صحيح البخاري
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
بَابُ الْوِصَالِ، وَمَنْ قَالَ لَيْسَ فِي اللَّيْلِ صِيَامٌ: باب: پے در پے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُوَاصِلُوا ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ، أَوْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى .´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، کہا کہ مجھ سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بلا سحر و افطار ) پے در پے روزے نہ رکھا کرو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ مجھے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) کھلایا اور پلایا جاتا ہے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں اس طرح رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا رہتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مگر بعض نے کہا کہ کھانے پینے سے مجازی معنی مراد ہے کہ وہ مجھ کو قوت دیتا رہتا ہے جو تم کو کھانے پینے سے حاصل ہوتی ہے۔
صوم ومال اس روزے کو کہتے ہیں جس میں افطار وسحر کے وقت میں بھی نہیں کھایا جاتا اور روزے کو مسلسل جاری رکھا جاتا ہے۔
(1)
التَعَمِّقُ: عمق و گہرائی میں اترنا، معاملہ میں مبالغہ، شدت اور انتہا پسندی اختیار کرنا۔
حد سے تجاوز کرنا۔
اول شهر رمضان راوی کا وہم ہے کیونکہ یہ بعد والے الفاظ سے مناسبت اور مطابقت نہیں رکھتا، اور مذکورہ بالا روایت کے بھی مخالف ہے۔
اس لیے یہاں بھی في آخر شهر رمضان ہونا چاہیے، جیسا کہ بعض نسخوں میں ہے۔
(2)
أَظَلُّ: میں دن گزارتا ہوں۔
ابيت: میں رات گزارتا ہوں۔
(3)
تمادلنا: مدلنا: لمبا ہو جاتا دن بڑھ جاتے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صوم وصال ۱؎ مت رکھو “، لوگوں نے عرض کیا: آپ تو رکھتے ہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 778]
1؎:
صوم وصال یہ ہے کہ آدمی قصداً دو یا دو سے زیادہ دن تک افطار نہ کرے، مسلسل روزے رکھے نہ رات میں کچھ کھائے پیئے اور نہ سحری ہی کے وقت، صوم وصال نبی اکرم ﷺ کے لیے جائز تھا لیکن امت کے لیے جائز نہیں۔
2؎:
’’میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے‘‘ اسے جمہور نے مجازاً قوت پر محمول کیا ہے کہ کھانے پینے سے جو قوت حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ وہ قوت مجھے یوں ہی بغیر کھائے پیے دے دیتا ہے، اور بعض نے اسے حقیقت پر محمول کرتے ہوے کھانے پینے سے جنت کا کھانا پینا مراد لیا ہے، حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے معارف کی ایسی غذا کھلاتا ہے جس سے آپ کے دل پر لذت سرگوشی ومناجات کا فیضان ہوتا ہے، اللہ کے قرب سے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے اور اللہ کی محبت کی نعمت سے آپ کو سرشاری نصیب ہوتی ہے اور اس کی جناب کی طرف شوق میں افزونی ہوتی ہے، یہ ہے وہ غذا جو آپ کو اللہ کی جانب سے عطا ہوتی ہے، یہ روحانی غذا ایسی ہے جو آپ کو دنیوی غذا سے کئی کئی دنوں تک کے لیے بے نیاز کر دیتی تھی۔