حدیث نمبر: 1961
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُوَاصِلُوا ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ، أَوْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى .
مولانا داود راز

´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، کہا کہ مجھ سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بلا سحر و افطار ) پے در پے روزے نہ رکھا کرو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ مجھے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) کھلایا اور پلایا جاتا ہے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں اس طرح رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا رہتا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: 1961
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7241 | صحيح مسلم: 1104 | سنن ترمذي: 778

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7241 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7241. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے رمضان کے آخری دونوں میں وصال کے روزے رکھے تو کچھ صحابہ کرام‬ ؓ ن‬ے بھی روزوں میں وصال کیا۔ نبی ﷺ کو جب اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا: اگر اس مہینے کے دن مزید بڑھ جاتے تو میں اتنے دنوں تک وصال کے روزے رکھتا کہ ہوس کرنے والے اپنی ہوس چھوڑ دیتے۔ میں تم لوگوں جیسا نہیں ہوں۔ میں اس طرح دن گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ سلیمان بن مغیرہ نے سیدنا ثابت سے، انہوں نے سیدنا انس ؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کرنے میں سیدنا حمید کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7241]
حدیث حاشیہ: یعنی حقیقت میں جنت کا کھانا پانی اس صورت میں آپ کا وصالی روزہ ظاہری ہوگا نہ کی حقیقت میں۔
مگر بعض نے کہا کہ کھانے پینے سے مجازی معنی مراد ہے کہ وہ مجھ کو قوت دیتا رہتا ہے جو تم کو کھانے پینے سے حاصل ہوتی ہے۔
صوم ومال اس روزے کو کہتے ہیں جس میں افطار وسحر کے وقت میں بھی نہیں کھایا جاتا اور روزے کو مسلسل جاری رکھا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7241 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1104 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے شروع میں وصال کیا تو کچھ مسلمانوں نے بھی وصال کرنا شروع کر دیا۔ آپﷺ تک بھی اطلاع پہنچ گئی۔ تو آپﷺ نے فرمایا: اگر ہمارا ماہ طویل کر دیا جاتا تو ہم اس اندازسے وصال کرتے کہ انتہا پسند اپنی انتہا پسندی سے رک جائے، تم میرے جیسے نہیں ہو، یا فرمایا: میں تمھارے مثل نہیں ہوں کیونکہ میں دن اس حال میں گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2571]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
التَعَمِّقُ: عمق و گہرائی میں اترنا، معاملہ میں مبالغہ، شدت اور انتہا پسندی اختیار کرنا۔
حد سے تجاوز کرنا۔
اول شهر رمضان راوی کا وہم ہے کیونکہ یہ بعد والے الفاظ سے مناسبت اور مطابقت نہیں رکھتا، اور مذکورہ بالا روایت کے بھی مخالف ہے۔
اس لیے یہاں بھی في آخر شهر رمضان ہونا چاہیے، جیسا کہ بعض نسخوں میں ہے۔
(2)
أَظَلُّ: میں دن گزارتا ہوں۔
ابيت: میں رات گزارتا ہوں۔
(3)
تمادلنا: مدلنا: لمبا ہو جاتا دن بڑھ جاتے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1104 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 778 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صوم وصال ۱؎ مت رکھو ، لوگوں نے عرض کیا: آپ تو رکھتے ہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 778]
اردو حاشہ:
1؎:
صوم وصال یہ ہے کہ آدمی قصداً دو یا دو سے زیادہ دن تک افطار نہ کرے، مسلسل روزے رکھے نہ رات میں کچھ کھائے پیئے اور نہ سحری ہی کے وقت، صوم وصال نبی اکرم ﷺ کے لیے جائز تھا لیکن امت کے لیے جائز نہیں۔

2؎:
’’میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے‘‘ اسے جمہور نے مجازاً قوت پر محمول کیا ہے کہ کھانے پینے سے جو قوت حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ وہ قوت مجھے یوں ہی بغیر کھائے پیے دے دیتا ہے، اور بعض نے اسے حقیقت پر محمول کرتے ہوے کھانے پینے سے جنت کا کھانا پینا مراد لیا ہے، حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے معارف کی ایسی غذا کھلاتا ہے جس سے آپ کے دل پر لذت سرگوشی ومناجات کا فیضان ہوتا ہے، اللہ کے قرب سے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے اور اللہ کی محبت کی نعمت سے آپ کو سرشاری نصیب ہوتی ہے اور اس کی جناب کی طرف شوق میں افزونی ہوتی ہے، یہ ہے وہ غذا جو آپ کو اللہ کی جانب سے عطا ہوتی ہے، یہ روحانی غذا ایسی ہے جو آپ کو دنیوی غذا سے کئی کئی دنوں تک کے لیے بے نیاز کر دیتی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 778 سے ماخوذ ہے۔