی مزید تفصیل کے لیے حضرت امام حدیث ذیل نقل فرماتے ہیں: [حدیث مبارکہ نمبر 3 دیکھیں]
1۔
اس حدیث سے عظمت وحی کا پتہ چلتا ہے کہ نزول وحی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بدل جاتی، آپ کا چہرہ انور متغیر ہوجاتا، پھر یہ معاملہ ایک دوبار پیش نہیں آیا بلکہ زندگی میں سینکڑوں مرتبہ آپ کو اس کیفیت سے دوچار ہونا پڑا، اس سے جہاں عظمت وحی کا پتہ چلتا ہے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت وعصمت بھی معلوم ہوتی ہے۔
2۔
اس سوال میں کہ وحی کیسے آتی تھی؟ تین چیزیں آتی ہیں۔
(الف)
۔
نفس وحی کی کیفیت۔
(ب)
۔
حامل وحی حضرت جبرئیل کی کیفیت-
(ج)
۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت۔
جواب میں ان تینوں چیزوں کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
3۔
حدیث کے الفاظ: ’’وہ مجھ پر بہت گراں گزرتی ہے‘‘ سے معلوم ہوا کہ وحی الٰہی کلام نفسی کی کوئی صورت نہ تھی کیونکہ کلام نفسی کا حامل دماغی فتور کی وجہ سے’’غیبی باتیں‘‘ کرتا ہے اور اس کو تکلیف ومشقت اور پریشانی اورگھبراہٹ بالکل نہیں ہوتی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غیبی طاقت کے دباؤ اورکلام الٰہی کی گراں باری کی وجہ سے نزول وحی کے وقت پسینے سے شرابور ہوجاتے اور گھبراہٹ میں اضافہ ہوجاتا۔
4۔
اس حدیث میں وحی کی ان دوصورتوں کو بیان کیا گیا ہے جو عام طور پر آپ کو پیش آتی تھیں۔
ان کے علاوہ کبھی خواب کی صورت میں اور کبھی بذریعہ الہام و القاء بھی وحی آتی اور بسا اوقات حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنے اصل روپ میں وحی لے کر تشریف لاتے۔
اور کبھی اللہ تعالیٰ کے پس پردہ بذات خود کلام فرمانے سے بھی وحی کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ حدیث معراج اس کی صریح دلیل ہے۔
4۔
بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ گھنٹی کی آواز سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت نفرت تھی، ایسے حالات میں نزول وحی کو ایسی آواز سے تشبیہ کیوں دی گئی ہے؟ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اس کا جواب بایں الفاظ دیتے ہیں کہ جرس(گھنٹی)
میں دوچیزیں ہوتی ہیں: ایک موسیقی وترنم جو قابل نفرت ہے دوسری آواز کی شدت وقوت۔
وحی کو جرس کی دوسری صفت سے تشبیہ دی گئی ہے جو قابل نفرت نہیں۔
اسی شدت کی وجہ سے وحی کو’’قول ثقیل‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعصابی نظام اس حد تک متاثر ہوتا کہ سخت سردی کے موسم میں بھی آپ پسینے سے شرابور ہوجاتے۔
5۔
ایک روایت میں ہے کہ نزول وحی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنائی دیتی تھی۔
آواز کی یہ کیفیت سامعین کے اعتبار سے تھی، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ آواز گھنٹی بجنے کی طرح ہوتی تھی تاکہ خارجی شوروغل سماع وحی میں دخل انداز نہ ہو۔
(فتح الباري: 19/1)
۔
6۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ اطمینان قلب کے لیے سوال کرنا یقین کے منافی نہیں جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے احیائے موتیٰ کے متعلق سوال کیا تھا، نیز حضرات انبیاء علیہم السلام سے ان پر گزرنے والے احوال و واقعات کے متعلق سوال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(فتح الباري: 22/1)
1۔
وحی کے لیے سامع اور قائل میں مناسبت کا ہوناضروری ہے۔
اس کی دوصورتیں ہیں: الف۔
سامع پر روحانیت کا غلبہ ہو اور وہ وصف سےمتصف ہو۔
یہ وحی کی پہلی قسم ہے۔
اس وحی کی آواز گھنٹی بجنے کی طرح ہوتی۔
اس قسم کے کلام کو سنبھالنا بہت دشوار ہوتا تھا۔
ب۔
قائل، سامع کے وصف سے متصف ہو۔
اس قسم میں فرشتہ وحی کسی انسان کی صورت میں آتا، اس صورت میں وحی کاسنبھالنا آسان ہوتا کیونکہ اس طرح کی گفتگو سے انسان مانوس ہوتا ہے۔
2۔
وحی کی ایک تیسری صورت خراب بھی ہے۔
چونکہ سوال بیداری کی حالت میں وحی سے متعلق تھا، اس لیے آپ نے تیسرے طریقے کو بیان نہیں کیا۔
3۔
اس حدیث کے مطابق فرشتہ انسان کی صورت اختیارکرتا، اسی سے امام بخاری ؒ نے اپنا مدعا ثابت کیا ہے۔
واللہ أعلم۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کبھی کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز ۱؎ کی طرح آتی ہے اور یہ میرے لیے زیادہ سخت ہوتی ہے ۲؎ اور کبھی کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو وہ جو کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے دیکھی جب وہ وحی ختم ہوتی تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3634]
وضاحت:
1؎:
کہتے ہیں: یہ آواز جبرئیل کی آواز ہوتی تھی جو ابتداء میں غیر مفہوم ہوتی تھی، پھرسمجھ میں آ جاتی مگر بہت مشکل سے، اسی لیے یہ شکل آپﷺ پر وحی کی تمام قسموں سے سخت ہوتی تھی کہ آپﷺ پسینہ پسینہ ہو جایا کرتے تھے، بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ جبرئیل کے پروں کی آواز ہوتی تھی، جو اس لیے ہوتی کہ آپﷺ وحی کے لیے چوکنا ہو جائیں، جیسے فی زمانہ فون کی گھنٹی ہوتی ہے۔
2؎:
سب سے سخت ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے سمجھنے میں دشواری ہوتی تھی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے ۱؎ اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں “، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کڑکڑاتے جاڑے میں آپ پر وحی اترتے دیکھا، پھر وہ بند ہوتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 935]
➋ سردیوں کے موسم میں بھی پسینہ بہہ نکلنا، وحی کے ثقل کی بنا پر تھا کیونکہ وحی کو اخذ کرتے وقت آپ کو بے انتہا جسمانی قوت صرف کرنی پڑتی تھی۔
➌ اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرتے تھے اور نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی اکتاہٹ وغیرہ کے محسوس کیے بغیر انہیں جواب دیتے اور انہیں دین کی باتیں سکھاتے تھے، پھر صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم نے جو کچھ آپ سے سیکھا اور یاد کیا اسے کوئی بات چھپائے بغیر ہم تک پہنچایا۔ واللہ الحمد علی ذلك۔ (4) اطمینان قلب کے لیے دین کی کسی چیز کی کیفیت کے بارے میں سوال کرنا یقین کے منافی نہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: ” گھنٹی کی آواز کی طرح، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، اور کبھی وحی کا فرشتہ میرے پاس نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور وہ مجھ سے کہہ جاتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 934]
➌ فرشتے کا انسانی شکل میں آپ پر وحی لانا جس کا مذکورہ حدیث میں بھی ذکر ہے۔ ایسے مواقع پر حضرت جبرئیل علیہ السلام عموما مشہور صحابی حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں آتے تھے۔ بعض دفعہ کسی دوسرے انسان کی شکل میں بھی آجاتے تھے جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک اجنبی کی صورت میں آئے۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 8]
➍ کبھی گھنٹی کی طرح آواز آتی اور وحی کا نزول شروع ہو جاتا تھا۔ اس کا بیان بھی مذکورہ حدیث میں ہوا ہے۔ (5) فرشتے کا اصلی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لانا۔ اس طرح آپ پر دو مرتبہ وحی ہوئی۔ (6) آسمانوں پر اللہ تعالیٰ سے براہِ راست پس پردہ ہم کلام ہونا جیسے معراج کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے اور آپ کو پچاس نمازوں کا ہدیہ ملا جو کم ہوتے ہوتے پانچ نمازیں مقرر ہوئیں۔ (7) فرشتے کے واسطے کے بغیر براہِ راست اللہ تعالیٰ کا پس پردہ ہم کلام ہونا جیسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا: «﴿وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا﴾» [النساء: 164: 4]
کوئی بشر اللہ تعالیٰ سے روبرو ہو کر کلام نہیں کر سکتا۔ ارشاد باری ہے: «﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾» [الشوری: 51: 42]
”کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ سے (روبرو ہو کر) بات کرے مگر دل میں القا کر کے یا پردے کے پیچھے سے۔“ [زاد المعاد: 80-78/1]
➋ ”گھنٹی جیسی آواز“ یہ وحی کی آواز ہوتی تھی جسے سمجھنا کافی مشکل تھا کیونکہ گھنٹی جیسی آواز سے الفاظ کو سمجھنا کافی توجہ کا متقاضی ہوتا ہے اور ان کے سمجھنے میں بڑی دقت ہوتی ہے، لہٰذا انہیں سمجھنے کے لیے کافی زیادہ مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ بعض علماء نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ فرشتہ وحی لاتے وقت اپنے پروں کو پھڑپھڑاتا تھا، اس سے یہ آواز پیدا ہوتی تھی۔ اور بعض اہل علم نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ یہاں تشبیہ آواز کے ترنم میں نہیں بلکہ اس کے تسلسل اور قوت میں ہے کہ جس طرح گھنٹی کی آواز مسلسل اور شدت سے ظاہر ہوتی ہے اور کسی جگہ ٹوٹتی نہیں، اسی طرح وحی کی آواز بھی مسلسل شدید ہوتی تھی۔ مزید دیکھیے: [ذخیرہ العقبیٰ شرح سنن النسائي: 55/12]
اس صورت میں چونکہ فرشتہ آپ کو نظر نہیں آتا تھا بلکہ براہ راست دل پر القا ہوتا تھا، اس لیے یہ آپ کے لیے شدت اور ثقل کا سبب تھا۔ واللہ أعلم۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ پر سخت سردی کے دن میں وحی نازل ہوتی۔ جب وحی کا سلسلہ ختم ہو جاتا تو آپ کی پیشانی پسینے سے شرابور ہو چکی ہوتی تھی۔ [صحیح البخاري، بدء الوحي، حدیث: 2]
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے مطابق وحی کے وقت آپ کے کان اور آنکھیں خارج سے بند ہو جاتے تھے۔ نہ آپ کو کچھ نظر آتا تھا، نہ کوئی اور آواز سنائی دیتی تھی تاکہ وحی میں دخل اندازی نہ ہو، توجہ ادھر ادھر منعطف نہ ہو۔ یہ آواز دراصل کان بند ہونے کی وجہ سے ہوتی تھی، اس لیے یہ آواز ساری وحی کے دوران میں قائم رہتی ہو گی۔
اس حدیث میں وحی کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں اور وہ چار ہیں۔ ① اللہ تعالیٰ براہ راست اپنے رسول سے بات کرے۔ ② فرشتہ اللہ کا پیغام لے کر رسول کی طرف آئے۔ ③ دل پر القا ہو۔ ④ سچے خواب دکھائی دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایک صورت میں وحی آتی تھی اور کبھی دوسری صورت میں، نیز اس حدیث سے علم وحی کو یاد کر نے اور یاد رکھنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔